0
Thursday 10 Oct 2019 21:37

پاراچنار، طالبان کی نقل و حرکت دوبارہ شروع

پاراچنار، طالبان کی نقل و حرکت دوبارہ شروع
رپورٹ: روح اللہ طوری

آج علی الصبح پاراچنار کے جنوب مغرب میں خرلاچی بارڈر کی جانب جانے والی مین سڑک پر واقع اسلامیہ پبلک سکول کے پاس ایک ہائی ایس گاڑی سے مسلح طالبان اترئے، جس سے سکول کے بچوں اور پاس واقع رہائیشیوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ تاہم چوکیدار نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے، اطراف کے عوام کو بذریعہ ٹیلی فون مطلع کر کے فوراً بلا لیا، آناً فاناً عوام کی کمک سے پوزیشن سنبھال کر گاڑی اور مسلح طالبان کو نرغے میں لیا۔ ملزمان سے انکے موبائل سیٹ اور تین واکی ٹاکی (وائرلیس) سیٹ بھی برآمد کرلئے گئے۔ موبائل سیٹوں میں سے اکثر میں افغان سیمز نصب تھیں۔ اور میموری میں موجود نمبرز میں سے اکثر افغان نمبر تھے۔ یرغمال افراد میں سے اکثر کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ملزمان سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ انکے پاس دو مشین گن، تین عدد کلاشنکوف اور ایک راکٹ لانچر موجود تھی۔ نیز انکا قافلہ تین گاڑیوں میں موجود 32 افراد پر مشتمل تھا۔ وقوعہ پر انکی ایک گاڑی جب خراب ہوئی تو گاڑیوں سے اتر کر انتظار کرنے لگے۔ اس موقع پر سکول چوکیدار شاید خوف زدہ ہوا، اور انہوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ جس پر ارد گرد کے دیہات سے لوگ جمع ہوگئے۔ اور انہیں اپنے نرغے اور حصار میں لیا۔ اسکے ساتھ ہی ہماری دیگر دو گاڑیاں، جن میں سے ایک ہائی ایس اور دوسری ڈبل کیبن ڈاٹسن (پک اپ) تھی، اور ان میں سوار کچھ افراد موقع سے فرار کرگئے۔ اور اپنے ساتھ اسلحہ اور دیگر ضروری سامان بھی ساتھ لے گئے۔ ایک شخص نے کہا کہ انکا گروپ کمانڈر قلندر نامی شخص ہے۔ جبکہ دوسرے کا کہنا تھا، کہ انکا علاقائی کمانڈر حبیب اللہ منگل ہیں، جسکا تعلق تری منگل کے ساتھ واقع گاؤں کوتری سے ہے۔ ایک شخص نے خود ہمارے بندے سے گفتگو کے دوران منت سماجت کرتے ہوئے کہا کہ خدا کیلئے انہیں کچھ نہ کہا جائے، اور یہ کہ انکا تعلق کسی طالبان گروپ سے نہیں بلکہ وہ سب سرکاری لوگ ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ انکا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ اور یہ کہ انکا علاقائی کمانڈر حبیب اللہ ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں جو مشن تفویض کیا گیا ہے، وہ سرحدوں پر جمع داعش کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یا کسی پاکستانی کو نقصان پہنچانا انکا مشن ہرگز نہیں۔ 
اس واقعے کی خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شروع میں افواہ یہ پھیل گئی کہ طالبان نے اسلامیہ پبلک سکول کے اندر داخل ہوکر، فائرنگ کرکے متعدد بچوں کو قتل کیا ہے۔ تاہم بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی۔ اس خبر کے ساتھ ہی عام افراد کے علاوہ انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے درجنوں رہنما اور کارکن موقع پر پہنچ گئے۔ اور ساتھ ہی پاک فوج اور ایف سی کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔ سرکار نے طالبان کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ مگر بپھرے ہوئے عوام انہیں حوالے کرنے پر تیار نہ تھے۔ تاہم انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کی مداخلت پر یرغمالیوں کو عوام سے تحویل میں لیا گیا۔ اور بعد میں انہیں سرکار کے حوالے کردیا گیا۔ تحریک کے رہنماؤں نے اپنا پالیسی بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہم نے ذمہ دار افراد پر محرم سے قبل بھی یہ واضح کیا ہے کہ علاقے کی حساس صورت کے پیش نظر کسی اجنبی اور نان لوکل کو علاقے میں مسلح ہوکر حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک اور انجمن دو قومی ادارے ہیں۔ عوام ان سے بار بار استفسار کرتے ہیں۔ اور سرزنش بلکہ ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ تم لوگوں نے طالبان کے حوالے سے حکومت سے سودے بازی کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایک ایسی صورت میں جبکہ ہم خود اس علاقے میں مسلح نہیں پھیر سکتے، طالبان کا مسلح ہوکر درجنوں سرکاری چیک پوسٹیں عبور کرتے ہوئے ہمارے علاقے میں ایسے بے جگری سے پھیرنا نہایت معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ ایسی حرکتوں کا نہایت برا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ طالبان نے دس سال تک ہماری جانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ہمارے مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد اذیتیں پہنچائی ہیں۔ لہذا ہمارے جوانوں کے لئے انکی ایسی حرکتیں ناقابل برداشت ہیں۔ ارد گرد پہاڑوں میں داعش اور طالبان کی بڑے پیمانے پر موجودگی پر مبنی خبروں کے جواب میں علامہ عابد حسینی کا کہنا تھا کہ دو ماہ قبل سابق بریگیڈیئر پاک فوج کے ساتھ اس حوالے سے ہمارے افراد نے تفصیلی بات کی تھی۔ ان سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے پہاڑوں میں مشکوک افراد کی موجودگی ہمارے لئے پریشانیوں کا باعث ہے۔ چنانچہ اگر انہیں اس علاقے میں افراد کی ضرورت ہے، تو ہم خود جوان فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کیونکہ اجنبی لوگوں پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں۔ ماضی میں ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہم باربار نقصان اٹھا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پورے کرم بالخصوص پاراچنار شہر میں مقامی لوگ قانونی اور اپنا لائسنس یافتہ اسلحہ بھی لیکر گھوم پھر نہیں سکتے۔ محرم الحرام اور صفر کے ایام میں تو سیکیورٹی اتنی سخت ہوتی ہے کہ سرکاری انٹری پاس کی حامل مخصوص گاڑیوں کے علاوہ شہر میں کوئی بھی عام گاڑی داخل نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ مسلح نان لوکل اور مشکوک افراد کا ایسے دلیرانہ طریقے سے علاقے میں گھومنا پھیرنا سیکیورٹی فورسز اور ذمہ دار اداروں پر ایک سوالیہ نشان ہے، کہ بھاری اسلحہ سے بھری ایک گاڑی ٹل سے درجنوں چیک پوسٹوں کو عبور کرکے پاراچنار کیسے پہنچ جاتی ہے۔ اگر صورتحال ایسی ہے تو ایک خودکش یا دہشتگرد کو پاراچنار یا اطراف میں واقع کسی گنجان آباد علاقے میں داخل ہونے سے کون روک سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 821285
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب