0
Thursday 10 Oct 2019 09:47

امریکہ ناقابل بھروسہ تھا، ہے اور رہے گا

امریکہ ناقابل بھروسہ تھا، ہے اور رہے گا
اداریہ
ترکی نے شمالی شام کے کردوں پر حملہ کر دیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے حسب معمول یوٹرن لیتے ہوئے سیرین ڈیموکریٹک فورسسز کو تنہا چھوڑ کر شمالی شام میں اپنے ٹھکانے خالی کر دیے ہیں۔ امریکہ کے اس رویے پر حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے تمام امریکی اتحادیوں کو نصیحت کی ہے کہ اب بھی ہوش کے ناخن لو اور امریکہ پر بھروسہ کرنا چھوڑ دو۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا " امریکہ نے شامی کردوں کو چشم زدن میں تنہا چھوڑ دیا اور ان سے منہ پھیر لیا۔ یہی انجام ان سب کا ہو گا جو امریکہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ امریکی حکام اپنے اتحادیوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور معاہدوں کا احترام نہیں کرتے۔" حزب اللہ کا یہ بیان امریکی تاریخ اور خطے میں اس کے حالیہ کردار کا آئینہ دار ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنا مفاد پیش نظر رکھا ہے اس کے سامنے اتحادی یا عالمی معاہدے کوئی حیثیت نہین رکھتے۔ امریکی تاریخ اس طرح کی بے وفائیوں، بدعہدیوں اور وعدہ خلافیوں سے بھری پڑی ہے۔

ماضی میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہین کہ امریکی بحری بیڑے کے انتظار میں پاکستان نے مشرقی پاکستان اپنے ہاتھ سے دے دیا۔ افغانستان میں بھی سویت یونین کئی ملکوں کو استعمال کر کے ضرورت کے وقت امریکہ پتلی گلی سے نکل گیا۔ عراق و شام میں بھی دہشت گردوں کے ساتھ آنکھ مچولی امریکی مفادات اور بے وفائیوں کی معمولی نشانیاں ہیں۔ آج سعودی عرب کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے سعودی عرب میں شمشیروں کے رقص میں سعودی عرب کے تحفظ اور سکیورٹی کے وعدے کیے تھے لیکن آج سعودی عرب کبھی آرامکو میں اور کبھی نجران میں یمنیوں سے بری طرح پٹ رہا ہے اور بن سلمان دہائی دے رہا ہے کہ امریکہ انہیں ایران اور استقامتی بلاک کے خطرات سے بچائے لیکن ڈونالڈ ٹرامپ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکہ نے شمالی شام کے کردوں کو بھی کھلے میدان میں ترک فوجیوں کے حملوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ امریکہ کی حقیقت و ماہیت یہی ہے کہ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اکثر اسلامی ممالک اس کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ امریکہ کا ماضی اور حال اس بات کا گواہ ہے کہ اسے اپنے کسی اتحادی کا مفاد عزیز نہیں وہ اسلامی ممالک کو چارے یا اپنے ہتھیار بیچنے کے لیے استعمال کرتا ہے کاش خطے کے عرب اور اسلامی ممالک امریکہ پر بھروسہ کرنے کی بجائے آپسی اتحاد و اتفاق پر بھروسہ کریں۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ مسلمان امریکی چھتری سے نکل کر توحید کے پرچم تلے اکھٹے ہو کر علاقائی دفاعی اتحاد بنا کر ہتھیاروں کی دوڑ سے نکل کر امت مسلمہ کی فلاح و بہبود اور اپنے ملکوں کے عوام کے مفاد کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیں۔ 
خبر کا کوڈ : 821155
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب