4
Monday 7 Oct 2019 23:37

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن (2)

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن (2)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com
 

ایک خاتون سہمی ہوئی ہے، ویڈیو کلپ میں وہ کہہ رہی ہے کہ میں ڈر رہی ہوں، وہ ڈرتے ہوئے اربعین واک کی طرف جاتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ مجھے محتاط ہوکر ریکارڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔ ہم یہاں ان الزامات کی حقیقت جاننے آئے ہیں کہ چند مذہبی شخصیات مذہب کی آڑ میں عورتوں کو جسم فروشی کیلئے تیار کر رہے ہیں، حتّی کہ چند پر دلالی کا بھی الزام ہے، اس کے بعد پسِ منظر میں کربلا میں لوگوں کے ہجوم کا منظر اور سکرین پر یہ عبارت لکھی ہوئی نظر آتی ہے کہ شیعہ اسلام کے سب سے مقدس مقامات پر ہم نے کچھ علماء کو اختیارات کا ناجائز استعمال اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے پایا، وہ کم عمر لڑکیوں سے نکاحِ متعہ کرانے کے پیسے لیتے رہے، یہاں پر شادی کے نام پر سیکس پر سخت پابندی سے بچنے کیلئے نکاح متعہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پسِ منظر میں کربلا کے مختلف گلی کوچوں میں لوگوں کو چلتے پھرتے دکھایاجاتا ہے اور ایک شخص مدہم سی آواز میں کسی سے عربی میں بات چیت کرتا ہے، جسے سکرین پر ان الفاظ میں لکھا ہوا دکھایا جاتا ہے، اس عالم سے ایک 13 سالہ لڑکی سے نکاحِ متعہ کے بارے میں پوچھا گیا، بہتر ہے ایک دن کیلئے کر لیں، اگر آپ بھٹک جائیں۔

مذکورہ ویڈیو کے علاوہ بھی استعماری نشریاتی اداروں کی کارستانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ انسانوں کے درمیان  تخریب کا کام تعمیر کے نام پر، گمراہی کا کام آگاہی کے نام پر، اختلافات کا کام تحقیق کے نام پر انجام دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا ویڈیو میں خاتون کو اسلامی حجاب میں دکھایا گیا ہے، یعنی جیسا دیس ویسا بھیس، جوکہ مستشرقین کا طریقہ واردات ہے، اس کے بعد جو کچھ وہاں لوگوں سے پوچھا گیا اور سکرین پر لکھا ہوا دکھایا گیا اس کا اربعین واک سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ نکاحِ متعہ کو اس کی شرائط کے ساتھ فقہ جعفری میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے، اس کو آپ چاہے کسی شیعہ عالمِ دین سے سے پاکستان میں پوچھیں یا امریکہ میں، سعودی عرب میں پوچھیں یا عراق میں وہ اس کا ایک ہی جواب دے گا کہ ہاں متعہ کرنا جائز ہے۔ اب ان سوالات کو چہلمِ امام حسینؑ کے موقع پر کربلا میں پکچرائز کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ چہلم کے موقع پر لوگ جنسی تسکین کیلئے کربلا میں جمع ہوتے ہیں، ساتھ ہی اس جھوٹ کو گاڑھا کرنے کیلئے ایک لڑکی کے کردار کو بھی فلمایا گیا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ  عقدِ متعہ سے اس کے خلاف سوئے استفاد کیا جاتا ہے۔

عقل و فہم رکھنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ نکاح چاہے دائمی ہو یا عقدِ متعہ دونوں سے سوئے استفادہ ممکن ہے، اور اس سوئے استفادے کو کسی بھی لحاظ سے بھی امام حسینؑ کے چہلم کے ساتھ  ایک خاموش ربط دینا استعمار کی ایک مکارانہ چال کے سوا اور کچھ  بھی نہیں۔ بی بی سی کی اس چال کو ہم مندرجہ زیل مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً حج کے تقدس کو پامال کرنے کیلئے، کوئی مستشرق سعودی عرب جائے، وہاں کے نائٹ کلبوں، عیاشی کے مراکز  اور وہاں ہونے والی جنسی بے راہروی کے بارے میں چند شاکی افراد سے بات چیت کر کے ایسا کلپ تیار کرے، جس کی بیک گراونڈ میں مکے اور مدینے کی سڑکیں، خانہ کعبہ، مسجد نبوی، حاجی لباسِ احرام میں طواف کرتے ہوئے اور وہاں کے باشندے شکایات کرتے دکھائی دیں۔ جس سے غیر محسوس انداز میں انسان کے لاشعور میں یہ پیغام پہنچ رہا ہو کہ نعوذباللہ حج کے موقع پر یہ سب کچھ ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت میں ان نائٹ کلبوں، عیاشی کے مراکز اور جنسی بے راہروی کا حاجیوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

چہلمِ امام حسینؑ کے موقعے پر بی بی سی کا یہ پروپیگنڈہ بالکل ویسا ہی ہے کہ جیساکہ ہمارے بچپن میں مائیں اپنے بچوں کو دس محرم کو بازار نہیں جانے دیتی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ اس دن شیعہ حضرات لوگوں کا خون نکال کر پیتے ہیں، لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں، تھوڑے بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ شیعوں کا جلوس دیکھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، پھر پتہ چلا کہ شیعہ نمازِ جنازہ کی پانچویں تکبیر میں میت پر لعنت بھیجتے ہیں، پھر پتہ چلا کہ شیعوں کے گھروں میں چالیس پاروں کا قرآن ہے اور ان کا قرآن اہلِ سنت کے قرآن کے علاوہ ہے، صرف یہی نہیں، بلکہ بعض لوگ بی بی سی کی طرح کہتے تھے کہ ہم نے خود امام بارگاہوں میں جاکر دیکھا ہے کہ شامِ غریباں کو شیعہ مرد و خواتین باہم مخلوط ہوکر جنسی اختلاط کرتے ہیں۔ شامِ  غریباں سے اربعینِ امام حسینؑ تک ہر طرف وہی پست فکر اور غلیظ پروپیگنڈہ ہے۔ یہ پروپیگنڈہ اس لئے کیا جا رہا ہے چونکہ اس وقت امریکہ و یورپ کے تھنک ٹینکس ایرانی حکومت کی بصیرت اور مقاومت سے خوفزدہ ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کی سیاسی و مذہبی طاقت شیعت کا علمی و دینی مرکز ہونے کی وجہ سے ہے۔

وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ شیعیت کی طاقت کا اظہار چہلم امام حسینؑ کے موقع پر کربلا میں ہوتا ہے۔ چونکہ ساری دنیا کے لوگ حضرت امام خمینیؒ، شیعہ مراجع کرام، ولی فقیہ سید علی خامنہ ای اور حزب اللہ لبنان کی برجستہ شخصیات خصوصا سید حسن نصراللہ کی وجہ سے شیعہ علما کی بصیرت، پرہیزگاری اور دوراندیشی سے بھی متاثر ہیں، لہذا ایسے کلپس میں شیعہ علماء کے چہرے کو بھی منفی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ استعمار یہ بھی جانتا ہے کہ  چہلمِ امام حسینؑ صرف شیعیت کی طاقت کا مظہر نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کی وحدت کا مظہر ہے اور اس وقت شیعہ علما صرف اہل تشیع کے دفاع کی جنگ نہیں لڑ رہے، بلکہ پورے عالمِ انسانیت اور خصوصا مظلوم اہل سنت کی بقا اور حقوق کی جنگ لڑنے میں مشغول ہیں، آج بھی وہ کشمیر ہو یا فلسطین یہ ایران کے شیعہ علما ہی ہیں، جنہوں نے آج تک ان مظلوموں کا ساتھ دینے کا حق ادا کیا ہے اور سید حسن نصراللہ نے  دنیا میں صرف شیعوں کی ہی نہیں بلکہ سارے عالمِ اسلام کی خاص کر عربوں کی آبرو قائم رکھی ہوئی ہے۔

بہر حال جو استعماری آلہ کاروں کا کام ہے، اسے تو ہم نہیں روک سکتے البتہ ہمیں اپنے طور پر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیسے چہلمِ امام حسینؑ کے موقع پر ہونے والے اس عظیم اجتماع کو عالمِ اسلام کیلئے مفید بنا سکتے ہیں!؟ ہم کیسے اس اجتماع میں شریک ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کو کشمیر اور فلسطین جیسے اہم مسائل کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں!؟ ہم کیسے اس اجتماع سے تمام اسلامی ممالک پاکستان، ایران، سعودی عرب، افغانستان، عرب امارات کے درمیان وحدت اور بھائی چارے کیلئے استفادہ کر سکتے ہیں اور ہم کیسے اس اجتماع کی وساطت سے تمام اسلامی مذاہب مالکی، حنفی، شافعی، جعفری حتّی کہ سلفی، دیوبندی، اہلحدیث کے درمیان  موجود غلط فہمیوں کو ختم کر سکتے ہیں!؟ جب استعمار ہمارے اہم ایّام کے موقع پر ہمارے مذہبی و فقہی اختلافات کو ہمارے ہی خلاف بطورِ ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

ہمیں بھی ان ایّام میں اپنے مذہبی و فقہی مشترکات کو استعمار کے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال کرنا چاہیے۔ آخر میں ہم اپنے قارئین کی اطلاع کیلئے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چہلمِ امام حسینؑ کے خلاف صرف استعماری نشریاتی اداروں نے ہی ان ایّام میں مہم نہیں چلائی، بلکہ انہی دنوں میں عراق میں مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی اور ایران میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے منصوبے کو بھی عملی کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے علاوہ ان ایّام میں عراق میں عوامی تصادم اور خونریز فسادات کی کوشش بھی کی گئی، اگرچہ عراق میں ہونے والے مظاہروں کا سبب اقتصادی ناہمواری اور سیاسی خلفشار ہی ہے، لیکن انہی ایّام میں ان فسادات کا شدت سے رونما ہونا، اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے ان فسادات کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر کوریج دینا، یہ سب چیزیں پسِ پردہ استعماری محرکین کا پتہ دیتی ہیں۔ اگلی قسط میں ہم ان شااللہ ان وجوہات کو بیان کریں گے، جن کی وجہ سے بی بی سی سمیت استعمار کے تمام نشریاتی اور جاسوسی ادارے اربعین واک سے خوفزدہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820696
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب