1
Sunday 6 Oct 2019 18:46

پاک افغان بارڈر طورخم کے 24 گھنٹے کھلنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا

پاک افغان بارڈر طورخم کے 24 گھنٹے کھلنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا
رپورٹ: ایس علی حیدر

ایک جانب وزیراعظم عمران خان نے 18 ستمبر 2019ء کو پاک افغان سرحد طورخم سال بھر میں 24 گھٹے کھولنے کا افتتاح کیا، تو دوسری جانب افتتاح کے بعد تجارتی سامان لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی مشکلات ختم ہونے کی بجائے ان میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ یکم ستمبر کو آزمائشی طور پر پاک افغان سرحد 24 گھٹے کھولی گئی جبکہ 18 ستمبر کو وزیراعظم نے باقائدہ افتتاح کیا۔ پاک افغان سرحد 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا بنیادی مقصد دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، درآمدات اور برآمدات کو فروغ دینا تھا۔ بدقسمتی سے فیصلے کے اچھے اثرات مرتب ہونے کی بجائے برے اثرات نے سر اُٹھا لیا ہے، جب سے پاک افغان سرحد 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے تو اسوقت سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی مشکلات بڑھنے لگی ہیں۔

پاک افغان سرحد پر گاڑیوں کی کلیئرنس میں تاخیر ہونے کے ساتھ ساتھ تاخیری حربے استعمال ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے پشاور رنگ روڈ، جمرود اور پاک افغان شاہراہ پر بڑی بڑی گاڑیوں کی بھی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ ساتھ تاجروں کی پریشانی بڑھی ہے۔ مسلسل گاڑیاں کھڑی ہونے سے تاجروں اور گاڑیوں کے مالکان کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے پاک افغان سرحد طورخم پر تاجروں اور مال بردار گاڑیوں کیلئے مشکلات پیدا کی گئی ہیں، جس وقت وزیراعظم عمران خان پاک سرحد 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کر رہے تھے تو افغان صدر اشرف غنی کو بھی افتتاحی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن وہ جان بوجھ کر شریک نہیں ہوئے، جس پر پاکستان کو نہ صرف ناراضگی ہوئی بلکہ غصہ بھی ہے، اب اس غصے کا زور مال بردار گاڑیوں سے نکالا جا رہا ہے جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی ہے۔

مال بردار گاڑیوں کی کلیئرنس میں تاخیر سے نا صرف تجارت درآمدات اور برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے، بلکہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو تاخیری حربوں سے خراب ہوتی جا رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کیلئے تجارت، درآمدات اور برآمدات میں آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے بزنس کمیونٹی اور تاجروں سمیت ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کئے جا رہے ہیں، جو کسی طور پر دانشمندی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان تجارت کیلئے استعال ہونے والی مال بردار گاڑیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کی جائیں، تاکہ تجارت کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ دونوں پڑوسیوں کی ہی ذمہ داری بنتی ہے کہ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تلخیاں بڑھنے کے بُرے اثرات سے دونوں ہی کا نقصان ہوگا، تجارت کو فروغ دینا دونوں ممالک کے بہتر مفادات میں ہے۔ اب تلخیاں بڑھانے کا وقت نہیں، دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 820133
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے