0
Wednesday 2 Oct 2019 17:41

یونیورسٹی کا طالب علم اور موجودہ دینی حالات (1)

یونیورسٹی کا طالب علم اور موجودہ دینی حالات (1)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

آج کے مسلمان نوجوان کیلئے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے، وہ دین شناسی ہے۔ ہم دین کی اصل حقیقت سے کم واقف ہیں۔ ہمارے معاشرے میں دین ایک مسافر کی طرح ہے، جسے ہم صحیح طور پر نہیں پہچانتے۔ امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ  دین ہمارے ہاں مسافروں کی طرح ہے برِصغیر جو ایک چھوٹا سا براعظم ہے، یہ دین کی بجائے فرقہ واریت کی بیماری میں مبتلا کروایا گیا ہے۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ شیعہ و سنی کے اختلافات  کیا ہیں، لیکن جو ہمارا مشترکہ سرمایہ دین ہے، وہ ہم بھول گئے اور اپنے اختلافات میں آگے چلتے گئے۔ اس لیے ہم فرقے کے حوالے سے شیعہ، سنی، دیوبندی، صوفی، غیر صوفی کہلاتے ہیں اور جب ایمان کی باری آتی ہے تو ہم خود کو مومن کہلانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کا جو ممبر ہے، خواہ وہ کسی بھی مکتب کا ہو، اس سے دین کی فقط تاریخ بیان ہوتی یے اور یہ اتنی بیان ہوچکی ہے کہ سامعین ان واقعات کو دین سمجھ بیٹھے ہیں اور مقررین بھی ان واقعات کے  دائرہ سے باہر نہیں آتے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات دین کی تاریخ ہیں نہ کہ دین۔

یہ تاریخ معلوم کرنے سے کوئی بھی دیندار نہیں بنتا اور نہ ہی معلوم نہ کرنے سے دین کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے۔  آخر دین ہے کیا؟ تو پتہ چلتا ہے کہ دین فقط 3 چیزیں ہیں، عقائد، احکام، اخلاق۔ عقائد کا تعلق سوچ، احکام کا تعلق عمل اور اخلاق کا تعلق عادتوں سے ہے۔ دین عقیدے کے پیچھے دلیل مانگتا یے اور شریعت کے مطابق اعمال ہونے چاہیں اور تمہاری مومنانہ عادتیں ہونی چاہیں، پس یہ دین ہے۔ ہماری دین کی تبلیغ کی جانب توجہ کم اور اختلافات پر بحث بازی پر توجہ زیادہ ہے، اس لیے ہم مومنانہ عادتوں سے ناواقف ہیں۔ دین ایک انسان کو 3 قسموں میں تقسیم کرتا ہے، مومن، کافر، منافق۔ مومن اپنی مومنانہ عادتوں سے مومن، کافر اپنی کافرانہ عادتوں سے کافر اور منافق اپنی منافقانہ عادتوں سے منافق بنتا یے۔ ہمارے ذہن میں بس دین سے مراد تاریخی واقعات ہیں اور واقعات کو ہی دین سمجھ کر بیٹھ گئے ہیں اور اگر بات عقائد کی آتی ہے، تو کہتے ہیں کہ یہ تو خشک موضوع اور جب احکام بیان ہوں تو کہتے ہیں کہ یہ کوئی مدرسہ تھوڑی یے اور جب اخلاق بیان ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ کوئی درس تھوڑی ہے، یہ مجلس ہے۔ اور جب یہ بھی بتایا دیا کہ دین یہ واقعات نہیں، بلکہ دین عقائد، احکام و اخلاق کا نام ہے، تو پھر ہمارے ہی کچھ اہلِ ممبر حضرات یہ دو باتیں کہہ کر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، جوکہ دراصل محض غلط فہمیوں کے علاوہ کچھ نہیں، رکاوٹیں حسب ذیل ہیں۔

پہلی رکاوٹ، دین پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے، کہاں دین کہاں ہم، حقیقت تو یہ ہے کہ دین آیا ہی انسانی زندگی میں موجود مشکلات کو آسان کرنے ہے۔ بغیر دین کے ہماری زندگی مشکل ہے، کیونکہ بغیر دین کے ہمارے ہاں فقط فضول رسم و رواج ہیں۔ اس لیے یہ بات سننے والا دین کے قریب آتا ہی نہیں۔ مثلاً ایک کسان 3 گھنٹے دھوپ میں کاشتکاری کو چھاؤں میں 2 رکعت نماز پڑھنے پر فوقیت دیتا ہے۔ کیوں یہ بندہ مشکل کام کرتا ہے، یہ آسان کام کی طرف نہیں آتا، کیونکہ اس کی ذھنیت بنائی ہی اس طرح گئی ہے۔ دوسری رکاوٹ، دین پر چلیں گے تو یہ ہی نجات کا ذریعہ ہے، مگر ہم مسلمانوں کے ہر فرقے کے پاس اپنا اپنا نجات کا ذریعہ ہے، جیسے  بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ کی خدمت میں کچھ نعتیں پڑھ لیں تو جنت آپکو مل جائیگی۔ وہابی حضرات کہتے ہیں کہ اپنے مخالف کو قتل کرو تو جنت بس آپکے ہی انتظار میں ہے۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ بس عزاداری کرو اور سیدھا جنت میں چلے جاؤ۔ اس لیے آجکل سب نے یہی آسان راستہ اختیار کیا ہوا ہے جو کہ دین نہیں ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ اس دین کو بیان کرنے اور آئمہ ہدیٰ علیہم السلام اس دین کی بقاءَ کیلئے آئے تھے، نہ کہ میلاد، جلوس و عزاداری کو فروغ دینے آئے تھے۔

اب سوال یہ بہی اُبھرتا ہے کہ کیا خدا ہر کسی کا جلوس، مجلس، میلاد وغیرہ قبول کرتا یے؟۔ نہیں، ہر ایک کا قبول نہیں کرتا۔ جیسے کربلا میں یزیدی لشکر میں سے کچھ افراد رو بھی رہے تھے اور امام حسینؑ کے ساتھیوں کو قتل بھی کررہے تھے، تو کیا ان کا یہ رونا قبول ہے؟۔ کوفہ و شام میں بی بی زینب سلام اللہ علیہ جب خطبہ دے رہی تھیں کہ وہاں موجود لوگ خطبہ سن کر رو رہے تھے، کیا ان کا یہ رونا قبول ہے؟۔ آئیے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں کہ اِنّمَا یَتَقَبَّلَ اللہُ اِلّاَ الْمُتَّقِیْن، (خدا اعمال فقط دینداروں کے قبول کرتا ہے)۔ جب تک ہم دیندار نہیں تب تک ہماری یہ سب چیزیں قبول نہیں ہیں۔ حقیقتاً دین کے علاوہ کوئی بھی چیز آپکو مشکلات سے نہیں نکال سکتی، اس لیے دین کے علاوہ کوئی اور نجات کا راستہ ہے ہی نہیں۔ جب تک یے 2 رکاوٹیں حل نہیں ہونگی، تب تک عوام دین شناسی تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہم دین کی تبلیغ میں عقائد کے حصے میں فقط یہ بتاتے ہیں کہ اللہ ہے رسولؑ ہے، امامؑ ہے اور کچھ اعمال بتاتے ہیں بس! جب کہ مومن وہ ہی ہے جس کی عادتیں و اخلاق بھی مومنانہ ہوں۔ سوچ کا نتیجہ عمل اور عمل کا نتیجہ اخلاق ہے۔

اب یہ مومن کیسے بنتا یے؟۔ مومن اپنی مومنانہ اخلاق سے مومن بنتا یے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے فرمایا کہ ایمان کے 4 ارکان ہیں، اللہ پر توکل، اپنے اختیارات خدا کے حوالے کرنا، خدا کے فیصلے پر راضی رہنا، خدا کے حکم کے آگے سرخم کردینا، جس کی یہ 4 عادتیں ہیں وہ مومن ہے۔ خدا ہے، بس اس یقین کو ہم ایمان کہتے ہیں، نہیں! یقین اور ایمان علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ رسول اکرم ﷺ سے پہے اہلِ مدینہ انتظار میں تھے کہ آخری نبیؑ آئیگا، حتیٰ کہ اوس و خزرج (جو بعد میں انصار بنے) دھمکیاں دیتے تھے کہ جب وہ نبیؑ آئیگا تو ہم تمہاری بت پرستی ختم کردینگے، لیکن رسولِ اکرم ﷺ کے آنے بعد ان کی یہ منصوبہ بندی اُلٹ ہوگئی اور جو یہودی تھے وہ کافر ہوگئے اور جو بُت پرست تھے وہ مسلمان ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ آئے اور سب کچھ اُلٹ ہونے کے بعد بہی وہ اوس و خزرج پلٹ گئے۔ قرآن حکیم ان لوگوں کیلئے کہتا ہے کہ یہ لوگ نبیؐ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو۔ اُن کا یہ یقین تھا کہ نبیؑ آئیگا مگر وہ اس نبیؐ پر ایمان نہ لائے تبھی وہ کافر ہوگئے۔

یہ سب اُلٹ فقط اور فقط رسول اللہ ﷺ کے اَخلاق سے ہی ممکن ہوا، اب ثابت ہوا کہ اخلاق کے ذریعے ہم لوگوں کی دلوں پر کیسے حکمرانی کرسکتے ہیں۔ مومن بھی اِن 4 اخلاق سے بنتا یے، جوکہ اوپر بیان کرچکے ہیں۔ اب آئیں ذرا ان 4 اَخلاق کی کچھ وضاحت بیان کرتے ہیں:

1۔ خدا پر توکل کرنا
توکل للہ کا مطلب ہے کہ حرص نہ کریں۔ یعنی، انسان صبح رزقِ حلال کیلئے نکلا اور شام ہوگئی تو واپس آجائے، نماز باجماعت ادا کرے، گھر کو ٹائم دے وغیرہ، کیونکہ جو ملنا تھا وہ مِل چکا مگر ہم رزق کے پیچھے اتنے پاگل ہوگئے ہیں کہ صبح نکلتے ہیں اور رات کو اس وقت لوٹ آتے ہیں جب رات کو گھر والے تک سوجاتے ہیں۔ جیسے آج کا آپ ڈاکٹر دیکھ لیں 24 گھنٹے اِن سروس رہتا ہے، فقط زیادہ مال و دولت اکٹھی کرنے کے خاطر۔ ہم اس حرص میں پھنس چکے ہیں اور حتیٰ یے سوچتے ہیں کہ خدا میرا خیال نہیں رکھتا اس لیے اوور ٹائم لگاتا ہوں۔ حرص نہ کریں کیونکہ جو کچھ ملنا تھا وہ مل چکا، جو نہیں ملنا وہ آپ اگر 24 گھنٹے بہی اِن سروس رہیں تو بھی نہیں ملے گا۔

2۔ اپنے اختیارات خدا کے حوالے کرنا
اپنے اختیارات خدا کے حوالے کرو، مطلب یہ کہ جو زندگی گذارنے کا قانون ہے، وہ اپنے پاس نہ رکھو، کیونکہ تمہیں نہ اپنے ماضی کی خبر ہے نہ حال کی اور نہ ہی مستقبل کا کچھ پتہ ہے۔ اس لیے وہ خدا تمہارے ہر حال کو جانتا ہے اور تمہارے لیے کون سا حال ٹھیک ہے، وہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس لیے اپنے تمام اختیار خدا کے سپرد کرو۔
 
 3۔ خدا کے فیصلے پر راضی رہنا
خدا کے فیصلے پر راضی رہنا، مطلب یہ کہ ہمارے اختیار میں فقط کوشش کرنا ہے اور کوشش کرنے کے بعد جو کچھ عطا ہو اس پر راضی رہنا۔ جیب خالی ہو یا پُر، مگر خدا آپکو اس حال میں رکھے گا جو حال آپ کیلئے بہتر ہوگا، کیونکہ خدا ہی جانتا یے کہ آپکے لیے کونسا وقت صحیح ہے۔ خدا پر جب توکل کرنے کے بعد اب جو خدا نے فیصلہ کیا ہے اس پر راضی رہنے میں ہی انسان کی بہتری ہے۔ ہماری تبلیغ نماز و روزہ تک محدود ہونے کے باعث اخلاق تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ ایسی ہی دین کی تبلیغ تھی، جس نے ابوذر غفاریؓ، شیر حزریؓ، اویس قرنیؓ، سلمان فارسیؓ، عمّار یاسرؓ بنائے، تو اسی دین کی تبلیغ سے۔ یہ آج ایسی درخشان شخصیات کیوں نہیں بنتی۔؟ کیونکہ اُس وقت دینی تبلیغ کی توجہ عقائد اور اعمال کے بجائے انسانی اخلاق پر مرکوز تھی۔ جنابِ سلمان زیادہ نمازیں پڑھنے سے سلمان نہیں بنے، بلکہ خدا پر توکل کرکے سلمان بنے ہیں۔ ابوذر زیادہ روزے رکھنے کی وجہ سے ابوذر نہیں بنے، بلکہ اپنے اختیارات خدا کے حوالے کرنے سے وہ ابوذر بنے ہیں۔

عمارِ یاسر زیادہ حج کرنے سے عمار نہیں بنے، بلکہ خدا کی رضا میں راضی رہنے سے عمارِ یاسر بنے ہیں۔ والدین کا قتل ہوا پھر بھی خدا کی رضا میں راضی رہے۔ اس لیے جب تک ہماری تبلیغ کا نظام محدود حدود سے نکل کر اخلاق تک نہیں پہنچے گا، تب تک یے معاشرہ دینی تبلیغ سے تربیت یافتہ نہیں ہوسکتا۔ عقائد بس اتنے کافی ہیں کہ خدا ایک ہے، اس کے سوا اس کائنات کو کوئی بھی نہیں چلا رہا اور انسان ذات کی ہدایت کیلئے انبیاءَ (ع) و آئمہ (ع) مبعوث ہوئے، ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلوں گا تو میری لیے بہتری ہے۔ بس عقائد میں اتنا حصہ کافی ہے۔ اگر شبہات بڑھ گئے تو پھر آگے قدم اور آگے آجائے وہ ہیں فروع دین۔ فروعِ دین میں بھی ہر رکن ہر کسی پر واجب نہیں ہے۔ جیسے زکوٰۃ اس پر واجب ہے جس کی زراعت ہو۔ خمس اس پر واجب ہے، جس کی سالانہ بچت ہو۔ حج پر جانے کی آپکی استطاعت ہے تو ٹھیک ورنہ آپ پر عمل کرنا واجب نہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 819581
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب