0
Wednesday 9 Oct 2019 10:06

شام کے کرد اور امریکہ کا یوٹرن

شام کے کرد اور امریکہ کا یوٹرن
اداریہ

شام کا شمالی بارڈر اس وقت عالمی خبروں میں موضوع بحث ہے۔ ترکی نے مشرقی فرات سے شمالی شام کے علاقوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ترکی کو اس علاقے میں موجود کرد آبادی سے تاریخی اختلافات ہیں، اس حوالے سے کردوں کی جماعت پی کے کے کا نام ماضی میں بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتا رہا ہے۔ ترکی میں اردوغان کے اقتدار میں آنے کے بعد کرد بحران کو ختم کرنے کے لیے کوشیش انجام پائیں لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں، ترکی کو شام کے حوالے سے کردار بدلتا رہا ہے، ایک زمانے میں کہ یورپ سے آنے والے اکثر دہشت گرد ترکی کے راستے شام میں داخل ہوئے اور شام کی طرف سے احرارالشام اور جبۃ النصرہ کو ترکی کی کھلم کھلا حمایت حاصل رہی۔ ترکی نے شام اور عراق کے اس تیل سے جو دہشت گردوں کے ذریعے اسمگل ہوتا تھا خوب فائدہ اٹھایا اور ترکی کی ترقی پذیر اقتصاد میں اسمگل شدہ عراقی تیل کا بھی ایک نمایاں حصہ ہے۔

ترکی شام سے متصل اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے بہانے کردوں کو کچلنا چاہتا ہے، دوسری طرف امریکہ نے کردوں کو کئی سبز باغ دکھائے ہوئے ہیں۔ امریکہ ترکی کے خلاف کردوں کی ہمیشہ حمایت کرتا رہا ہے  اور ان کردوں کو شام اور ترکی کے خلاف بلاواسطہ استعمال کرتا رہا ہے اب جبکہ ترکی کی حکومت نے کردوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو امریکہ نے شمالی شام میں موجود اپنے فوجی ٹھکانوں کو خالی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے دو ہزار کے قریب فوجی اس وقت شام میں موجود ہیں اور ایک بڑی تعداد میں جدید فوجی سازوں سامان بھی شام میں موجود ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ ان دنوں ترک صدر طیب اردوگان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جس سے کردوں کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اس مشکل وقت میں امریکہ ان کا ساتھ نہیں دے گا۔ دوسری طرف شام میں ملک کے اندر دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور وہ اپنی شمالی سرحدوں سے ترکی کو دور نہیں رکھ سکتا، لیکن آج نہیں تو کل شام اور ترکی میں اس مسئلے میں کشیدگی بڑھے گی۔ ترکی کا یہ اقدام شام کے داخلی حالات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے اور شام میں امن و امان کی بحالی اور جمہوریت کے نفاذ کے عمل کو تاخیر میں مبتلا کرسکتا ہے۔ البتہ امریکہ اگر کردوں کو ظاہری حمایت نہ کر سکا تو خفیہ حمایت ضرور کرے گا، کیونکہ امریکہ نے مستقبل میں ان کردوں کو شام اور ترکی کے خلاف استعمال کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 820949
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے