2
Wednesday 9 Oct 2019 17:38

ایک حقیقی استاد کی یاد میں

ایک حقیقی استاد کی یاد میں
رپورٹ: ایس این حسینی

اتوار 6 اکتوبر کو مرحوم استاد سید محمد ظاہر شاہ کے چہلم کے حوالے سے پاراچنار کے نواحی ایک دیہاتی علاقے اور انکے گاؤں شاہ جی خیل کی مرکزی امام بارگاہ میں مجلس اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اگرچہ قرآن خوانی اور چہلم کے پروگرامات عادی یہاں ہوا کرتے ہیں۔ یعنی ہر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے مجلس اور قرآن خوانی کا پروگرام ہوتا ہے۔ تاہم ایک استاد کی یاد اور انکی روح کے ایصال ثواب کیلئے یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا اور خصوصی پروگرام تھا۔ پروگرام میں عام لوگوں سے زیادہ اساتذہ کرام، پرنسپل، ہیڈ ماسٹر صاحبان، پروفیسرز اور ڈاکٹرز کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ صبح نو بجے سے 11 بجے تک استاد مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن ہوا۔ اسکے بعد مجلس اور نوحہ خوانی کا پروگرام شروع ہوا۔ پروگرام کی ابتداء گورنمنٹ مڈل سکول یوسف خیل کے طالب علم اور استاد مرحوم کے ایک شاگرد سید مصور حسین نے اپنی تقریر سے کی۔ جس میں انہوں نے استاد بالخصوص موصوف کا مقام اجاگر کیا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فرمان پیش کرتے ہوئے ننھے مقرر نے کہا تمہارے تین باپ ہیں، ایک وہ جو تمہیں اس دنیا میں لانے کا باعث بنا، دوسرا وہ جس نے تم سے اپنی بیٹی بیاہی، اور تیسرا وہ جس نے تمہیں علم سکھایا۔ اور پھر فرمایا کہ ان سب میں افضل تمہارے لئے وہ ہے جس نے تمہیں علم دیا۔ انہوں نے کہا کہ والد بچے کا جسمانی باپ جبکہ استاد بچے کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ استاد کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رب ذوالجلال خود سب سے پہلا اور بڑا سکھانے والا یعنی معلم ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ ہمارے پیارے رسول جو سرتاج انبیاء، نبی آخر زمان، رحمت للعالمین، محبوب پروردگار اور سرکار دو عالم ہیں۔

رازق جن و بشر اور خالق شمس و قمر آپکو قرآن مجید فرقان حمید میں داعی الی اللہ، شاہد، یاسین، طا ھا، مبشر، نذیر اور سراج منیر جیسے اسماء الحسنیٰ سے مخاطب کرتا رہا۔ کار ساز و معبود بحر وبر اسی کتاب مقدس میں آپ کی زلف ِمشک بار، روحِ انور، سینہ اطہر، زمانہ منور، زیست مطہر، چادر مُعنبر اور مکہ شہر کی قسمیں اٹھاتا رہا۔ تاہم ان تمام فضیلتوں اور عظمتوں کے باوجود آپ نے اپنے معلم ہونے پر فخر فرمایا۔ اسی طرح امیر المومنین، امام المتقین، یعسوب الدین، مولود کعبہ، فاتح خیبر، قاتل مرحب و عنتر، کل ایمان، استاد جبرائیل، باب العلم، صاحب سلونی علی ابن ابی طالب کا فرمان ہے، اگر کسی نے مجھے ایک حرف سکھایا، تو میں اسکا غلام بن جاؤنگا۔ سکندر اعظم کا حوالہ دیتا ہوئے طالبعلم نے کہا کہ موصوف اپنے استاد کا بیحد احترام کرتا تھا۔ کسی نے وجہ پوچھی، تو جواب میں کہا۔ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا، جبکہ میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔ میرا باپ باعث حیات فانی ہے، اور استاد موجب حیات جاویداں۔ میرا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے، جبکہ استاد میری روح کی۔ 

انہوں نے پاکستان سے باہر استاد کو دی جانے والی اہمیت اور پروٹوکول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں استاد کی نہیں بلکہ اسکے سائے کو بھی وہ مقام دیا جاتا ہے جو پاکستان میں خود استاد کو بھی حاصل نہیں۔ انہوں نے ایک استاد کا واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی میں ایک مرتبہ وہ یورنیورسٹی کے باہر ایک پروفیسر کے ساتھ لب خیابان کھڑا تھا کہ اس دوران کچھ افراد کو سامنے سے اچھل اچھل کر گزرتے دیکھا، پروفیسر سے اچھلنے کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ یہ انکے شاگرد ہیں، جو سامنے اسکے سائے پر پاؤں رکھنے سے کترا کر اچھلتے ہیں۔ طالب علم نے کہا فرانس کی عدالت میں ماسوائے استاد کے کسی کو بھی کرسی پیش نہیں کی جاتی۔ مغرب میں استاد کو وہ مقام حاصل ہے، جو معاشرے کے کسی بھی فرد کو حاصل نہیں۔ وہاں عدالت میں استاد کی گواہی کو پادری کی گواہی سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ کوریا میں ٹیچر اپنا کارڈ دکھا کر ان تمام سہولیات سے مستفید ہوسکتا ہے جو ہمارے ملک میں صرف وزراء کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ استاد موصوف کی رحلت کے ساتھ ہم ایک نہایت شفیق، مہربان اور ایک دیندار استاد سے محروم ہوگئے، جنکا خلا شاید ہی کبھی ہر ہوسکے۔ 

اس ننھے مقرر کے بعد مولانا سید مفید حسین اور مولانا اخلاق حسین شریعتی نے معاشرے میں استاد کی اہمیت اور انکے مقام کو بالعموم جبکہ استاد مرحوم کی سیرت و کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر شاہ یقیناً ایک نیک سیرت اور حقیقی معنوں میں ایک استاد تھے۔ چنانچہ اس پروگرام ہی سے عیاں ہے کہ انہوں نے صحیح معنوں میں استاد بن کر کام کیا تھا۔ مفید حسین میاں نے کہا کہ مرحوم اپنے مضمون کے علاوہ دینی مطالعہ پر بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔ ان سے یا انکے حضور میں جب کبھی کوئی سوال کیا جاتا، وہ نہایت تسلی، تمانت اور  مدلل انداز سے اسکا جواب دیا کرتے۔ انہوں نے کہا، خالی پیرئیڈ میں ہم نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ وہ بچوں کو اس دوران وہ کچھ سکھاتے، جو کسی عالم دین کو معاشرے میں کرنا چاہئے۔ مولانا اخلاق حسین شریعتی کا کہنا تھا کہ ایک اچھے استاد کی یہی خوبی ہونی چاہئے کہ وہ معاشرے کو خرافات، بدعات اور غلط عقائد سے محفوظ رکھے۔ آج پاکستان میں بعض انپڑھ، جاہل اور بدکردار افراد نے منبر رسول کو اپنا مورچہ بنالیا ہے۔ اور اس پاک پلیٹ فارم سے استعمار، یہود اور ہنود اور دشمنان اہلبیت کے بجائے خود اپنوں میں نفرتیں پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجتہدین کا مذاق اڑانے پر تلے ہوئے ہیں۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے، کہ آج کل دنیا کی تمام سیاسی، عسکری اور اقتصادی قوتیں اور سپر طاقتیں شیعوں سے خوفزدہ ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ وہ شیعوں کی افرادی قوت سے نہیں بلکہ انکے نظرئیہ اجتہاد اور مجتہدین سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ آج امریکہ، عرب ممالک اور یورپ مل کر بھی شیعہ کی عام تنظیموں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ شام، عراق، یمن، فلسطین اور لبنان میں انہیں مسلسل شکستوں کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ وہ یہی بیان کررہے ہیں، کہ شیعہ کو  نظریہ اجتہاد نے ناقابل شکست بنایا ہے۔ مقررین نے عوام الناس سے اپیل کی، کہ مجتہدین اور علمائے کرام کے خلاف باتیں کرنے والوں کو سامنے لایا جائے، انہیں بے سر وپا باتیں کرتے وقت علمائے کرام کے ساتھ بٹھاؤ، کہ وہ کنوینس ہوجائیں یا علماء کو اپنے نظرئے پر قائل کریں۔ استاد اور عالم دین کے کردار کے علاوہ علمائے مذکور نے مصائب امام حسین پڑھ کر مجلس کو اختتام تک پہنچایا۔
خبر کا کوڈ : 820627
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب