0
Thursday 10 Oct 2019 10:23

ہنگو میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازش

ہنگو میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی سازش
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
ضلع ہنگو کا شمار خیبر پختونخوا کے خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے، یہاں امن و امان کے مسائل مختلف ادورا میں سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر اہل تشیع کو یہاں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، طالبان، کالعدم فرقہ پرست جماعت سپاہ صحابہ اور مذہبی شدت پسند سیاسی شخصیات کے الائنس نے ہنگو میں اہل تشیع شہریوں کے گرد گھیرا ہمیشہ تنگ رکھنے کی کوشش کی۔ کبھی خودکش حملوں، دھماکوں، جنگوں، ٹارگٹ کلنگ اور کبھی عزاداری سید الشہداء (ع) کو روکنے کی خاطر شیعہ شہریوں کو اپنی دکانوں، گھروں اور کاروبار سے بھی محروم ہونا پڑا۔ شاہو خیل کی اجاڑ بستی آج بھی سینکڑوں شیعہ خاندانوں کی راہ تک رہی ہے۔ اسی طرح ہنگو میں اہل تشیع کی سیاسی طاقت کو بھی بڑے منظم طریقہ سے کمزور اور منتشر کیا گیا۔ ہنگو کے اہل تشیع نے ان سب مصائب و مشکلات کے باوجود عزاداری سید الشہداء (ع) پر آج تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جس کی ایک واضح مثال شہر میں میزائل، فائرنگ اور راکٹوں کی گھن گرج میں برآمد ہونے والا یوم عاشورہ کا جلوس ہے۔ کئی سالوں تک دہشتگردوں کی جانب سے اس جلوس کو نشانہ بنایا جاتا رہا، تاہم عشق حسینی سے سرشار عزاداروں نے قربانیاں دینے کے باوجود جلوس کی برآمدگی میں کسی کبھی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
 
2006ء یوم عاشورہ کے موقع پر ہنگو شہر میں برآمد ہونے والے مرکزی جلوس میں تکفیری دہشتگردوں نے دھماکہ کردیا، جس کے نتیجے میں درجنوں عزادار شہید اور زخمی ہوگئے۔ جس کے بعد ایک منظم سازش کے تحت فسادات شروع کئے گئے، اہل تشیع کے لبادہ میں شرپسندوں کے ذریعے ہنگو میں اہلسنت دکانوں کو نذر آتش کرایا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ پاک فوج کو علاقہ کا کنٹرول سنبھالنا پڑا، ایک ماہ تک شہر کا مرکزی بازار، تعلیمی ادارے اور سڑکیں بند رہیں۔ 2006ء کے بعد ہر سال یوم عاشورہ کے جلوس پر فرقہ پرستوں اور دہشتگردوں نے حملے کئے، سیکورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود عزاداران امام مظلوم (ع) کو میزائلوں، راکٹوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ تاہم جذبہ شہادت سے سرشار حسینیوں نے عزاداری سید الشہداء (ع) پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ اور یوں کئی سالوں تک یہ جلوس تمام تر رکاوٹوں، حملوں اور قربانیوں کے باوجود جاری رہا۔ 2006ء سے قبل یہ جلوس اپنے شیڈول کردہ روٹ اور طریقہ سے مکمل ہوتا تھا، یعنی جلوس کے دوران سٹیج بھی لگایا جاتا، مجلس اور علمائے کرام کے خطابات بھی ہوتے تھے۔ تاہم سانحہ 2006ء کے بعد سے شرکائے جلوس صرف روٹ مکمل کر رہے تھے۔
 
یوم عاشورہ کے اس مرکزی جلوس پر حملوں کا سلسلہ گذشتہ دو سال قبل تک جاری رہا، یعنی ملک میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے بعد ہنگو میں اہل تشیع کو یوم عاشورہ کا یہ جلوس سانحہ 2006ء کے بعد پہلی مرتبہ سکھ چین کیساتھ اختتام پزید کرنے کا موقع ملا۔ اس مرتبہ یوم عاشورہ کے موقع پر حالات معمول پر آنے کے بعد شرکائے جلوس، علمائے کرام اور جلوس منتظمین نے کئی دہائیوں سے جاری اس جلوس کو اپنے روایتی طریقہ سے منظم کیا، اور سٹیج لگا کر ایک مرتبہ پھر دوران جلوس مصائب شہدائے کربلا بیان کئے گئے۔ واضح رہے کہ اس سال محرم الحرام میں شیعہ، سنی مثالی ہم آہنگی تھی، تاہم ڈی پی او ضلع ہنگو نے علاقہ کے امن پر کاری ضرب لگاتے ہوئے سرکاری مدعیت میں معروف بزرگ عالم دین علامہ خورشید انور جوادی سمیت متعدد شرکائے جلوس کیخلاف ایف آئی درج کروا دی۔ ڈی پی او احسان اللہ کے اس اقدام کیوجہ سے کئی سالوں سے انڈر گراونڈ جانے والے تکفیریوں کو ایک مرتبہ پھر فساد برپا کرنے کا موقع مل گیا۔ کالعدم فرقہ پرست جماعت سپاہ صحابہ کے غنڈوں نے گذشتہ سوموار کو ہنگو شہر میں زبردستی دکانیں بند کروائیں، اشتعال انگیز تقاریر کیں اور سرعام اعلان کیا کہ اب ہم یوم عاشورہ پر شیعوں کو جلوس ہرگز نہیں نکالنے دیں گے۔
 
اہل تشیع علمائے کرام اور مشران نے حالات کا جائزہ لینے اور آئندہ کا لائحہ عمل اپنانے کیلئے کوہاٹ اور ہنگو کے علمائے کرام کو گذشتہ روز جامعہ العسکریہ ہنگو میں بلوایا، جہاں فیصلہ کیا گیا کہ جیسے بھی حالات ہوں عزاداری سید الشہداء (ع) پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو علاقہ پرامن ماحول خراب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے نکات درج ذیل ہیں:

۱۔ ہم مختلف قوتوں کی جانب سے ہنگو کی پرامن فضاء کو خراب کرنے والے غیر مقامی شرپسندوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
۲۔ ہنگو میں امن کی بحالی اور شیعہ، سنی بھائی چارہ قائم کرنے کیلئے ہم نے ۲۰ سال قربانیاں دی ہیں، ہم ہرگز کسی کو علاقہ کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
۳۔ ہنگو بازار کو غیر قانونی طور پر بند کروانے والوں، ہلڑ بازی اور محب وطن پرامن دکانداروں پر پتھراو کرنے والوں اور شرانگیز تقاریر کرنے والوں کیخلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
۴۔ ہم ہنگو انتظامیہ میں انتہائی معتصبانہ اور جانبدارانہ کردار ادا کرنے والے ڈی پی او کے امن دشمن رویے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یوم عاشورہ کے بعد ہنگو کے امن کو خراب کرنے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ڈی پی او کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔
۵۔ بازار میں پتھراو اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کیخلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے، اور انہیں گرفتار کیا جائے۔
۶۔ ہم متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہنگو کا امن خراب کرنے والوں کے مدمقابل شیعہ علماء، مشران اور جوانان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم قانونی اور آئینی احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔
 
ہنگو کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی تمام تر ذمہ داری ڈی پی او احسان اللہ پر عائد ہوتی ہے، بجائے عزاداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے، ڈی پی او نے بظاہر منظم طریقہ سے علاقہ کی فضاء کو خراب کیا اور شرپسندوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ فرقہ وارانہ مسائل پیدا کریں۔ حیرت ہے کہ ہنگو میں ذکر امام حسین علیہ السلام بیان کرنا جرم بن گیا اور سرعام بزور طاقت بازار بند کرانا، پتھراو کرنا اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا جرم نہیں ٹھہرا۔ ہنگو کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے محسوس یہی ہوتا ہے کہ ڈی پی او نے کسی مزموم منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایسا قدم اٹھایا۔ تاہم اب تک اہل تشیع علمائے کرام اور مشران کا کردار انتہائی مثبت رہا ہے۔ تمام تر دباو اور ناانصافی کے باوجود اہل تشیع کی جانب سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا، جوکہ ایک خوش آئند امر ہے، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر ہنگو کے مخصوص حالات کا نوٹس لے، ڈی پی او کی جانب سے غیر قانونی اقدام کی انکوائری کرائی جائے، اور انہیں اس انتہائی اہم اور حساس عہدے سے ہٹایا جائے، شہر کا امن خراب کرنے والے شرپسندوں کیخلاف فوری کارروائی کی جائے، تاکہ ہنگو کے حالات مزید خراب ہونے سے بچ سکیں۔
خبر کا کوڈ : 821161
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب