0
Sunday 6 Oct 2019 20:11

ایل او سی کی طرف لانگ مارچ

ایل او سی کی طرف لانگ مارچ
تحریر: طاہر یاسین طاہر

بھارتی مظالم آشکارا ہیں، اس امر میں کلام نہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا نظام ِحیات مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اپنے آئین کی دو مختلف شقوں کی تبدیلی کرنے کے بعد بھارت کا رویہ مقبوضہ کشمیر میں نہایت جارحانہ ہے، جبکہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے عزم کے اعادے کے ساتھ ساتھ ا س مسئلے کو عالمی سفارتی محاذ پر زیادہ جارحیت کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر نے دنیا کے عام انسانوں کو بھی بھارتی مظالم کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ اگرچہ حقائق یہی ہیں کہ اسی اقوام متحدہ کی کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کو بھارتیوں نے کبھی در خورِ اعتنا نہیں سمجھا، لیکن اس کے سوا چارہ کار بھی نہیں کہ دنیا کا بڑا فیصلہ ساز ادارہ بھی تو اقوام متحدہ ہے۔ مسلمان ممالک، تیسری دنیا کی دیگر اقوام، حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک کو بھی اقوام متحدہ کے بعض فیصلوں پر شدید اعتراضات ہوتے ہیں، جو کہ عمومی طور پر امریکی دبائو کے زیر اثر کیے جاتے ہیں۔

بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اس امر کا غماز ہے کہ بھارتیوں کو مقبوضہ وادی کے محصورین کی طرف سے شدید ترین احتجاج کا خطرہ ہے۔ یہ امر بھی واقعی ہے کہ کرفیو اگر اٹھا لیا جاتا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے محصورین، جب احتجاج کو نکلیں گے تو بھارتی فوجی ان پر براہ راست گولی بھی چلا سکتے ہیں۔ کیا بھارت نے وادی میں اضافی فوج انگور کھانے بھیجی ہوئی ہے؟ کشمیر کے معاملے کو جو پرائیویٹ جہادی ایک سادہ مسئلہ سمجھتے ہیں، انھیں معاملے کی سنگینی کا شاید علم ہی نہیں۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں، مکرر عرض ہے کہ " غزوہ ہند" والی حدیث کو علم الرجال کے ماہرین پھر سے پرکھیں اور اس کی تفسیر کریں۔ جذباتیت سے ملکوں کے مسائل حل نہیں ہوتے نہ ہی خواب میں آنے والے خود ساختہ خیالات ملکوں کو فاتح بناتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان آج چار عشروں سے رسوا نہ ہو رہا ہوتا۔ ان افراد کے فکری مغالطے پر نوحہ ہی کیا جا سکتا ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ افغانوں نے ہمیشہ فتح پائی۔ جبکہ جنگوں کے نتائج، جانی و مالی نقصان کے حساب سے لگائے جاتے ہیں۔

کیا چار عشروں میں زیادہ نقصان امریکہ و روس کا ہوا؟ یا افغانستان اور افغانوں کا؟ آج افغانستان میں سوائے موت اور امریکیوں کے کوئی دوسری شے نظر نہیں آتی۔ موضوع مگر افغانستان کی جنگ نہیں، بلکہ جنگوں کے اثرات اور جذباتیت کے نتائج ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے عالمی استعماری قوتوں کا منصوبہ یہی ہے کہ اسے کشمیر، بلوچستان اور کے پی کے کی سرحدی پٹی کے درمیان حالتِ جنگ میں مصروف رکھا جائے۔ دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پاکستان نے بڑی قربانیاں دے کر کامرانی حاصل کی، یہ قربانیں مالی بھی ہیں اور جانی ہیں، سماجی نفسیات پر اس جنگ کے گہرے اثرات نقش ہوئے جن کے باعث پورا سماج ہیجان کی سی کیفیت میں ہے۔ دشمن یہی چاہتا ہے۔ جب کوئی قوم یکسوئی کا دامن چھوڑ دیتی ہے تو اس کے پاس کوئی معین راستہ نہیں رہتا، جس کا لازمی نتیجہ خانہ جنگی، معیشت کی تباہی اور سماجی و فکری رویوں میں تنزلی ہوتا ہے۔ پھر سے شام و عراق اور افغانستان کی مثال سامنے ہے۔ زندگی خواہشوں کے بل بوتے پر نہیں گزرتی، بلکہ عملی جدو جہد اور اپنے زمانے کے مسائل سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے انھیں سمجھنے کا نام ہے۔

بھارتی الزام یہی رہا کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ بھارت میں اگر پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو اس کا الزام لمحہ بھر میں پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے۔ بھارت کے اس بیانیے کو گاہے تقویت بھی ملتی رہی اور عالمی برادری اس حوالے سے پاکستان کو خبردار بھی کرتی رہی۔ لیکن یہی عالمی برادری بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی پامالیوں کو نظر انداز کر جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمیں اپنے ریاستی بیانیے کو ترتیب دے کر کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنی ہے۔ اگر خدانخواستہ پاک بھارت جنگ ہوتی ہے تو ایک غیر ملکی مقبول نشریاتی ادارے کے خیالی اعدادوشمار کے مطابق 14 سے 18 کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ کیونکہ اس جنگ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف چھوٹے پیمانے پر ایٹیمی ہتھیار استعمال کریں گے۔ یہ مگر خیالی سروے ہے۔ خدانخواستہ جنگ اگر شروع ہو گئی تو اس کی خوراک ڈیڑھ ارب انسان بنیں گے۔ اس جنگ کے اثرات چین، ایران اور افغانستان و دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے اور عالمی برادری اس ممکنہ جنگ کے موسمیاتی اثرات سے بری طرح متاثر ہو گی۔

اس وقت سفارتی محاذ گرم ہے، دنیا کے عدل پسند ممالک، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں برملا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایسے میں لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ دنیا کی توجہ بھارتی مظالم کی جانب مزید مرتکز کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ضرور ہے، لیکن لائن آف کنڑول کو پار کرنا خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ" آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول پار کرنے والے بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ" میں آزاد کشمیر کے لوگوں میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیرانسانی کرفیو میں محصور کشمیریوں کے حوالے سے پائے جانے والے کرب کو سمجھ سکتا ہوں، لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ بھارتی بیانیہ جو پاکستان پر اسلامی دہشت گردی کا الزام عائد کرکے بھارت کے ظالمانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر تشدد بڑھانے اور لائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرنے کا جواز مل جائے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مذکورہ بیان یھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے آزاد کشمیر سے ایل او سی کی جانب پُرامن آزادی مارچ کے آغاز کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ عالمی سیاسی منظر نامے اور بالخصوص خطے میں انگڑائی لیتی عسکری و سیاسی تبدیلیاں وزیراعظم کے بیان کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔ لیکن ان لوگوں کا کیا کِیا جائے جو دماغ کے بجائے دل سے سوچتے ہیں؟ بھارت مقبوضہ کشمیر میں، کرفیو کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر ہلکی ہلکی آنچ سلگائے رکھنا چاہتا ہے اور اسی میں بھارتی مفاد اور بیانیے کی بقا ہے۔ پر امن احتجاج والوں کو لائن آف کنڑول پار کرنے کے بجائے، کسی ایک متفقہ مقام پر رک کر بھارتی مظالم کے خلاف اور محصور کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ آخری تجزیے میں جب ریاستی فیصلے، ریاستی اداروں کے بجائے چھوٹے چھوٹے گروہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو نتائج دشمن کے حق میں ہی نکلتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820496
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب