0
Wednesday 9 Oct 2019 14:10

روک سکو تو روک لو ڈٹ کے کھڑا ہے فضل الرحمن

روک سکو تو روک لو ڈٹ کے کھڑا ہے فضل الرحمن
تحریر: ممتاز ملک

ایک ماہ کے راشن کا انتظام کر کے لاکھوں لوگوں کا آزادی مارچ، 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہو گا، جس کا پڑاؤ ڈی چوک اسلام آباد پر ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ میڈیا والوں کے لئے سب سے زیادہ خوشی کا باعث ہے، کیونکہ ایک مرتبہ پھر سے ٹاک شوز میں گرما گرمی شروع ہو چکی ہے، اخبارات اور اشتہارات کا بازار بھی گرمی پکڑتا جا رہا ہے۔ حکومت پریشان ہے کیونکہ مارچ اور دھرنے کا راستہ وہ خود ہی سب کو دکھا چکے ہیں یعنی
لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے


حکومت کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، سوائے وزیراعلیٰ کے پی کے اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے، جنہوں نے آزادی مارچ کو خیبر پختونخواہ سے ہی نہیں نکلنے دیں گے اور کوئی مائی کا لال حکومت کو نہیں گرا سکتا، جیسے سخت بیانات دے کر ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اگر مولانا کو عدالتی و دیگر ذرائع سے رام نہ کیا جا سکا تو حکومتی اضطراب اور لہجے میں شدت آتی جائے گی اور سختی سے نمٹنے کی طرف معاملات بھی جا سکتے ہیں۔ ملکی تاریخ ایسی کئی تحریکوں اور لانگ مارچ سے بھری پڑی ہے، جن کا زیادہ تر نتیجہ فوجی آمریت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ 1958ء میں خان عبدالقیوم خان نے صدر سکندر مرزا کے خلاف تحریک چلائی نتیجہ ایوب آمریت، بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی رزلٹ یحییٰ خان، پھر بھٹو کے خلاف 1977ء میں نظام مصطفیٰ تحریک چلائی گئی نتیجے میں ضیاء الحق کو گیارہ سال قوم نے بھگتا، ضیاءالحق کے دور میں جولائی 1980ء کی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد مفتی جعفر حسین کی زکوٰۃ تحریک، جس میں لاکھوں افراد اسلام آباد پہنچے اور حکومت کو ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

ایک مرتبہ پھر ضیاء الحق کے خلاف ہی چلائی جانے والی ایم آر ڈی کی تحریک، جس نے بغیر الیکشن کے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا دیا،بے نظیر نے نواز شریف اور نواز شریف نے بے نظیر کے خلاف لانگ مارچ کر کے جمہوری حکومت کی بساط اپنے ہاتھوں سے لپیٹی، پھر پرویز مشرف کے خلاف وکلاء کی تحریک جس کے سرخیل نواز شریف ٹھہرے، اسی طرح نیٹو سپلائی کے خلاف دفاع پاکستان کونسل کا مارچ، ڈرونز حملوں کے خلاف تحریک انصاف کا مارچ، تحریک منہاج القرآن اور ایم کیو ایم کا مارچ، پھر وائس آف بلوچستان کے نام سے ماما قدیر کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک کا 2000 کلومیٹرز کا پیدل سفر، جو جبری ریاستی گمشدگیوں کے خلاف تھا اور پھر ملکی تاریخ کے سب سے لمبے دورانیہ کا مارچ اور دھرنا جو کہ 126 دن جاری رہا، جس کے بارے میں پی ٹی آئی والے آج بھی کہتے ہیں اگر آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ نہ ہوتا تو دھرنا اب تک جاری ہوتا۔ ادھر جے یو آئی والوں نے بھی کہا ہے عمران خان کا دھرنا نہیں ناچ گانا شو تھا، ہم ایسا مارچ کریں گے کہ سب لوگ انقلاب ایران کو بھول جائیں گے۔

مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی والے عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ان دونوں پارٹیوں کے لئے ایسی ہڈی ثابت ہو رہا ہے جسے وہ نہ تو پوری طرح سے نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ یہ دونوں پارٹیاں اپنے آپ کو سیکولر سمجھتی ہیں اور اس ملک پر حکومت کرنے کی بھی سب سے زیادہ حقدار سمجھتی ہیں۔ لہذا پس پردہ یہ دونوں اس حکومت مخالف مارچ کا اس حد تک ساتھ دیں گے، جہاں تک ان کے اپنے مفادات حاصل ہو سکیں، کیونکہ بلاول بھٹو کہتے ہیں ہم ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو، جبکہ دوسری طرف وہ اس حکومت پر سلیکٹڈ کا کھل کر الزام بھی لگاتے ہیں۔ نون لیگ والے بھی شش و پنج کا شکار ہیں کیونکہ ان سب کو اپنی بڑائی کا پاس بھی رکھنا ہے کہ کہیں یہ مارچ مولانا کے قد کاٹھ کو ہم سے بڑھا ہی نہ دے۔ میری ناقص رائے کے مطابق اگر یہ دونوں پارٹیاں اور اپوزیشن واضح طور پر مخالفت یا ساتھ دینے کی پالیسی پر عمل نہیں کریں گی تو پھر بھی نقصان میں رہیں گی اور مولانا فضل الرحمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے اور آنے والے الیکشن میں ملکی اداروں کی نظر میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔

جے یو آئی کی اس وقت پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور اگر اپوزیشن واضح طور پر ساتھ دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو سر بھی کڑاہی میں ہو گا۔ اس آزادی مارچ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا سوا لاکھ کا مطلب مولانا اگر مارچ شو کامیابی سے پیش کر جاتے ہیں تو زبردست اور اگر نہیں بھی تو اپنی پارٹی میں ایک مرتبہ جان ڈال دیں گے، جس کا اندازہ آپ سب اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ گزشتہ دس دنوں سے تمام ٹی وی چینلز پر مولانا فضل الرحمن کا مارچ اور اسکے کامیابی یا ناکامی کے اثرات پر ٹاک شوز جاری ہیں اور سب سے زیادہ نقطۂ نظر جے یو آئی کا سنا اور پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان سے حکومت نہیں چلائی جا رہی اور اگر وہ خود کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں تو ان کی ٹیم نکمی اور شعبہ جاتی اہلیت سے فارغ ہے۔ اس وجہ سے فیض آباد دھرنے کی طرح ایک جھلک عمران خان کو بھی دکھائی جا رہی ہے کہ اگلے وزیراعظم مولانا صاحب بھی ہو سکتے ہیں جو کہ ماضی میں ایک مرتبہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے 86 ووٹ لے کر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن چکے ہیں۔ا ور دوسری طرف مغرب کو بھی اشارہ دیا جائے گا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ناکام ہوتی ہے، تو پھر ملک میں مذہبی دھڑے زور پکڑیں گے۔
خبر کا کوڈ : 821042
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے