0
Friday 4 Oct 2019 09:47

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا
اداریہ
عراق کے چند شیعہ نشین شہروں سے اشتعال انگیز مظاہروں کی خبریں عالمی میڈیا میں نمایاں ہیں۔ عراق میں کرپشن اور بدعنوانی نیز اس کے نتیجے میں بے روزگاری، کساد بازاری اور اقتصادی مسائل آج کا نہیں کئی برسوں کا مسئلہ ہے۔ اس طرح کے مسائل کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوتے رہتے ہیں جس کی ایک مثال فرانس میں بلوجیکٹ تحریک کے مظاہرے ہیں۔ ایران میں بھی اس طرح کی ایک کوشش کی گئی تھی لیکن عوام اور حکومت کی بیداری اور بہتر حکمت عملی اس بات کا باعث بنی کہ جن مظاہروں کو حکومت گرانے کے لیے ترتیب دیا گیا، ان کی حقیقت بہت جلد عوام الناس پر عیاں ہو گی۔ عراق کے حالیہ مظاہروں کا انداز، نعرے اور زبان و مکان اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اس کے وہ مقاصد ہرگز نہیں، جو بیان کیے جا رہے ہیں، بلکہ داعش کے حملوں کے بعد ایک اور گہری سازش عراق کے خلاف شروع کر دی گئی ہے۔ آج سے تقریبا ایک ماہ قبل مقاومت اسلامی کی ایک تنظیم "عصائب اھل الحق" کے سربراہ شیخ قیس الخزعلی نے ان مظاہروں کی پشگوئی کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ اکتوبر میں مظاہروں کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائیگا اور ان مشتعل مظاہروں کے پیچھے غیرملکی ہاتھ ہو گا۔

شیخ قیس کا مزید کہنا تھا موجودہ عراقی حکومت کا سنچری ڈیل کے خلاف واضح موقف اس حکومت کو گرانے یا اس پر دبائو بڑھانے کا باعث بنے گا۔ اس وقت تک بغداد، نجف، کربلا، ناصریہ، عمارہ، بابل اور بصرہ میں مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن عراق کا مغربی اور سنی نشین علاقہ بالکل خاموش ہے۔ اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتیں ان مظاہروں کی مخالفت ہیں اور صرف ایک غیر معروف گروپ "مالویشن حکومت کی تشکیل کے لیے انقلابی اقدامات" نے ان مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ اس گروہ کا سرغنہ نجف کا رہائشی سید احمد حلو ہے، جو اس سے پہلے بھی اس طرح کے مظاہروں میں پیش پیش رہا ہے۔ ان ٘مظاہروں میں بیرونی مداخلت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جس کی ایک مثال ان مظاہروں کو سوشل میڈیا پر لانے والے 79 فیصد افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے استقامتی بلاک کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ سازش شروع کی ہے، لیکن سعودی عرب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے اقدامات سے یمن جنگ کی شکست کا بدلہ نہیں لیا جا سکتا۔ اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عراق کو ناامن کرنے کے پیچھے اربعین ملین مارچ کو روکنے کی گھنائونی سازش ہے، جسے عراقی حکومت اور عوام ناکام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ اربعین مخالف سعودی اقدامات کے نتیجے میں دنیا بالخصوص خطے کے عوام میں سعودی عرب، امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواریوں کے خلاف نفرت میں شدید اضافہ ہو گا اور چہلم امام حسین علیہ السلام میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں ہو گی۔  
خبر کا کوڈ : 820033
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب