0
Monday 14 Oct 2019 10:51

پاک ایران تعلقات اور رہبر معظم کی تاکید

پاک ایران تعلقات اور رہبر معظم کی تاکید
اداریہ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا جو دورہ ایران اور سعودی عرب ثالثی کی خبروں سے شروع ہوا تھا، وہ سہولت کاری سے ہوتا ہوا، پاکستان ایران تعلقات میں مزید فروغ پر منتج ہوتا نظر آ رہا ہے۔ عالمی میڈیا پاکستان کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کے پیچھے امریکہ کے کردار کو نمایاں کر رہا ہے، جبکہ عمران خان نے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات میں ثالث کی بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنیکا اظہار کیا ہے۔ ثالث یا سہولت کار بننے سے پہلے پاکستان کو کچھ موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی، جسکی کمی واضح طور پر محسوس کی گی۔ کیونکہ پاکستان بظاہر یمن سے اپنے آپ کو لاتعلق ظاہر کرتا ہے، لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا سابق آرمی چیف اور انکے ساتھ موجود فوجی کسی نہ کسی طرح آل سعود کے حلیف اور یمنیوں کیخلاف برسرپیکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے حالیہ دورے میں یمن جنگ کے خاتمے پر سب کی توجہ مرکوز رہی۔ عمران خان کو کسی ایرانی نے بلاواسطہ یا بالواسطہ جنگ یمن میں فریق تو قرار نہیں دیا۔

لیکن صدر ایران اور رہبر انقلاب اسلامی کیطرف سے یمن جنگ کے خاتمے پر تاکید اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ پاکستان اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تو پہلے یمن پر سعودی جارحیت کے خاتمے کیلئے موثر کردار ادا کرے۔ عمران خان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی سے پہلے سعودی عرب اور یمن کے درمیان ثالثی یا سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہوگا اور اسکے لیے ضروری ہے کہ پاکستان فریق بننے اور بن سلمان کی ڈکٹیشن قبول کرنے کی بجائے، ایک بڑا اور موثر اسلامی ملک یعنی ایک اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے سے اپنا کردار کرے۔ عمران خان کی رہبر انقلاب سے ملاقات میں یمن کا موضوع غالب رہا، البتہ رہبر انقلاب نے پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کو ایک بار پھر اساس قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی طور پر ایران پاکستان کو اپنا برادر ہمسایہ ملک سمجھتا ہے اور ایسے بے مثال مواقع کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ گرمجوشی اور بہتری دکھائی دینا چاہیے اور سرحدوں کی سلامتی نیز گیس پائپ لائن جیسے معطل منصوبوں کو مکمل ہونا چاہیے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے خطے میں سلامتی کے قیام کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی کوششوں کی قدردانی کی اور جنوبی ایشیاء کے حالات کو انتہائی حساس قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے یمن، شام اور عراق کے حالات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بعض ممالک کے تخریبی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری ان ملکوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، لیکن یہ ممالک امریکہ کی منشاء کے تابع ہیں اور اسکے کہنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں امریکہ اور اسکے بعض حواریوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی جنگ میں پہل نہیں کریگا، لیکن اگر کسی نے ایران کیخلاف جنگ شروع کی تو اسے اپنے کیے پر پشیمانی ہوگی۔ رہبر انقلاب اسلامی اپنے بارے میں ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ڈپلومیٹ نہیں، بلکہ انقلابی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں بھی آپکی گفتگو کو سفارتی نہیں بلکہ انقلابی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 821888
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب