0
Wednesday 2 Oct 2019 07:28

جنگ یمن، ہاں ظالم کی کمر ٹوٹ چکی ہے!

جنگ یمن، ہاں ظالم کی کمر ٹوٹ چکی ہے!
تحریر : محمد حسن جمالی 
 
اس حقیقت سے کون مانوس نہیں کہ مغرور اور متکبر کا سر نیچا ہونا ہی ہے، امن اور آشتی کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں کے حصے میں رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ آنا ہی نہیں، اہل حق کے مقابل کھڑے ہونے والا پسپائی اور ذلت سے دوچار ہوتا ہی ہےـ سعودی عرب نے بڑی ڈھٹائی اور متکبرانہ انداز میں مسلسل پانچ سال اہل یمن پر جنگ مسلط  رکھی، یمنی مسلمان شدید جانی اور مالی نقصانات سے دوچار ہیں، یمن کے اہم مقامات کو بموں کا نشانہ بناکر انہیں کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا، غذائی قلت کا شکار بے شمار بچے لقمہ اجل بنے۔ کالم نگار سید عباس کے مطابق 2015ء سے شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک 14،291 افرد، جن میں بچے، بوڑھے، خواتین اور عام شہری شامل ہیں، قتل ہوچکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 22،537 یمنی شہری زخمی ہوئے، جن میں اکثر جہازوں کی بمباری یا اس کے نتیجے میں گرنے والے ملبے کا نشانہ بنے ہیں۔

ان حملوں کے نتیجے میں 15 ائیر پورٹ، 14 پورٹس، 2425 پل اور سڑکیں، 179 بجلی گھر اور بجلی کی پیداوار کے مقامات، 688 آبی مراکز، 410 کمیونی کیشن کے مراکز، 1761 حکومتی مراکز، 4،13،297 گھر، 903 مساجد، 309 ہسپتال اور طبی مراکز، 869 تدریسی مقامات، 141 یونیورسٹیوں کے شعبہ جات، 264 سیاحتی مقامات، 112 کھیلوں کے میدان، 30 میڈیا کے مراکز، 211 آثار قدیمہ کے مقامات، 2654 زرعی مقامات، 307 فیکٹریاں، 609 تجارتی مقامات، 6393 کاروباری مراکز، 722 اجناس کے گودام، 3757 ذرائع رسل و رسائل، 269 مویشی و پولٹری مراکز تباہ و برباد ہوئے۔ اس جنگ میں فتحیاب ہونے کے لئے بڑا سرمایہ خرچ کرکے سعودی عرب وقتا فوقتا امریکہ سے وسیع پیمانے پر اسلحہ خریدتا رہا، مختصر یہ کہ سعودی عرب نے طرح طرح کے ظلم وستم کے ذریعے حوثی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور کوشش کی،حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اتنے وسیع پر یمنیوں پر مظالم ہوتے رہے تو پاکستان سمیت سعودی نواز حکومتیں اور قومیں خاموش تماشائی بن کر ضمیر اترولوی کے اس شعر کا مصداق بنی رہیں۔
 
 ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیا 
اگر مظلوم کچھ بولے تو دہشت گرد کہتی ہے
 
سعودی نابکار فوج پورے اطمینان اور سکون سے یمن پر بارش کی طرح جدید میزائیل اور بم برساتی رہی، وہ اس زعم میں مبتلا رہے کہ لاچار یمنیوں کو ختم کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، متعدد مواقع پر سعودی حکمرانوں نے اسکا اظہار کرکے امریکہ و اسرائیل سے داد وصول کی، مادی طاقت کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے، اس بات سے وہ یکسر غافل رہے کہ مادی طاقت کے علاوہ ایک اور طاقت بھی وجود رکھتی ہے، جسے ایمانی طاقت کہاجاتا ہے اور یہ دو طاقتیں ہرگز قابل مقائیسہ نہیں، بلکہ ایمانی طاقت مادی طاقت پر غالب ہوا کرتی ہے، تاریخ اسلام میں اس کی مثالیں فراوان پڑھنے کو ملتی ہیںـ جب ابرہہ کا لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو ابرہہ نے ایک ایلچی مکہ کی جانب روانہ کیا، تاکہ مکہ کے بزرگ کے ساتھ گفتگو کرے اور انکو مکہ کی تخریب کے بارے میں بتائے۔ اس نے مکہ کے بزرگوار، عبدالمطلب کو پیغام بھیجا (میں مکہ میں لوگوں کو کوئی نقصان پہنچانے نہیں آیا بلکہ صرف کعبہ کی عمارت کو خراب کرنے آیا ہوں)۔

عبدالمطلب نے ابرہہ کے پیک کو واپس بھیجا اور کہا جا کر ابرہہ کو کہہ دو کہ ہماری کسی قسم کی جنگ ابرہہ کے ساتھ نہیں، اگر خانہ کعبہ کو خراب کرنے کی نیت سے آیا ہے تو اسے کہہ دو کہ یہ گھر خدا اور اس کے خلیل ابراہیم(ع) کا گھر ہے، اگر وہ اپنے اور اپنے خلیل کے گھر کی خود حفاظت کرنا چاہے گا تو کرے گا، اگر نہیں چاہے گا تو نہیں کرے گا، ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ ابرہہ کے لشکر نے قریش کے کچھ اونٹ چوری کئے تھے۔ عبدالمطلب ابرہہ کے پاس گئے اور درخواست کی کہ ہمارے ٢٠٠ اونٹ جن کو تمہارے لشکر نے چوری کئے گئے ہیں، ان کو واپس لوٹایا جائے۔ جس کے نتیجے میں ابرہہ کی عزت اور بھی خراب ہوئی اور ابرہہ نے عبدالمطلب سے کہا میں نے سوچا تھا کہ تم مکے کی تعظیم اور حرمت کی خاطر مجھ سے بات کرنے آئے ہو، لیکن تم نے تو اونٹ واپش لوٹانے کے علاوہ کوئی درخواست مجھ سے نہیں کی۔ عبدالمطلب نے جواب میں کہا: انا ربّ الابل و للبیت ربّ یمنعه، ترجمہ: میں اونٹوں کا مالک ہوں، کعبہ کا مالک بھی ہے، جو خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا۔

ابرہہ نے غرور سے کہا کہ (کوئی مجھے اپنے مقصد سے نہیں روک سکتا) اور حکم دیا کہ اس کے اونٹ کو واپس لوٹا دیں۔ جیسے ہی ابرہہ کے لشکر نے کعبہ کی جانب حرکت کی خداوند نے آسمان سے ابابیل نام کے پرندوں کو حکم دیا تا کہ وہ اپنی چونچ میں پتھر لے کر ابرہہ کے لشکر پر حملہ کریں اور انکو ہلاک کر دیں۔ اچانک آسمان پر اندھیرا چھا گیا اور پرندوں کا ایک بہت بڑا لشکر ظاہر ہو گیا۔ ہر ایک کی چونچ میں ایک چھوٹا پتھر تھا اور وہ پتھر کو پھیںک رہے تھے، جس کو بھی یہ پتھر لگتا تھا وہی پر ہلاک ہوجاتا تھا، بہت کم تعداد میں لوگ زندہ بچے جو یمن کی طرف زخمی اور خون آلود حالت میں لوٹ گئے۔ ( ۱ )۔ بالکل اسی طرح حوثی بے سروسامان قلیل فوج ایمانی طاقت سے سعودی عرب کے مادی طاقت سے لیس عظیم لشکر کا مقابلہ کرتی رہی، ابابیل نامی پرندوں کی طرح یمنی مسلمان سعودی جارح فوج کی بموں کا جواب  پھتر اور کنکریوں سے دیتے رہے قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب سے یمنی لشکر ابابیل نے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

سعودی حکمران اضطراب اور پریشانی کے عالم میں سرگرداں ہی تھے کہ یمنی غیور فوج نے اپنی زبردست حکمت عملی کے ذریعے سعودی ہزار سے زیادہ فوجیوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے کچھ اہم مقامات پر پھر سے کامیاب حملہ کرکے ان کی کامیابی پر ہمیشہ کے لئے خط بطلان کھینچا اور پوری دنیا کو ایک بار پھر عملا یہ ثابت کردکھایا کہ ایمانی طاقت مادی طاقت پر بہرحال بھاری ہوا کرتی ہے، انصار اللہ یمن کے اس کامیاب حملے نے سعودی حکمرانوں کے اضطراب کو دوبالا کردیا، ان کی نیندیں اڑادیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس باہدف منطقی اور حکمت سے بھرپور آپریشن کی کامیابی سے ظالم حکمرانوں کی کمر ٹوٹ چکی، جب آرامکو تیل تنصیبات پر یمنی شیروں کی طرف سے حملہ ہوا تو سعودی حکام نے اس کا الزام ایران پر لگا کر انصار اللہ یمن کی کامیابی اور اپنی پسپائی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ مگر اس دفعہ انہیں اپنی ذلت و شکست تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔

اچھی بات یہ ہے کہ سعودی حکام نے اس دفعہ دبے الفاظ میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے یمن پر مسلط کی ہوئی جنگ کے خاتمے کے لئے عراق سے ثالثی کردار ادا کرنے کا تقاضا کیا، ہماری نظر میں ان کا یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے، ہم پھر سے عرض کریں گے کہ سعودی عرب کو اب بھی وقت ہے کہ وہ جنگ یمن سے دستبردار ہوکر اپنے کو مکمل طور پر سرنگون اور نابود ہونے سے بچاسکتا ہے، بصورت دیگر یہ طے ہے کہ انصاراللہ یمن کے ہاتھوں سعودی عرب کا ایسا برا حال ہوگا کہ وہ سر اٹھانے کا قابل بھی نہیں رہے گا، کیونکہ یمن کے کمزور مسلمانوں نے استقامت اور مقاومت کا درس، کربلا والوں سے حاصل کرکے، میدان کربلا یمن میں وقت کے یزیدیوں سے مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کربلا میں امام حسین (علیہ السلام) کے باوفا اصحاب کی بلند ترین خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی بھی ذلت کو قبول نہیں کیا۔ دشمن نے بہت زیادہ کوشش کی کہ ان کو اپنے سامنے تسلیم ہونے پر مجبور کریں یا یزید کی خلافت کی تائید میں ان سے کچھ سن سکیں، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔

وہ اسی حسرت و یاس میں باقی رہے کہ امام حسین (علیہ السلام) اپنی پشیمانی یا ضعف کے سلسلہ میں کچھ بیان کریں۔ ""ھیھات منا الذلة"" کا نعرہ، اسی طرح باقی رہنے والا کلام ""واللہ لا اعطیکم بیدی اعطاء الذلیل، و لا افر فرار العبید ""۔ خدا کی قسم میں تمہارے ساتھ ذلت کا ہاتھ نہیں ملاؤں گا اور غلاموں کی طرح فرار بھی نہیں کروں گا، ہمیشہ تاریخ کے صفحہ پر چمکتا رہے گا! ابن ا بی الحدید معتزلی نے اپنی کتاب (نہج البلاغہ کے ٥١ ویں خطبہ کی تشریح کی مناسبت سے) میں ایک بحث کو ""اُباة الضیم و اخبارھم"" (ظلم و ستم کو قبول نہ کرنے والوں کی تاریخ) کے عنوان سے بیان کیا ہے اور تاریخ اسلام میں ظلم کو قبول نہ کرنے والوں کے نام بیان کئے ہیں، اس نے اس بحث کی ابتداء میں لکھا ہے :"" سید اھل الاباء الذی علم الناس الحمیة و الموت تحت ظلال السیوف، اختیارا لہ علی الدنیة، ابوعبداللہ الحسین بن علی بن ابی طالب علیھما السلام، عرض علیہ الامان و اصحابہ فانف من الذل ""۔

دنیا کے ظلم و ستم کو قبول نہ کرنے والوں میں جس شخص نے غیرت اور تلواروں کے سایہ میں ذلت و خواری کے اوپر موت کو انتخاب کرنے کیلئے لوگوں کو جو سبق دیا وہ حسین بن علی (علیہما السلام) ہیں، ان کو اور ان کے اصحاب کو امان دی گئی، لیکن انہوں نے ذلت کو قبول نہیں کیا( ۲ )، لہذا سعودی حکام کو اس خوش فہمی کی دنیا سے اب باہر نکلنا ہوگا کہ سعودی عرب پر اگر کڑا وقت آجائے تو اس کی پشت پناہی کے لئے سپر طاقتیں چوکس ہیں، کیونکہ امریکہ و اسرائیل سعودی عرب کو اپنا غلام بناکر اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کررہے ہیں، جس دن ان کے مفادات کا سلسلہ رک جائے، سعودی عرب کو تنہائی کا شکار کرنے میں دیر نہیں لگائے گا، یہ روش ان کی سنت کا بنیادی حصہ رہی ہےـ 
 
حوالہ جات 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱) ویکپیڈیا شیعہ 
۲ ) سائٹ آیت اللہ مکارم شیرازی
خبر کا کوڈ : 819535
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب