0
Friday 11 Oct 2019 05:35

گلگت بلتستان کا مقدمہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں

گلگت بلتستان کا مقدمہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں
رپورٹ: ایل اے انجم

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2019ء پر عملدرآمد کیس کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بنچ تشکیل دیدیا، جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم لارجر بنیج 17 اکتوبر کو کیس کی سماعت کریگا۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم لارجر بنچ میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 17 جنوری 2019ء کو گلگت بلتستان کے حقوق کے بارے میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا اور آرڈر 2019ء کو اس فیصلے کا حصہ بناتے ہوئے وفاقی حکومت کو دو ہفتے میں عملدرآمد کا حکم دیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے نو ماہ گزرنے کے باؤجود اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سترہ جنوری کے فیصلے کے ایک ماہ بعد وفاق نے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اس آرڈر کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے زریعے نافذ کرنا چاہتی ہے، درخواست میں آرڈر 2019ء میں کچھ ترامیم بھی تجویز کی گئی تھیں جس میں عبوری صوبے کی شق کو ختم کرنے، سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو بھی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جوڈیشل کمیشن کی ہیت میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی تھی۔ جس کیلئے عدالت سے اجازت طلب کی گئی تھی۔

بعد میں گلگت بلتستان بار کونسل اور ہائیکورٹ بار نے وفاق کی مجوزہ ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دائر کی، ساتھ ہی وکلاء نے آرڈر 2018ء کے تحت گلگت بلتستان میں کی گئی تمام تر تقرریوں کو بھی چیلج کیا۔ کیس کی آخری سماعت 13 جون کو ہوئی تھی بعد میں عدالتی چھٹیوں کی وجہ سے مزید سماعت نہ ہو سکی اب یہ کیس ایک بار پھر 17 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق اس وقت دو درخواستیں دائر ہیں، ایک وفاقی حکومت کی طرف سے جبکہ دوسری درخواست گلگت بلتستان بار کونسل کی جانب سے دائر کی گئی ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بنچ انہی درخواستوں کی سماعت کریگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں آرڈر 2019ء میں کئی ترامیم کی اجازت طلب کی گئی ہے جبکہ جی بی بار کونسل کی جانب سے دائر درخواست میں سترہ جنوری کے عدالتی فیصلے پر من و عن عمدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 آرڈر 2019ء کیا ہے؟
17 جنوری 2019ء کو سریم کورٹ نے جی بی کی آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق کے کیس میں ایک تاریخٰی فیصلہ دیتے ہوئے وفاق کو حکم دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت بلتستان کو تمام تر بنیادی آئینی حقوق دینے کے پابند ہے، سپریم کورٹ نے آرڈر 2019ء کو اپنے فیصلے کا حصہ بناتے ہوئے وفاقی حکومت کو دو ہفتوں میں اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا، عدالت کی یہ ڈیڈلائن یکم فروری کو ختم ہو گئی، اس کے بائوجود وفاقی حکومت نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ آرڈر 2019ء کے ابتدایئے میں جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کا حکم دیا گیا جبکہ گلگت بلتستان کو ستر سال بعد سپریم کورٹ تک رسائی دیدی گئی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی مشروط اجازت دیدی، اس سلسلے میں گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 103 میں یہ گنجائش پیدا کر دی گئی ہے کہ اگر گلگت بلتستان حکومت کا وفاق کے ساتھ کوئی تنازعہ پیدا ہو یا گورننس ریفارمز 2019ء کی کسی شق کے حوالے سے کوئی تنازعہ ہو یا اس کو تبدیل یا ترمیم کے حوالے سے کوئی ابہام پیدا ہو، یا عدالتی نظرثانی جو ریفارمز سے متعلق ہو تو اس صورت میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جا سکے گا۔

عدالتی آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا اس سے پہلے یہ تقرری سمری کے زریعے وزارت امور کشمیر کرتی تھی، جوڈیشل میں گلگت بلتستان گورننس ریفارمز2019ء کے آرٹیکل 81 میں سپریم ایپلٹ کورٹ اور چیف کورٹ گلگت بلتستان میں ججوں کو بھرتی کرنے کے طریقہ کار کو وضع کیا گیا ہے کہ ان دو عدالتوں کے ججز بذریعہ جوڈیشل کمیشن تعینات کئے جائیں گے، سپریم ایپلٹ کورٹ کے ججز کو تعینات کرنے کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں چیف جج سپریم ایپلٹ کورٹ اس کے چیئرمین ہونگے، سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان ممبر ہوگا، سپریم ایپلٹ کورٹ کا سینیئر جج بھی ممبرز میں شامل ہوگا، جبکہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی ریٹائرڈ جج جس کو چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کریگا، کو بھی دو سال کیلئے جوڈیشل کمیشن کا ممبر تعینات کیا جائے گا، وزیر قانون گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری جی بی بھی اس کمیشن کے ممبر ہوں گے، جبکہ سپریم ایپلٹ کورٹ کا ایک سینیئر وکیل جس کو بار کونسل نامزد کریگی، کمیشن کا دو سال کیلئے ممبر ہوگا، جوائنٹ سیکرٹری جی بی کونسل اس کمیشن کا سیکرٹری ہوگا۔ آرڈر میں ترمیم کا اختیار مشروط طور پر صدر کو دیا گیا ہے تاہم یہ اختیار سپریم کورٹ کی اجازت سے مشروط ہو گی۔

قانونی ماہرین کی رائے
ادھر قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے اب یہ طے کرنا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں آرڈر 2019ء لاگور ہے یا آرڈر 2018ء؟ اگر سپریم کورٹ یہ فیصلہ دیتی ہے کہ گلگت بلتستان میں اس وقت آرڈر 2019ء لاگو ہے تو آرڈر 2018ء کے تحت ہونیوالی تمام تر تقرریاں کالعدم ہو جائیں گی، قانونی ماہرین کے مطابق جی بی میں اس وقت سپریم کورٹ کا فیصلہ نافذ العمل ہے، اس کے نتیجے میں آرڈر 2019ء ہی نافذ تصور ہوگا کیونکہ سترہ جنوری کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اسی روز ہی نافذ ہو چکا ہے۔ چونکہ عدالت نے آرڈر 2019ء کو اپنے فیصلے کا حصہ بنایا تھا اس لیے عدالتی فیصلے کے مطابق یہ آرڈر اس وقت نافذ ہے تاہم مزید وضاحت سپریم کورٹ خود کریگی اور واضح فیصلہ صادر کریگی۔ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت نے آرڈر 2018 کے زریعے چیف الیکشن کمشنر اور سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج کی تقرری عمل میں لائی ہے، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج کی تقرری کو جی بی کے وکلا نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ساتھ ہی اپیلیٹ کورٹ میں مزید ججوں کی تقرری کی سمری بھی وزارت امور کشمیر بھجوا دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس جی بی کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری بغیر کسی جوڈیشل کمیشن کے زریعے عمل میں لائی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 821345
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب