0
Sunday 6 Oct 2019 20:14

کراچی کی تاریخ کا ممکنہ بڑا اسکینڈل

کراچی کی تاریخ کا ممکنہ بڑا اسکینڈل
رپورٹ: ایس ایم عابدی

کراچی کی تاریخ کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آنے والا ہے، جس میں اربوں روپیہ مالیت کے تجارتی پروجیکٹ نیو جوڑیا بازار کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے اور چودہ الاٹیز کی شکایت پر اینٹی کرپشن نے پروجیکٹ کے متعلق تحقیقات شروع کردی ہے، ایس پی اینٹی کرپشن ایسٹ ضمیر عباسی نے مختلف سرکاری محکموں کو لیٹر نمبر DD/ACE/K/E/2019/4499 بتاریخ 17/09/2019 کے ذریعئے رپورٹ طلب کرلی ہے کہ اس پروجیکٹ کا اسٹیٹس کیا ہے اور آیا اس کی اب تک کی الاٹمنٹ قانونی ہے۔ انہوں نے ذرائع کے سوال پر کہا کہ شکایت بہت حساس نوعیت کی ہے اس لئے ابھی کچھ کہ نہیں سکتا، تفصیلات مل جائیں پھر پریس سے شیئر کرونگا۔ واضع رہے کہ کراچی میں راشن اور دیگر سینکڑوں ضروریات زندگی کی اشیاء کی ہول سیل کی بڑی مارکیٹ جو کہ سٹی کورٹ سے ٹاور تک کئی کلومیٹر کے ایریا میں پھیلی ہوئی ہے، میں ٹریفک کے شدید دباؤ اور تیزی سے پھیلتے ہوئے کراچی کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کے سبب گزشتہ 20 سالوں میں اس کی شہر سے باہر منتقلی کے کئی سرکاری منصوبے بنے مگر وہ فائلوں تک ہی محدود رہے۔

اسی دوران صابر راجپوت اور ان کے ساتھیوں نے نجی شعبے میں ایک نیو جوڑیا بازار کے نام سے پروجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ہی صابر اور ان کے ساتھی سید عدنان حسین میں نیو جوڑیا بازار کی باقاعدہ رجسٹریشن پر اختلافات پیدا ہوگئے، صابر نے اس گروپ سے علیحدہ ہوکر اپنا الگ کام کرنے کی کوششیں شروع کردیں جبکہ سید عدنان حسین اور ان کے کچھ ساتھیوں نے منصوبے کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے 5 ماہ قبل اس کی باقاعدہ بکنگ بھی شروع کردی اور ایک تقریب میں انہوں نے 600 سو الاٹیز کی قرعہ اندازی کرکے انہیں پلاٹ الاٹ کرنے کی نوید سنادی، صابر راجپوت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عدنان گروپ نے ایک اور پراپرٹی ڈیلر کو 40 فائلیں 2 لاکھ روپیہ پر فائل کے حساب سے فروخت کی ہیں، اب عدنان گروپ نے جوڑیا بازار سے متصل بولٹن مارکیٹ میں باقاعدہ دفتر بھی کھول لیا ہے۔

دوسری طرف تاجر اتحاد کے ترجمان حاجی اسماعیل نے ایک وڈیو بیان ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر چلایا ہے جس میں پروجیکٹ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ تصدیق کے بعد ہی پروجیکٹ میں پلاٹس کی بکنگ کروائیں وہ یا ان کی ایسوسی ایشن اس کی ذمہ دار نہ ہوگی۔ انہوں نے ذرائع کے رابطہ کرنے پر کہا کہ جمیل پراچہ اور دیگر تین عہدیدار سید عدنان کو سپورٹ کررہے ہیں مگر میں ان سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ جوڑیا بازار پرانی کراچی کا تجارتی علاقہ ہے اور آج بھی قائم و دائم اور عروج پر ہے، یہ بازار ضلع جنوبی کی حدود میں واقع ہے، سٹی کورٹ کے مغرب کی جانب سے شروع ہونے والی جوڑیا بازار کی مرکزی گلی دریا لال اسٹریٹ پر ایم اے جناح روڈ، لی مارکیٹ، جونا مارکیٹ، کجھور بازار، برتن بازار اور کھوڑی گارڈن سمیت مختلف گلیاں جن میں مختلف اجناس اور اشیاء کی مارکیٹیں قائم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820487
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب