0
Sunday 13 Oct 2019 12:09

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (3)

ایران کا موجودہ نظام اور تھیوکریسی، ایک تحقیق، ایک تجزیہ (3)
تحریر: سید امتیاز علی رضوی

گذشتہ سے پیوستہ
اب ہم یہ جائزہ لیں کہ جمہوری اسلامی ایران جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں تاکہ پہلی صورت میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہاں تھیوکریٹک حکومت نہیں ہے اور دوسری صورت میں دلیل بنے کہ وہاں تھیوکریسی ہے۔ پہلے بہتر یہ ہے کہ اجمالی طور پر جمہوریت اور جمہوری نظاموں کو سمجھ لیا جائے۔ علمائے سیاست کے نزدیک کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں عوام کو حکومت منتخب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری نظاموں میں عوام کو بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ منتخب نمائندے اپنے حلقے کی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح افراد پر قانون کی بالادستی جمہوریت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اگرچہ جمہوریت کی جامع تعریف میں خود علمائے سیاست کا بڑا اختلاف ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے، جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا ہو۔

ہم مذکورہ چار اصولوں پر نظام جمہوری اسلامی ایران کا جائزہ لیتے ہیں، یعنی:
(۱) عوام کو حکمران منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا۔
(۲) عوام کو بنیادی حقوق ملنا۔
(۳) عوامی نمائندوں کا اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا۔
(۴) افراد پر قانون کی بالادستی ہونا۔
اگر یہ چار اصول اسلامی حکومت میں موجود و رائج ہیں تو ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظام جمہوری ہے تھیوکریسی نہیں۔  
 
ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے جمہوری اسلامی کے قیام کے لئے ایک عوامی ریفرنڈم کرایا گیا۔ اگر کوئی تھیوکریٹک حکومت بنانا مقصود ہوتا تو عوام کو کہا جاتا کہ اب اللہ تعالی کے نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار آگیا ہے، لہذا کسی عوامی رائے کی اہمیت نہیں ہے، جیسا کہ طالبان اور داعش کی حکومتوں کے قیام میں کیا گیا۔ کیا وہاں کسی عوامی ریفرنڈم کا ثبوت ملتا ہے۔ جمہوری اسلامی کے قیام کے لئے جو عوامی ریفرنڈم ہوا اس ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد آئین ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور ان منتخب نمائندوں نے اسلامی جمہوری اصولوں پر مشتمل ایک نیا آئین مرتب کیا، جو یکم اپریل 1979ء کے دن عوام کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ ایرانی عوام نے بھاری اکثریت سے اس نئے آئین کی منظوری دی۔ جمہوری نظاموں میں آئین کو عوام یا عوام کے نمائندے منظور کرتے ہیں اور ایران میں جو آئین اب رائج ہے، وہ عوامی منظوری سے نافذ ہوا ہے۔ لہذا اس لحاظ سے ایرانی انقلابی نظام جمہوری اصولوں پر قائم ہوا ہے اور پورے آئین میں دور دور تک تھیوکریسی کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ 
 
چونکہ ایران کے آئین کی رو سے رہبر کا منصب سب سے اعلیٰ اور برتر ہے اور اسے فقیہ ہونا چاہئیے، لہذا دشمن نے اس نکتہ کو اس جمہوری اسلامی نظام  پر تھیوکریسی کی تہمت لگانے کے لئے استعمال کیا، جبکہ رہبر کا تعین بھی انتخاب سے ہوتا ہے اور اس منصب کے لئے انتخاب ماہرین کی کونسل، مجلس خبرگان کرتی ہے، جو خود عوامی رائے سے منتخب ہوتی ہے اور عوامی ووٹ سے معرض وجود میں آتی ہے۔ یہی منتخب اسمبلی رہبر کے واجد الشرائط نہ رہنے پر اسے معزول بھی کر سکتی ہے۔ امام خمینی کی رحلت کے بعد موجودہ رہبر کا انتخاب مجلس خبرگان نے آئین کے انہی اصولوں کو مد نظر رکھ کر کیا تھا اور اس زمانے میں موجود مسلمہ فقہاء، جنہیں مذہبی حوالے سے مراجع تقلید کہا جاتا ہے، کو نظر انداز کرکے ایران کے صدر آیت اللہ خامنہ ای کو جو انتظامی اور سیاسی بصیرت کے حوالے سے مراجع تقلید سے بہتر تھے، کو منتخب کیا تھا، جو اس کا ایک عملی ثبوت ہے کہ رہبر کے انتخاب کے لئے صرف فقیہ ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ فقاہت کے ساتھ سیاسی بصیرت اور اچھا منتظم ہونا بھی لازمی ہے۔

یاد رہے کہ جب موجودہ رہبر کا انتخاب کیا گیا تھا، اس وقت کوئی بھی انہیں مرجع تقلید کے عنوان سے نہیں پہچانتا تھا اور نہ ہی ان کے نام کے ساتھ آیت اللہ کا لقب تھا، بلکہ انہیں حجةالاسلام کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ رہبر کا انتخاب مذہبی ادارہ (حوزہ علمیہ قُم) نہیں، بلکہ منتخب آئینی اور سیاسی ادارہ (مجلس خبرگان) کرتا ہے، جو اپنے مقررہ وقت پر رہبر کے اپنے عہدے پر باقی رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔ اگر جمہوری اسلامی ایران کوئی تھیوکریٹک حکومت ہوتی تو اس میں رہبر اور سب سے اعلیٰ منصب دار کا کیا انتخاب کیا اس طرح کیا جاتا؟،۔ ایران میں صدر جمہوریہ کو بھی براہ راست عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ ایران کے موجودہ رہبرآیۃ اللہ خامنہ ای عوام کی منتخب مجلس خبرگان سے منصب رہبری کے لئے چنے جانے سے پہلے دو مرتبہ ایران کے صدارتی منصب پر براہ راست انتخابات کے ذریعے بھاری اکثریت سے منتخب ہوچکے تھے۔ ایران میں مقننہ یعنی اسلامی مجلس شوریٰ کا انتخاب ہر چار سال بعد عوام بالغ رائے دہی کے اصول پر کرتے ہیں۔ انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک ہمیشہ مجلس/پارلیمنٹ کا انتخاب آئینی تقاضوں کے مطابق وقت مقررہ پر ہوتا رہا ہے، چاہے جنگ ہو یا امن۔

یہ منتخب صدر اپنی کابینہ کے وزراء کو نامزد کرتا ہے اور عوام کی منتخب مجلس کے سامنے منظوری کے لئے پیش کرتا ہے۔ ہر ترقی یافتہ جمہوری معاشرے اور ملک کی طرح ایران میں بھی لوگوں کو آئینی آزادی اور بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ عدلیہ، انتظامیہ کے اثر سے آزاد ہے، قانونی مساوات بھی ہے اور قانون و آئین کی بالادستی بھی۔ نیچے سے لے کر صدر اور رہبر تک ہر کوئی دستور کا پابند ہے۔ ہرکسی حکومتی عہدہ دار کا کڑا احتساب ہوتا ہے۔ وزرا، صدر اور حکومتی عہدیدار سب پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہیں۔ صدر جمہوریہ،  پارلیمنٹ اور رہبر کے سامنے جوابدہ ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جو نظام حکومت بنایا گیا، اسے بعد میں نظام ولایت فقیہ کے نام سے شہرت ملی، اگرچہ انقلابی تحریک اور آئین سازی کے مراحل میں نظام جمہوری اسلامی کی اصطلاح ہی استعمال کی جاتی تھی۔ یہ نظام ولایت فقیہ چونکہ نظام شہنشاہیت کو ہٹا کر آیا تھا، لہذا کچھ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نظام تھیوکریسی کی شکل ہے اور  آمریت ہی ہے، جس میں شہنشاہ کی طرح ایک فقیہ کو مطلق العنان حاکم بنا دیا گیا ہے۔

مغرب نے بھی اس بات کو خوب اچھالا اور ایران میں رائج نظام کو غیر جمہوری اور تھیوکریٹک نظام کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئ۔ جس سے ایران کے حامی انقلابی لوگ بھی دھوکے میں آگئے اور ولی فقیہ کو بادشاہ ہی کی طرح مطلق العنان سمجھنے لگے کہ جو اسلام اور خدا کا نمائندہ بن کر، جو جی میں آئے کر گذرے۔ جبکہ فقیہ کی بنیادی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں اپنی ہوائے نفس کو داخل کر لے تو وہ خود بخود اس عہدے سے نا اہل ہو جاتا ہے۔ ذیل میں انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی کے دو اقوال نقل کرتے ہیں، جس سے یہ غلط فہمی دور ہو جانا چاہئیے کہ ولی فقیہ کوئی مطلق العنان ڈکٹیٹر ہوتا ہے۔ امام خمینی نے فرمایا: ہم مطلق العنان (آمریت) کا خاتمہ چاہتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ (ہمارے ملک میں) آمریت ہو،ہم چاہتے ہیں کہ ولی فقیہ آمریت (مطلق العنانی) کے خلاف ہو، ولایت فقیہ ، آمریت کی ضد ہے نہ کہ آمریت۔ ( صحیفۂ امام، ج۱۰، ص۳۱۱)۔ ایک اور مقام پر آپ نے کہا کہ خدائی قانون کے علاوہ کسی کا قانون نہیں چلتا، اس کی حکومت سے ہٹ کر کسی کی حکومت نہیں ہے، نہ فقیہ اور نہ ہی غیر فقیہ کی، تمام قانون کے تحت عمل کرتے ہیں، ہم سب قانون کے اجراء کرنے والے ہیں، چاہے وہ فقیہ ہو یا غیر فقیہ سب کو قانون کے تحت ہونا چاہئے۔ (صحیفۂ امام، ج۱۰، ص۳۵۳)
 
تھیوکریسی کی آمرانہ حکومت میں تمام اختیارات ایک ہی شخص کے پاس ہوتے تھے، جسے خدا کا نمائندہ یا ترجمان کہا جاتا ہے۔ علمائے سیاست نے ریاست کے اختیارات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، مقننہ، انتظامیہ، اور عدلیہ۔ عوامی جمہوری طرز حکومت میں یہ تینوں اختیارات کسی ایک شخص یا ادارے میں مرتکز نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ تینوں ادارے ایک دوسرے سے آزاد اور خود مختار ہونے چاہئیں۔ چنانچہ جمہوریت میں مقننہ (یعنی قانون سازی) کا  اختیار پارلیمنٹ یا اسمبلی کو حاصل ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق ملک کے نظم و نسق چلانے کا اختیار جس ادارہ کو حاصل ہوتا ہے اسے انتظامیہ یا عاملہ کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ صدارتی نظام میں صدر مملکت اور پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم ہوتا ہے۔ قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ کرنے والے ادارہ کا نام عدلیہ ہے، جو ملک کی عدالتوں کی شکل میں وجود میں آتا ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت میں بھی یہی تینوں ادارے مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ منتخب آزاد پارلیمنٹ موجود ہے، جو قانون سازی کرتی ہے اور مقننہ کے معاملات میں انتظامیہ و عدلیہ مداخلت نہیں کرتے۔

اسی طرح انتظامیہ مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرتی ہے۔ براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب صدر جمہوریہ انتظامیہ کی سربراہی کرتا ہے، اور انتظامی امور کو اپنی کابینہ کے ساتھ مل کر انجام دیتے ہیں۔ ایران کی عدلیہ بھی بے مثال ہے اور مکمل آزادی سے کام کرتی ہے۔ حتی اداروں کے درمیان اختلافات ہو جانے اور کسی ڈیڈ لاک آ جانے کی صورت میں بھی رہبر براہ راست مسئلہ کو حل نہیں کرتا، بلکہ شوریٰ تشخیص مصلحت نظام کا ایک ادارہ بنایا گیا ہے، جس نے ان مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے۔ قارئین سے گذارش ہو گی کہ اندازہ لگائیں کہ جہاں یہ سب ادارے مستقل بنیادوں پر کام کر رہے ہوں تو وہاں کیا تھیوکریٹک حکومت ہوگی؟۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 821400
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب