0
Wednesday 2 Oct 2019 11:48

انصار اللہ یمن کے حملے اور عالمی سیاست(2)

انصار اللہ یمن کے حملے اور عالمی سیاست(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

آرامکو پر حملے کے اثرات کا کئی زاویوں سے جائزه لیا جا سکتا ہے۔ اس حملے کے اقتصادی اثرات سے زیاده سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو کمزور دفاعی نظام کے حوالے سے جو دهچکہ پہنچا ہے، اس نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو نئے اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ کے جدید ترین دفاعی ہتھیار اور فرانس کا دفاعی میزائل نظام انصار الله کے ڈرونز کا نہ تو پتہ چلا سکا اور نہ ہی اس کے مقابلے میں تیل کی انتہائی اہم تنصیبات کا دفاع کرسکا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انصارالله کے اس حملے نے خلیج فارس کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا ہے۔ امریکہ، سعودی عرب اور اس کے بعض حواری ایران پر حملے کے لیے پر تول رہے تھے، لیکن اب وه کوئی بھی ممکنہ کارروائی کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے کہ اگر یمن کے مجاہدین انتہائی بے سرو سامانی میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا دفاعی حصار توڑ کر آرامکو تک پہنچ  سکتے ہیں تو ایران کے دور مار میزائلوں اور جدید ترین ڈرونز کا مقابلہ کیسے ممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آرامکو پر انصارالله کی کامیاب کارروائی نے سعودی عرب کی دفاعی صورت حال بالخصوص تیل کی تنصیبات کے دفاعی نظام کو طشت از بام کر دیا۔

سعودی عرب میں سلمان بن عبدالعزیز کے بادشاه بننے اور ولی عہد بن سلمان کے وزیر دفاع بننے کے لیے سعودی عرب کی فوجی و دفاعی طاقت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ 2015ء کے بعد بن سلمان نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے جس مقدار میں ہتھیار خریدے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اعداد و شمار کے مطابق بن سلمان کے آنے کے بعد سعودی عرب کے دفاعی بجٹ میں 112 فیصد اضافہ ہوا، لیکن یمنی فورسز کے کامیاب ڈرون حملوں سے بخوبی اندازه ہوگیا کہ سعودی عرب کا دفاعی نظام ریت کی دیوار ثابت ہوا اور اس نے نہ صرف ڈرون پروازوں کو روکنے میں کامیابی حاصل نہ کی بلکہ تیل سمیت دیگر تنصیبات اور اہم مقامات کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔ دفاعی نظام کی کمزوری میں امریکہ اور فرانس کے ہتھیار بے اثر ثابت ہوئے اور ان دونوں ممالک کا فراہم شده جدید ترین دفاعی میزائل سسٹم بھی میزائلوں اور ڈرون کو روکنے میں بری طرح ناکام رہا۔

عراق کے معروف فوجی مبصر اور مجلس اعلیٰ عراق کے ۔۔۔۔۔۔وار کے ماہر جلال الدین الصیفر کے مطابق سعودی عرب کی بقین اور خریص تنصیبات مشرقی سعودی عرب میں واقع ہیں اور سعودی عرب نے ان تنصیبات کی حفاظت کے لیے چھ مختلف قسم کے دفاعی میزائل سسٹم نصب کیے ہوئے ہیں، ان دفاعی میزائل سسٹم میں امریکہ کا جدید یاک، پیـریا اور کورٹل شامل ہیں، اس کے علاوه وسیع علاقے کے نقل و حرکت پر کنٹرول رکھنے کے لیے امریکی ریڈار سسٹم اسکائی کارد عی شامل ہے، ان امریکی دفاعی نظاموں کے علاوه ایف 15۔ ایف 16 جنگی طیارے بھی حفاظت کے لیے موجود ہیں، اس کے علاوه فضا میں آراکس رے ڈار سسٹم بھی فعال ہے۔ جو سٹلائٹ کے ساتھ منسلک ہے اور اس سے علاقے کی تمام سرگرمیوں کا مشاہده ممکن ہے۔

اس دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ خلیج فارس میں موجود جنگی بحری جہازوں میں نصب رے ڈار سسٹم بھی اس علاقے پر نظر رکھنے کے لیے ہمیشہ فعال رہتے ہیں۔ دفاعی میزائل سسٹم اور ترقی یافتہ رے ڈار سسٹم نیز تیار جنگی طیارے صرف اور صرف بقیق اور عریص کی تنصیبات کے لیے تھے، لیکن یمنی مجاہدین کے ڈرون طیارے طویل فاصلہ طے کرکے ان تمام دفاعی میزائلی نظاموں اور رے ڈار سسٹم کو آسانی سے عبور کرکے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ جن مختلف دفاعی نظاموں کا ذکر کیا گیا ہے، یہ سب امریکہ کے تیار شده ہیں، لہذا اس میں ایک سسٹم کورٹل فرانس کا بنا ہوا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے پریشانی اور حیرانی کا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک کے جدید ترین دفاعی نظام کو عرب دنیا کے غریب ترین ملک کے ساده ترین ڈرون نے شکست فاش سے دوچار کر دیا۔

اس حملے کا ایک اور زاویہ سے بھی جائزه لیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ یہ حملہ سعودی عرب کی انٹیلی جنس کی بھی بہت بڑی ناکامی ہے، کیونکہ بقیق اور خریص سے پہلے الدمام اور الشبیہ پر دو حملے ہوچکے تھے اور مزید حملوں کا امکان تھا، لیکن سعودی عرب کی انٹیلی جنس کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوگی کہ وه اس تیسرے حملے کے بارِے میں پیشگوئی یا خفیہ اطلاعات حاصل نہ کرسکے۔ یکم اگست اور 17 اگست کے بعد چوده ستمبر کے حملے نے سعودی انٹیلی جنس کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ دیا، یمنی مجاہدین نے گذشتہ 54 ماه کی سعودی جارحیت کا بھرپور جواب دیگر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں پر ثابت کر دیا کہ سعودی عرب کی تمام اسٹریٹجک تنصیبات ان کے نشانے پر ہیں۔ اس حملے نے سعودی عرب کو اتنا بڑا دھچکہ پہنچایا کہ وه اس شاک سے نکل نہیں پا رہے۔ یمنی مجاہدین نے اس حملے سے آل سعود کو پیغام دے دیا ہے کہ سعودی عرب کا ہر حساس علاقہ ان کے میزائلوں اور ڈرونز کی رینج میں ہے اور اگر سعودی یمنی شہروں پر جارحیت کا  سلسلہ نہ روکا تو مستقبل میں اس سے بڑھ کر بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حملے نے تیل کی عالمی منڈی کو بھی ایک پیغام دیا ہے کہ ایک حملے سے اگر سعودی عرب کی نصف تیل کی سپلائی کو متاثر کیا جا سکتا ہے تو سعودی عرب کی پٹرولیم پر منحصر معیشت کو تباه کرنا سیاسی بلف نہیں ہوگا۔ ان ڈرونز حملوں کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے سعودی عرب اپنے آپ کو عربوں کا سب سے طاقتور، اہم ترین ملک اور مضبوط ترین طاقت سمجھتا تھا اور اس نے دنیا بھر سے جدید ترین ہتھیاروں کے سعودی عرب میں ڈھیر لگا رکھے تھے،لیکن مشکل کے وقت کوئی ہتھیار کام نہ آیا۔ اب سعودی عرب کی انا کا مسئلہ ہے کہ وه اس بات کا اعتراف کرے کہ عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن نے سعودی عرب کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، لہذا اس نے یمنی مجاہدین کے بجائے ایران کو حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے، کیونکہ وه دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ سعودی عرب کو ایک چھوٹے اور غریب ملک یمن سے ہزیمت اٹھانی نہیں پڑی بلکہ علاقے کا مضبوط ملک ایران ان کے مقابلے میں ہے اور یہ حملہ ایران کیطرف سے انجام پایا ہے۔

مغربی ایشائی امور کے معروف سیاسی تجزیہ نگار محمد علی مهدی کہتے ہیں کہ سعودی عرب یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اسے یمن کے ہاتھوں شکست نہیں ہوئی، بلکہ وه اس جنگ میں خطے کی بڑی طاقت ایران سے روبرو ہے، جس کے پاس مضبوط ترین میزائلی نظام اور جدید ترین ڈرونز طیارے موجود ہیں۔ کہا جا رہا تھا کہ بقین اور خریص کے حملوں سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک بالخصوص یورپی ممالک کے لیے تیل کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ معمولی بات نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرق اور مغرب میں یہ تاثر بھی سامنے آرہا ہے کہ اگر یمن جیسا ملک تیل کی تنصیبات پر حملہ کرکے تیل کی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں 20 فیصد اضافے کا باعث بن سکتا ہے تو اگر ایران جیسی خطے کی مضبوط طاقت میدان میں آگئی تو تیل کی قیمت اور تیل کی سپلائی کا مسئلہ کہاں تک پہنچے گا۔ یہی وه بات ہے، جس نے تیل سے مربوط دنیا کے اقتصادی نظام کو شش و پنچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس وقت یمن کی جنگ حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، یمن میں جنگ کا توازن یمنی مجاہدین کیطرف جھک گیا ہے۔ دوسری طرف یمن کے مسئلے میں سعودی عرب اور متحده عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ یمنی مجاہدین بھی اس موقع سے فائده اٹھا کر اپنی دفاعی جنگ کو جارحانہ جنگ میں بدل رہے ہیں۔

آل سعود خاندان کے ایک ناراض شہزادےخالد بن فرحان کا یہ کہنا ہے کہ یمنی اپنے وطن اور سرزمیں کے دفاع کے لیے پورے ایمان سے لڑ رہے ہیں، لیکن سعودی فوج جوش و جذبے سے عاری اور اس جنگ پر قلبی ایمان نہیں رکھتی۔ ماہرین کے مطابق یہی وه بنیادی فرق ہے، جو سعودی فوجیوں اور یمنی مجاہدین کے درمیان موجود ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی ولی عهد بن سلمان نے اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سعودی عرب کے دفاعی بجٹ میں 122 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا اور اس نے اس بجٹ سے امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیره سے جدید ترین ہتھیار خریدے، لیکن عملی میدان میں وه تمام تر جدید ہتھیاروں اور وسیع تر اقتصادی وسائل کے باوجود یمن جیسے غریب و فقیر ملک کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہے۔ فوجی مبصرین اسے سعودی عرب کی  اسٹریٹجیک غلطی اور حکمت عملی کی بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ آج اس جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کی داخلی سلامتی کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور وه اس جنگ سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ اس جنگ کا جاری رہنا نہ صرف بن سلمان کے 2030ء اقتصادی وژن کی ناکامی کا باعث بنے گا بلکہ بن سلمان نے سعودی عرب کے تخت و تاج پر بیٹھنے کا جو خواب دیکھ رکھا ہے، وه بھی شرمنده تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 819381
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب