0
Sunday 13 Oct 2019 11:50

عمران خان، خوش آمدید

عمران خان، خوش آمدید
اداریہ
پاکستان کے وزیراعظم، ایران سعودی عرب ثالثی کیلئے تہران پہنچ رہے ہیں۔ ایک روزہ دورے میں وہ صدر ایران ڈاکٹر روحانی سے خصوصی ملاقات کرینگے۔ ایران، پاکستان اور امت مسلمہ میں عمران خان کے اس اقدام کو بڑی اچھی نظروں اور امیدوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی، نیز امت مسلمہ میں اتحاد و وحدت کیلئے ایران اور سعودی عرب کا قریب آنا اور انکے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ایک ایسا اقدام ہے، جس کو کوئی بھی انجام دے، اسکی حوصلہ افزائی اور تعریف کی جانی چاہیے۔ لیکن عمران خان کی ثالثی کے حوالے سے کچھ  ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور جو منظرنامہ دکھایا جا رہا ہے، وہ قابل تشویش ہے۔ پاکستانی خبری ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ سے ملاقات کے بعد وزیراعظم پاکستان نے ایک پریس بریفنگ میں پہلی بار یہ راز منکشف کیا کہ امریکی صدر نے انہیں ایران سعودی عرب ثالثی کا مشن سونپا ہے۔

یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ عمران خان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے بذریعہ سعودی عرب، بن سلمان کے خصوصی طیارے پر نیویارک پہنچے تھے۔ عمران خان تاکید کر رہے ہیں کہ ٹرامپ نے انہیں ایران سعودی عرب صلح کا مشن سونپا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ خبریں سامنے آئیں کہ پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ثالثی کیلئے کوشاں ہے، تو سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے اسکی سختی سے تردید کی۔ البتہ سعودی ولی عہد کے ایک انٹرویو میں یمن جنگ کے تناظر میں یہ بیان ضرور سامنے آیا کہ مسائل کو جنگ سے نہیں بات چیت سے حل کرنا ہوگا۔ امریکی صدر کا عمران خان کو ثالثی کا کہنا نیز عادل الجبیر کا تردید کرنا، اسکے ساتھ امریکی حکومت کا سعودی عرب کیلئے تین ہزار تازہ دم فوجی، دفاعی میزائل سسٹم تھاڈ، پیٹریاٹ، جنگی طیاروں کے دو اسکاڈرن بھیجنے کا اعلان اور ایرانی آئل ٹینکر پر جدہ کی بندرگاہ کے قریب حملہ ایسے اقدام ہیں، جس سے عمران خان کی ثالثی کی کوششیں شکوک و شبہات کے بادلوں میں گھری نظر آتی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے پاکستانی وزیراعظم کے ثالثی کے اقدام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیکر بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہم ثالثی کے بغیر بھی سعودی عرب سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، ایران خطے میں امن و سلامتی کیلئے ہمیشہ پیش قدم رہا ہے، لیکن قابل تشویش بات یہ ہے کہ پاکستان سمیت علاقے کے اکثر ممالک خطے کی ترجیحات کو مدنظر رکھے بغیر امریکی ترجیحات کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں اور یہ بات اور بھی روز روشن کیطرح واضح ہے کہ خطے میں امریکہ کی اولین ترجیح اسرائیل کا تحفظ ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا ثالثی کیلئے دورہ تہران اگر ڈونلڈ ٹرامپ کے کہنے پر انجام پا رہا ہے تو اسکے نتائج پر کیا کہا جا سکتا ہے، البتہ ہم دعاء گو ہیں کہ خدا کرے پاکستانی وزیراعظم یہ اہم مشن پاکستان، ایران، سعودی عرب اور خطے کے عوام کی خواہشات کے مطابق سر کریں نہ کہ امریکی صدر کے ایماء پر۔
خبر کا کوڈ : 821765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے