1
Monday 14 Oct 2019 14:36

امریکی انتظامیہ نے عمران خان کو کیا ٹاسک دیکر تہران بھیجا؟۔

امریکی انتظامیہ نے عمران خان کو کیا ٹاسک دیکر تہران بھیجا؟۔
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پاکستان میں اپنے آپ کو دبنگ خان کے طور پر پہچان رکھنے خواہش مند عمران خان اپنی کرسی بچانے کیلئے عالمی رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کئی یوٹرن لے چکے ہیں۔ ان کے نزدیک یوٹرن کی ایک شکل جو بالخصوص سیاست میں جائز ہے، بات بات پہ مکر جانا، کسی سے کچھ کہنا دوسرے سے کچھ اور کہنا۔ اندرخانے جو کچھ طے کرنا، میڈیا کو باہر آ کر کچھ اور بتانا۔ سیاسی اخلاقیات کیلئے جو ذاتی جرات درکار ہے، اس سے سیاسی لیڈر عاری ہیں۔ الیکشن سے قبل عمران خان نے جتنے دعوے اور وعدے کیے تھے، نہ صرف یہ کہ وہ مکمل نہیں کیے، بلکہ حکومت میں آنے کے بعد ان سے صاف صاف مکر جاتے ہیں۔ بس علاقائی اور عالمی سیاست میں آنیوالے حادثے اور ہنگامی صورتحال انہیں بچ نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ انہوں نے سب سے بڑا یوٹرن یمن پر سعودی جارحیت کے حوالے سے حکومت میں آنے سے پہلے والے پر موقف پر لیا ہے۔ جو موقف انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کی بریفنگ کے بعد پارلیمنٹ میں یمن کیخلاف سعودی جارحیت کا پاکستان کی فوج سعودی عرب نہ بھیجنے کی قرارداد کی حمایت کر کے ظاہر کیا تھا۔ اب وہ یمن کا نام تک نہیں لیتے، صرف سعودی امداد کا ذکر کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے جانے سے پہلے انہوں نے کشمیریوں کے حق میں دھواں دھار تقریریں کیں، وہاں جا کر بڑی دبنگ تقریر کی، واپسی پر کشمیریوں کیلئے کسی جوش و جذبے کا اظہار نہیں کر رہے۔ رائے عامہ انکی یو این او میں کی جانے والی تقریر کو پاکستان کی داخلی سیاست میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کیوجہ سے حکومت کیخلاف دباؤ میں کمی لانے کی ایک سیاسی تدبیر کے طور دیکھ رہی ہے۔ وہیں نیو یارک میں انہوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو اور تحقیقی اداروں میں سوال جواب کی نشستوں میں پہلو دار بات چیت کی۔ لیکن ٹرمپ کی مودی کے جلسے میں شرکت اور تقریر پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ وہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ علاقائی اور عالمی تنقیحات (Issues) دیرینہ ہیں، اس سے جڑے حقائق انکی سمجھ سے بالاتر ہیں، اس لیے انہیں ایک وزیراعظم کی حیثیت سے محتاط انداز میں چلنا ہوگا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں زیرگردش خبروں کے مطابق امریکہ سے واپسی پر عمران خان کا طیارہ خراب نہیں ہوا تھا، وزیراعظم کو واپس نیویارک بلایا گیا تھا۔ وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو عمران خان نے پیشکش کی کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرسکتے ہیں، وہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو کردار ادا کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

اب اندر کی بات یہ ہے کہ جب عمران خان کا طیارہ وطن واپسی کیلئے اڑان بھر چکا تھا تو امریکی صدر کے خاص مشیروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ پہلے وزیراعظم عمران خان سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ ایران کی نیت معلوم کی جاسکے۔ چونکہ عمران خان کا خصوصی طیارہ انہیں اور اُن کے ساتھیوں کو لیکر پاکستان کی طرف پرواز کرچکا تھا، امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کو واپس نیویارک آنے کی درخواست کی گئی، جس کے متعلق بعد یہ خبریں بھی آئیں کہ سعودی ولی عہد کے ذاتی طیارے میں وزیر اعظم پاکستان سفر کررہے تھے اور انہوں نے وزیراعظم سے ناراضیگی کی بناء پر انہیں فوری طور پر طیارہ چھوڑنے کا کہا۔ مستند ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان کو واپس امریکہ بلاکر انہیں پہلے سعودی عرب اور ایران کے مابین بہتر تعلق کی راہ ہموار کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا گیا اور اُس کے بعد اگر (بقول امریکی انتظامیہ) ایران کی نیت پر امریکہ کو شک نہیں ہوتا، یا ایران اپنے موقف میں نرمی لیکر آتا ہے اور سعودی عرب ایران کے تعلقات بہتری کی طرف چلتے ہیں تو وزیراعظم پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی لیے عمران خان کو ایک ڈاکیے سے مثال دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم سے امریکی اعلیٰ حکام کی نیویارک میں ملاقات ہوئی اور اُس کے فوری بعد وہ سعودی ائیرلائن کی کمرشل پرواز سے جدہ پہنچے، جہاں اُن کی شاہی لاؤنج میں انتہائی اہم سعودی شخصیت سے ملاقات ہوئی، جس میں سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو باضابطہ درخواست کی گئی کہ وہ فوری طور پر ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں سعودی عرب کی مدد کریں۔ وزیراعظم نے پاکستان واپس پہنچتے ہی چین کے اچانک دورے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ اس معاملے میں چینی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود کہ بظاہر پاکستان مسلم اُمہ میں ایک مرکزی حیثیت حاصل کرتا جارہا ہے، اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کو اہمیت دی جارہی ہے، لیکن ایران جا کر ایک دفعہ پھر وزیراعظم عمران خان نے ایرانی حکام کے تیور دیکھ کر یوٹرن لے لیا ہے کہ انہیں کسی نے ثالثی کیلئے نہیں کہا، حالانکہ وہ اسی دوران امریکی صدر کیساتھ گفتگو میں مصالحت کی پیشکش کا ذکر بھی کر رہے تھے۔ ٹرمپ بھی عمران خان کی طرح عالمی سیاسی ایشوز کو آئندہ امریکی الیکشن میں اپنی جیت ممکن بنانے کیلئے مشرق وسطیٰ سے کم از کم اگلے صدارتی انتخابات تک اپنا ناطہ اس طرح توڑنا چاہتے ہیں، جس سے امریکی عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے متعلق امریکی پالیسیوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔

امریکی قوم تو شاید مشرق وسطیٰ کے مسلسل جنگی ماحول اور اس میں پھنسی امریکی افواج کی پریشانیوں سے اب جان چھڑانا چاہتی ہے، لیکن دو دن قبل صدر ٹرمپ نے جو کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کا حصہ بننا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، یہ ناقابل اعتبار ہے، وہ کسی بھی وقت اس سے پھر سکتے ہیں، یو ٹرن لے لیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ چین اور ایران کے درمیان ہونے والے تیل کی فروخت اور تنصیبات کی دیکھ بھال کے لیے ہونے والے 280 بلین ڈالر کے معاہدے سے بھی پریشان ہے، کیونکہ اس ڈیل کے بعد امریکی ڈالر کی حیثیت میں بہت فرق آئے گا، کیونکہ خریدوفروخت چینی کرنسی میں ہوگی اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک بھی چین کے ساتھ اس طرح کی فروخت کے معاہدے کرسکتے ہیں۔ لہذا امریکہ اب خطے کے متعلق اپنی پالیسی بدل رہا ہے اور وہ افغانستان، عراق، شام اور یمن کی جنگوں کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتا ہے یا کچھ عرصے کے لیے ایسا چاہتا ہے اور اسرائیل پر بھی زور ڈالے گا کہ وہ دیگر مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لائے۔

اس وجہ سے پاکستان یہ سمجھ رہا ہے کہ اگر اس امریکی پالیسی کا مکمل طور پر اطلاق ہوجاتا ہے تو بھارت خطے میں تنہا رہ جائے گا، کیونکہ امریکہ کو سعودی عرب اور اپنے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے اور امریکہ نے اس سلسلے میں پاکستان کی یہ درخواست بھی مانی کہ وہ طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے، کیونکہ اس سے پاکستان کو اپنے ملک میں امن قائم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ دوسری بڑی طاقت چین پہلے ہی پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ بھارت اب پوری دنیا کو کاروباری لالچ دے رہا ہے، کیونکہ ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی مارکیٹ ہے، مگر روس، چین اور پاکستان جیسی بڑی مارکیٹ اگر ایک ساتھ ہوجاتی ہیں تو یہ بھارت کے ساتھ امریکہ کی بھی شکست ہے، جس کو بچانے کے لیے امریکہ ہر حد تک جاسکتا ہے، چاہے اُس کی قیمت بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے ہی کی صورت میں دینا پڑے۔ پاکستان اب ایک بار پھر امریکہ سے فائدہ اٹھانے کیلئے جس طرح پہلے جنگوں میں امریکہ کا اتحادی رہا ہے، اسی طرح امن کے قیام کے نام پہ افغان امن مذاکرات کی طرح، سعودی عرب اور ایران کے درمیان امن کیلئے سہلوت کاری کیلئے میزبان بننا چاہ رہا ہے، لیکن اس دفعہ بڑی مختلف صورتحال ہے، کیونکہ ایران جنگ اور سفارت کاری کے میدان میں عالمی طاقتوں کو کئی بار شکست دے چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 821911
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب