2
Friday 4 Oct 2019 08:42

ایرانی اسلحہ، روسی دولت اور چینی حمایت سے امریکہ کے خلاف جاری جنگ

ایرانی اسلحہ، روسی دولت اور چینی حمایت سے امریکہ کے خلاف جاری جنگ
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

امریکی افواج کی موجودگی کے باعث بدامنی کے شکار افغانستان میں امن کے لئے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات دوحہ میں ہورہے تھے، جو کچھ عرصے سے تعطل کا شکار ہیں، افغانستان میں حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر امریکی صدر نے مذاکرات معطل کر دیئے تھے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کا اعلیٰ سطحی وفد ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں رات دیر گئے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے اسلام آباد پہنچا تھا، افغان طالبان کا وفد چین، روس اور ایران کے بعد پاکستان کا دورہ کررہا ہے۔ جو 6 اکتوبر تک پاکستان میں رہیگا۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ اور امریکی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں ایران سعودیہ مصالحت، ایران امریکہ بات چیت اور افغان مذاکرات میں کردار ادا کرنیکا کہا ہے۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں افغان طالبان کا وفد آیا، جنہیں سرکاری پروٹوکول اور شایان شان استقبال دیا گیا، دفتر خارجہ میں افغان طالبان کے بھاری بھرکم وفد نے پاکستانی نمائندہ وفد کیساتھ سیر حاصل گفتگو کی۔

پاکستانی میڈیا میں افغان طالبان کی وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی چیف سے ملاقاتوں کی خبریں بھی زیرگردش رہیں، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا افغان صدر کی خواہش پر کیا گیا۔ پگڑیاں پہنے افغان طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں، جو طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں گرفتار کیے گئے تھے، انہیں امریکی ایماء پر رہا کیا گیا، جو دوحا چلے گئے، اب وہ افغان طالبان کے سیاسی کمیشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر چمکتی دمکتی مرسڈیز کاروں میں سوار ڈپلومیٹک انکلیو کے حساس ترین علاقے میں گھومتے افغان طالبان کسی حکومت کے نمائندہ نہیں، ایک عرصہ قبل ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگائی تھیں اور امریکہ کے مطلوب ترین دہشت قرار دیئے گئے تھے۔ آج انہی سے مذاکرات کرنے کیلئے امریکہ کے نمایندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد انکی آمد سے پہلے اسلام آباد میں موجود تھے۔ لیکن پاکستانی میڈیا میں دیوبندی علماء، مدارس، سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی کھن گرج سنائی نہیں دے رہی۔

جس وقت افغان طالبان پاکستانی سرزمین میں داخل ہوئے، اس وقت پاکستان کی کلیدی ترین شخصیات، آرمی چیف، وزیراعظم اور چیئرمین نیب تاجروں سے گفت و شنید میں مصروف تھے، مصر اور لبنان کے سرمایہ کاروں کا وفد بھی پاکستان میں آیا ہوا تھا، ہر طرف تجارت، سرمایہ کاری اور معیشت کی بہتری کی باتیں ہو رہی تھیں، ساتھ ہی قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی پالیسی بنانے پر بحث ہو رہی تھی۔ جب سے امریکہ نے افغانستان میں قدم رکھا ہے، اس وقت سے پاکستان کی معیشت تباہی کا شکار ہے، اسی لیے عمران خان نے امریکہ میں اس بات کو کئی بار دہرایا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکی ایماء پر پاکستان کی شرکت بہت بڑی غلطی تھی۔ اس غلطی کا اعلان اس سال عمران خان نے کیا ہے، لیکن اسکا احساس بہت پہلے ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے پی پی پی کے دور حکومت میں ہی امریکی بلاک کو الوداع کہہ کر چین اور روس کے قریب ہونے کا فیصلہ کیا۔ جس میں کئی رکاوٹیں موجود رہیں، لیکن ایک عرصے میں انہیں کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

افغانستان خطے میں امن کی کلید ہے، جو امریکی موجودگی میں خطے کے مذکورہ ممالک کیخلاف استعمال ہو رہا ہے۔ افغان طالبان چونکہ براہ راست امریکی افواج کیخلاف جنگ آزماء ہیں، اس لیے انکا کردار اس صورتحال میں اہمیت کا حامل ہے۔ خطے کے اہم ممالک ایران، روس اور چین نے طالبان حکومت کے دور سے چلی آنیوالی چپقلش کو ختم کر کے طالبان سے گٹھ جوڑ کیا اور امریکہ کو محدود عرصے میں پالیسی بدلنے اور ناکامی کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔ امریکی ایماء پر جس طرح پاکستان کی سیاست اور معیشت کو مستحکم نہیں ہونے دیا گیا، اسی طرح کی پابندیاں پہلے ہی سے ایران کیخلاف بھی آزمائی جا رہی ہیں، روس اور چین بھی امریکی تجارتی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، داعش کی عراق اور شام میں شکست کے بعد افغانستان میں بھی امریکی اثرورسوخ ختم ہونے کی حد تک کمزور ہوچکا ہے، انخلاء کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، لیکن انخلاء کا راستہ دینے کو کوئی تیار نہیں، چین نے پابندیوں کی پراہ نہ کرتے ہوئے پاکستان، ایران میں بھاری سرمایہ کا شروع کر رکھی ہے، ساتھ ہی افغانستان کے مستقبل پہ مسلسل کام ہو رہا ہے۔

امریکی طاقت کا سورج ڈوب رہا ہے، ہمارے خطے میں اپنے واحدی اتحادی پاکستان نے امریکہ سے دھوکا کھانے کے بعد امریکہ کو امن مذاکرات کی راہ دکھائی ہے، اسلام آباد اب ان سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ سعودی عرب اور بھارت امریکہ کے اہم اتحادی ہونے کے باوجود ان مذاکرات سے علیحدہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس، چین اور ایران کی افغان طالبان اور پاکستان کیساتھ مکمل ہم آہنگی ہو چکی ہے، جسکا واحد نشانہ امریکہ ہے، پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حیثیت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے آرمکو تنصیبات پر ہونیوالے حملوں کی مذمت تو کی گئی لیکن باقاعدہ جنگ کے دوران یمنی جماہدین کی عظیم الشان کاروائی پر لب کشائی نہیں کی گئی، اس کی ایک اہم وجہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک کا باہمی اشتراک اور ہم آہنگی ہے۔ چین نے بھارت کو باہر رکھنے اور ایران نے سعودی عرب کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، سعودیہ اور بھارت اسوقت مسئلہ افغانستان کے حوالے سے نہ صرف غیراہم بلکہ ناقابل اعتماد بن چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس مسئلے میں مناسب پیش رفت میں کامیاب ہوا ہے۔

افغان امن مذاکرات، افغان طالبان کے شاہانہ پروٹوکول، زلمے خلیل زاد اور دیگر امریکی وفود کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران فعال سفارتکاری میں پاکستان کے بنیادی کردار پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال کو موجودہ نہج تک پہنچانے میں پاکستان سمیت خطے کے اہم ممالک کا کردار عملی طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ افغان طالبان کیساتھ ٹرمپ کی ایک ٹوئٹ کے ذریعے مذاکرات کو معطل کیا گیا اس کے بعد افغان طالبان نے بغیر کسی سرکاری حیثیت کے ایران، روس اور چین کے بعد پاکستان میں پڑاؤ ڈالا ہے، یہ تسلسل (Sequence) ایک گہرا پس منظر رکھتا ہے۔ انہوں نے اسکا انکشاف کیا کہ افغان طالبان کو امریکہ کیخلاف جنگ کیلئے ایران اسلحہ فراہم کر رہا ہے، روس پیسہ دے رہا ہے، چین سیاسی حمایت کر رہا ہے، پاکستان امن مذاکرات کیلئے سہولت فراہم کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکی ہزیمت کے پیچھے نہ صرف افغان طالبان کی نبردآزمائی بلکہ مذکورہ ممالک کی منظم، منصوبہ بند اور ہمہ جہت کوششوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان کی عظیم اسلامی ملت کو یہ عزت خطے کے ممالک نے دی ہے، امریکہ نے نہیں۔
خبر کا کوڈ : 820023
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب