0
Friday 11 Oct 2019 06:36

اب منزل ہے کربلا

اب منزل ہے کربلا
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
کربلا، امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے مقدس مزارات کی زیارت کیلئے دنیا بھر سے لوگ اس وقت رواں دواں ہیں، ہر ایک اپنے شیڈول اور حالات کے مطابق محو پرواز ہے، جب انسان کسی سفر پر نکلتا ہے تو سامان سفر تیار کرتا ہے، سفر کی صعوبتوں اور ممکنہ مشکلات کیلئے خود کو تیار کرتا ہے، کربلا اربعین امام حسینؑ کیلئے جانے کیلئے دنیا بھر کے عشاق بھی اس سفر کیلئے کربلا کا رخ کرتے ہیں، تو عراق کے موسم اور حالات کے مطابق سامان سفر تیار کرتے ہیں۔ پاکستان سے بھی عاشقان امام حسینؑ اپنے خانوادگان اور دوستان و احباب کیساتھ اور کبھی اکیلے ہی اس سفر کیلئے آمادہ ہوتے ہیں، مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گذشتہ دو برس سے کم از کم اس سفر مقدس پہ جانے والے پاکستانیوں کیلئے مشکلات اور رکاوٹوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بار تو حد سے زیادہ مشکلات اور مسائل در پیش آئے، حتیٰ کہ پاکستانی حکومت کو اعلیٰ سطح پر عراقی ویزوں کے اجراء کی پالیسی کے حوالے سے بھرپور طریقہ سے کردار ادا کرنا پڑا، تو مسئلہ کسی حد تک حل ہوا۔

مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دوران ٹریول ایجنٹس اور قافلہ سالاروں یا گروپ ٹکٹس اٹھانے والوں کا کروڑوں میں نقصان ہو چکا تھا، اس کیساتھ ساتھ ہزاروں لوگ جن کے ٹکٹس ضائع ہوئے، شائد ان میں سے بڑی تعداد زیارت سے بھی محروم رہ جائیں، اس لیے کہ ایئر لائنز کی پالیسی نے بھی لوگوں خوب متاثر کیا ہے، بالخصوص ٹکٹس کی تاریخ کی تبدیلی یا واپسی کے آپشن کے ناہونے سے نقصان سے متاثر ہونے کی صور ت میں زائرین اور قافلہ سالار بہت زیادہ نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ اصل نقصان جو اس وقت محسوس کیا جانا چاہیئے وہ اس مقدس سفر کے حوالے سے مختلف قسم کی افواہوں، رکاوٹوں، مسائل و مشکلات ایجاد کر کے لوگوں کی بڑی تعداد یعنی ایک ملک کے لاکھوں لوگوں کے اعتماد کو خراب کرنا ہے، جس سے اس اجتماع کی رونق اور پر شکوہ ہونے سے خائف گروہوں اور ممالک کی کسی حد تک کامیابی (عارضی) اور عراقی حکومت اور اربعین پر عشاق امام حسینؑ کیلئے مایوسی (عارضی) کا باعث بنا ہے۔ دراصل اربعین کے عالمی پر شکوہ اجتماع نے بہت سے ممالک و حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

بالخصوص تشیع و مقاومت کی طاقت سے خائف یہ سمجھتے ہیں کہ امام حسینؑ کی محبت نے اہل تشیع کو تمام تر سازشوں کے باوجود مجتمع رکھا ہے اور اربعین میں دوران مشی پیش آنے والے مہمان نوزی کے بے مثال نظارے اور دنیا بھر کے عشاق امام حسینؑ کا زائرین کیلئے دل کھول کے مہمان نوازی کرنا، نیز بہت ہی منظم انداز میں دنیا کی ہر ضرورت انسانی کو ایک صف (نجف سے کربلا) میں لا کے کھڑا کر دینا اور زائرین کے استفادہ کیلئے، کسی بھی مشکل اور مسئلہ کے حل کیلئے ایثار گری کے ان مٹ نقوش مرتب کرنا، دنیا نے اس سے پہلے کبھی نا دیکھا تھا اور نا ہی اس کی نظیر کہیں اور ملتی ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ حج کے عظیم الشان موقعہ پر اہل حجاز کیلئے یہ موقعہ بنتا تھا کہ وہ اللہ کے مہمانوں کیساتھ ایسا برتائو کر کے ایک مثال سامنے لاتے، مگر ہم سب دیکھتے ہیں کہ حج بس مناسک حج کا ایک لگا بندھا نام رہ گیاہے، اس کی اصل روح جب سے نجدی حکمران آئے ہیں ختم ہو گئی ہے اور حجاج کرام کیساتھ ان کے انتہائی سخت اور درشت لب و لہجہ و رویہ کے باعث ان سے کوئی بھی حاجی خوش نہیں ہوتا۔

دوسرا یہ کہ اتنے زیادہ پیسے خرچ کر کے ان کا ناقص انتظام و انصرام ہر سال سینکڑوں حجاج کی اموات کا باعث بنتا ہے، حجاج کرام کو جس طرح لوٹا جاتا ہے اور مناسک کے دوران یا مدینہ منورہ میں مقدس ترین مقامات پہ ان کے ملائوں کا توہین آمیز رویہ کسی بھی صور ت قابل تحمل نہیں، جس سے ان کے ساتھ الفت و محبت کا رشتہ تو درکنار ان سے جان چھڑوانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ اس کے مقابل اربعین امام حسینؑ کیلئے جانے والے زائرین کیساتھ عراق میں یا پھر ایران میں بلکہ اب تو پاکستان میں بھی کئی شہروں بشمول کوئٹہ زائرین مسافرین کی مہمان نوازی اور ایثار گری کے مظاہرے ایک نئی ثقافت اور کلچر کو جنم دے چکے ہیں، جس کی طاقت نے ہی دشمن کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ سازشوں میں مشغول نظر آتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اب جب کفالہ پہ عراقی ویزہ پاکستان میں قائم سفارت خانہ ( اسلام آباد ) سے شروع ہو چکا ہے تو بہت سے گروہ، جماعتیں اور شخصیات اپنے اپنے طور پہ یہ میسیجز چلا رہے ہیں کہ ان کی کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہوا۔

مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایہ ایسا مسئلہ تھا کہ جسے سب جماعتیں بلا جھجھک حل کرنا چاہتی تیں اور مختلف شخصیات بھی اپنے تئیں کوششیں کر رہی تھیں، اس میں بھی شک نہیں کہ زائرین کی بڑی تعداد اور نیک و متقی لوگ اس مسئلہ اور کاوٹ کے حل کیلئے دست بہ دعا تھے، تسبیحات و ذکر کی محافل چل رہی تھیں، جگہ جگہ اس حوالے سے دل سے دعائیں نکل رہی تھیں، لوگوں نے منتیں مان رکھی تھیں کہ مومنین کو عراقی ویزہ مل جائے اور یہ مشکل حل ہو، بحرحال اس میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کیلئے ہر ایک کی کوشش، خواہش اور تڑپ و تمنا تھی، جو اب پوری ہو چکی ہے، مگر اس کا کریڈت لینے کی بجائے اس چیز کی ضرورت ہے کہ ان عوامل پر غور کیا جائے کہ جن کے باعث پوری قوم اتنی بڑی آزمائش سے گذرے اور سب جیسے سولی پہ لٹکے رہے۔ ان عوامل کو مستقبل میں نا ہونے دیا جائے، اس میں سب سے بڑی ذمہ داری تو ان لوگوں کی بنتی ہے جو ویزہ پراسس کرواتے ہیں، ان کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کی ترجیح فقط پیسہ کمانا ہے چاہے ملک کی عزت دائو پر لگ جائے، یا پوری قوم کو ان کی سزا بھگتنا پڑ جائے۔

ایرانی ویزہ تو سٹکر ویزہ ہوتا ہے جو پاسپورٹ پہ لگتا ہے ان کی طرف سے پہلے سے بہتر چل رہے ہیں۔ معاملات اگرچہ لاہور ویزہ آفس میں لوگوں کو کافی اذیت میں دوچار رکھا گیا، مگر ڈرا باکس سسٹم کی وجہ سے کچھ دیگر معاملات کنٹرول میں آ چکے ہیں، وہ لوگ جو ایران جا کے غائب ہو جاتے ہیں ان کا راستہ کسی حد تک رکا ہوا ہے، اس لیئے کہ ڈرا باکس رکھنے والے اس معاملے میں احتیاط برتتے ہیں، مبادا کسی غلط بندے کو ویزہ دلوانے سے ان کا مستقل کاروبار اور آمدنی کا ذریعہ ہاتھ سے نا چلا جائے، عراق میں چونکہ گروپ ویزہ لسٹ کی شکل میں لگتا ہے اس لیئے یہاں تو سراسر قافلہ سالاروں کی ذمہ داری بنتی ہے، اگر یہ لوگ خرابی نا کریں اور کسی ایسے بندے کو زائرین کی لسٹ میں شامل نا کریں جس کے بارے انہیں علم ہو کہ وہ عراق جا کے غائب ہو جائے گا، اور مزدوری کرنے لگے گا، اسیطرح اربعین کے موقعہ پر جیب تراش اور بھیک مانگنے والے بھی فیملیز اور گروپس کی شکل میں پہنچتے ہیں۔ میں جب 2013ء میں گیا تھا تو واپسی پہ تفصیلی سفر نامہ لکھا تھا اس میں ا س خطرے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس وقت جو عزت سبز پاسپورٹ کو عراقی دے رہے ہیں مستقبل میں اس پر حرف آنے کا اندیشہ ہے اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔

اب پاکستانیوں کو ان لوگوں نے بہت بدنام کر دیا ہے، پہلے اچھے ہوٹلز اور جگہیں پاکستانیوں کو بآسانی ملتے تھے اور عام دکاندار بھی بہت عزت و اکرام سے پیش آتے تھے۔ خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ عراقیوں کی طرح پاکستانیوں نے بھی طالبان و داعش جیسی منحوس تنظیموں کا مقابلہ کیا ہے اور بہت بڑی قربانیاں بھی دی ہیں، اسیطرح پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ہر سال محرم، عرفہ، اور اربعین کے موقعہ پر سفر عشق و عقیدت پہ عازم ہوتے ہیں، اسیطرح پاکستانی پوری دنیا سے جہاں جہاں بھی جس جس ملک میں رہائش پذیر ہیں عزاداری و زیارات میں اہم کردار رکھتے ہیں اور واجبات شرعیہ کی ادائیگی میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اب اگر اس دفعہ حکومت عراق کی پالیسی کو ہی دیکھا جائے تو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ ہماری حکومت و عراقی حکومت میں تعلقات کس نوعیت کے ہیں، موجودہ مسائل حل ہونے کے بعد ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان آیا ہے کہ انہوں نے عراقی وزیر خارجہ سے بات کی ہے اور مسئلہ حل کیا ہے۔ اب پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ عراقی وزیر خارجہ کو پاکستان کی دعوت بھی دی گئی ہے، شائد یہ موجودہ حکمرانوں کا پہلا اعلیٰ سطحی یا خارجہ محاذ کا رابطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ زیارت آئمہ  کے حوالے سے اہل پاکستان عراق کو خطیر رقم اور زر مبادلہ دے رہے ہیں، مگر افسوس کہ ہمارا اوڑھنا بچھونا سعودیہ، امریکہ اور چین ہیں، جن کے بغیر ہم ایسے ہیں جیسے ہیں ہی نہیں، اگر حکومتی سطح پر روابط مستحکم ہوں تو کوئی شک نہیں کہ اہل پاکستان کیلئے بھی بہت سی آسائشات مل سکتی ہیں۔

حج کی طرح زیارات پہ جانے والے سنی و شیعہ پاکستانیوں کی تعداد کم نہیں ہے کہ حکومت اس کو نظر انداز کرتی رہے۔ نتیجہ کے طور پہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک عالمی معنوی و روحانی سفر جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیئے جا رہے ہیں، اس کو ناکام بنانے کیلئے کئی جہتوں سے کام کیا جا رہا ہے، ان سازشوں اور مشکلات و مسائل کو ہمارے قائدین اور ملت کے خیر خواہان و دردمندان کو بھرپور طریقہ سے ناکام بنانے کی کوشش کرنا ہو گی، اور حکمرانوں کو مجبور کرنا ہو گا کہ وہ حکومت عراق سے اچھی سطح پر مزاکرات کر کے مستقل پالیسی وضع کروائے۔ جس طرح کئی ممالک کے شہریوں کیلئے پاکستانی حکومت نے ویزہ کی سہولیات متعارف کروائی ہیں، ایسے ہی عراق کیساتھ بھی معاملات طے ہونے چاہیئے، اس کیلئے اربعین گذر جانے کے بعد ہمارے قائدین کو گھر نہیں بیٹھنا چاہیئے، بلکہ متعلقہ روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومتی سطح پر ان مسائل کے حل کیلئے مدد فراہم کرنا چاہیئے تاکہ اس بار کے اربعین کی طرح اہل پاکستان سید الشہدا امام حسینؑ و اصحاب باوفا کے مزارات مقدس و تاریخی مقامات کو ملاحظہ کر سکیں اور اپنی روحانی پرواز کو بلند کر سکیں، معنوی مقام کی طرف گامزن ہو سکیں اور اپنے قلوب کی طہارت و پاکیزگی نیز عقیدت و محبت کی وادی میں غوطہ زن ہو کے معرفت و عشق کی منازل کو پا سکیں۔ اسی میں اطمینان ہے، اسی میں قرار ہے، اسی میں سکون ہے، اسی میں بلندی ہے، اسی میں منزل و ہدف کا حصول ہے۔
خبر کا کوڈ : 821358
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب