2
Saturday 5 Oct 2019 20:46

عراق میں بڑے مقاصد کیلئے امریکہ کی مایوسانہ کوشش

عراق میں بڑے مقاصد کیلئے امریکہ کی مایوسانہ کوشش
تحریر: ہادی محمدی

اس وقت مغربی دنیا میں عام افراد اور سیاسی ماہرین کی زبان سے یہ جملہ بہت زیادہ سنائی دینے لگا ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ اور مغرب کا تسلط اور اثرورسوخ تیزی سے زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اسی طرح مغربی ایشیا میں بھی ان کا استعماری اور غیرانسانی تسلط کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ کو جنوب مغربی ایشیا میں انتہائی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور اسے وہاں دو بڑی حریف طاقتوں یعنی روس اور چین کا مقابلہ درپیش ہے لیکن اس کے باوجود وہ مغربی ایشیا سے بھی چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ اس خطے کا دنیا کی انرجی کے ذخائر کا مرکز ہونا اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی قومی سلامتی کا اس خطے کی صورتحال پر منحصر ہونا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی اتحادی عرب سلطنتوں کی بقا بھی اس خطے پر توجہ کی محتاج ہے۔ گذشتہ دو عشروں میں امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ زوال کی جانب گامزن رہا ہے اور امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے مغربی ایشیا میں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
 
دوسری طرف ان کے چہرے سے جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کے جھوٹے نقاب بھی اترتے جا رہے ہیں جس کے باعث عوام میں ان سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ لہذا امریکہ نے گذشتہ چند ماہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مالی طاقت کے بل بوتے پر عراق میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ نے بھرپور انداز میں سماجی، سیاسی، سوشل میڈیا اور دیگر انٹیلی جنس اور اقتصادی ہتھکنڈوں کو بھی بروئے کار لا رکھا ہے۔ یوں امریکہ اور اس کے مغربی اور عربی اتحادی خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں اپنی ذلت آمیز شکست اور ناکامیوں کا کسی حد تک ازالہ کرنے کے درپے ہیں۔ امریکہ نے عراق کے صوبے الانبار میں اپنے فوجی اڈے عین الاسد کو ان تمام سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے جبکہ اس سازش میں اسرائیلی انٹیلی جنس افسران کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی ہے۔ اسی طرح عراق میں سرگرم بعض مشکوک سیاسی رہنما، داعش کی باقیات اور کچھ قبیلوں کے سردار بھی امریکہ سے تعاون کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی طرح امریکہ عراق کے حکومتی سیٹ اپ میں موجود بعض کمزوریوں اور نقائص سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
 
عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی پر اسرائیل کے ڈرون حملوں، عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی اقدامات، عراق اور شام میں داعش کی باقیات کی حفاظت کیلئے انجام پانے والے مجرمانہ اور غیرقانونی اقدامات اور حکومتی امور میں رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کرنے کے باعث اس وقت عراق کی پارلیمنٹ میں امریکہ کو ملک سے نکال باہر کرنے کا بل پاس ہونے کے قریب ہے۔ ٹھیک ایسے وقت جب سعودی عرب عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی پیشکش کرتا ہے اور ٹھیک ایسے وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے مذاکرات کی اشد ضرورت ہے اور وہ تہران سے بار بار مذاکرات کیلئے عاجزانہ درخواست کر رہا ہے، اس نے ایران عراق تعلقات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ نے خاص طور پر چہلم امام حسین علیہ السلام اور عاشقان امام حسین علیہ السلام کی کربلا کی جانب پیادہ روی کے موقع پر خطے میں ایران کی محبوبیت اور اثرورسوخ کو زک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
 
عراق میں سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی سرنگونی کے بعد تشکیل پانے والا نیا سیاسی سیٹ اپ ابھی تک کچھ بنیادی مشکلات سے باہر نہیں نکل پایا۔ ان میں سے دو بڑی مشکلات کرپشن اور بے روزگاری ہے۔ انہی مشکلات سے تنگ آئی عوام وقتا فوقتا احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی مظاہروں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ کچھ سال پہلے امریکہ یہ ہتھکنڈہ ایران میں بھی بروئے کار لا چکا ہے۔ بغداد میں ہونے والے مظاہروں میں بعض ایسے افراد پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں جن پر عامدانہ طور پر ان مظاہروں کو شدت پسندی اور مسلح جھڑپوں کی جانب لے جانے کی کوشش کا الزام ہے۔ لیکن جس طرح ایران میں امریکہ کی فتنہ گری عوام کے اندر نیا سیاسی شعور اور بیداری جنم لینے کا باعث بنی تھی بالکل اسی طرح عراق میں امریکہ کے فتنہ گرانہ اقدامات عوام کی بصیرت افزائی کا باعث بنے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ کی سرکردگی میں عالمی استعماری نظام حتمی موت سے پہلے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ خطہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایک طرف اسلامی مزاحمتی قوتیں اور خودمختار ریاستیں زور پکڑتی جا رہی ہیں اور دوسری طرف امریکہ کی اتحادی عرب سلطنتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ آل سعود، آل زاید اور استعمار کی دیگر حامی حکومتیں نابودی کی جانب گامزن ہیں اور عوامی سطح پر استعمار مخالف مزاحمت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 820330
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب