0
Tuesday 15 Oct 2019 16:13

آنکھیں کھلی رکھیں، شام میں اتحادی بدل رہے ہیں

آنکھیں کھلی رکھیں، شام میں اتحادی بدل رہے ہیں
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

صرف دو ہفتے پہلے اگر کوئی یہ کہتا کہ شام کی افواج ترک علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں اور کرد ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ شامی فوجیوں کے ساتھ سلفیاں بنائی جا رہی ہیں اور ان کے استقبال کے لیے پر جوش نعرے لگائے جا رہے ہیں, تو یقیناََ طور پر خطے کے حالات سے آگاہ شخص یہی کہتا کہ تم نے رات کو خواب میں یہ دیکھا ہے، کیونکہ دن کے اجالے میں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ امریکہ نے حسبِ روایت کردوں کو بھی دھوکہ دیا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کی بریفنگ بڑی دلچسپ ہے، وہ کہتا ہے کہ ہم نے کردوں کے ساتھ مل کر داعش کو شکست دی ہے اور ترکی ہمارا اتحادی ہے، اس کے مفادات بھی اہم ہیں، جب خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہوا تو ہم نے وہاں موجود امریکی فوجیوں کو ہٹا دیا، کیونکہ ہمارے لیے سب سے اہم اپنے سپاہیوں کی حفاظت تھی۔ امریکہ اور ترکی نے باہمی اتفاقِ رائے سے کردوں پر یہ حملہ کیا ہے۔ امریکہ محض تماشائی بنا رہے گا اور ترک فورسز اپنے تربیت یافتہ جنگجووں کے ساتھ کردوں کا قتل عام کرتی ہوئی انہیں علاقہ بدر کر دیں گی۔

جیسے ہی کردوں کو پتہ چلا کہ ہمارے ساتھ تو بین الاقوامی طاقتوں نے فراڈ کیا ہے اور ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے، تو انہوں نے شامی وزیر کی اس آفر کو قبول کرتے ہوئے کہ ریاست  اس سب کے باوجود کردوں کو نہ صرف قبول کرے گی، بلکہ ان کی حفاظت بھی کرے گی، کے تحت مذاکرات کیے۔ ان حالات میں روس کا کردار بہت زیادہ اہم ہو گیا ہے، شاید امریکیوں اور ترکوں کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ کرد شامی حکومت کی طرف چلے جائیں گے یا شامی حکومت انہیں کسی صورت میں قبول کرے گی۔ کردوں کو اپنی نسل کشی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، ان کی طاقت ترکی اور دیگر گروہوں کے مقابل بہت کم تھی، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ روس کے تعاون سے شامی حکومت سے مذاکرات کریں گے اور انہوں نے مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں انہوں نے شامی حکومت کو نا صرف تسلیم کرنے کا اعلان کیا، بلکہ شامی افواج کو اپنے علاقوں میں داخل ہونے کی بھی اجازت دے دی۔ شامی حکومت نے پچھلے سب معاملات کو پش پشت ڈال دیا اور نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ترکی سے اپنے شہریوں کو بچانے کا اعلان کیا اور کئی اہم قصبوں میں شامی افواج پہنچ چکی ہیں۔

اب اس جنگ میں مزید پھیلاو کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اگر ترک افواج خود موجود رہتی ہیں، تو انہیں بین الاقوامی دباو کا سامنا رہے گا۔ ترکی کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ جلد از جلد  مطلوبہ زون پر قبضہ کر کے اس کا دفاع اپنے تربیت یافتہ جنگجووں کے حوالے کرے اور واپس چلا جائے، مگر اب سب کچھ اس کے پلان کے مطابق ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔ شامی افواج کی جنگی شمولیت سے اب کرد اور شامی افواج ایک ہو چکے ہیں، ترکی کو حاصل فضائی برتری بھی چیلنج ہونا شروع ہو جائے گی، اس کے نتیجے ترکی یا تو شام سے براہ راست جنگ کرے گا یا اسے رکنا پڑے گا۔ اسی طرح  ٹینک اور طیارہ شکن توپیں بڑی تعداد میں شامی بارڈر پر پہنچ چکی ہیں، اس سے بھی ترک افواج کو دور رکھنے میں مدد ملے گی۔ ترکی نے فری سیرین آرمی کی تربیت اسی لیے کی تھی کہ ترکی ان کو  اپنے شامی بارڈر پر بڑا کردار دینا چاہتا تھا، جس کا ترکی کو ابھی نادر موقع ملا ہے۔ اسی لیے فری سیرین آرمی ترک افواج کے ساتھ مل کر اپنے ہی ہم وطنوں کو قتل کر رہے ہیں اور  ڈیموگرافیک چینج کی بات کی جا رہی ہے۔

فری سیرین آرمی میں تقریباََ سبھی عرب ہیں، اس لیے انہیں یہ خیال بہت اچھالگتا ہے کہ اتنے بڑے علاقے پر عرب آبادیاں قائم ہو جائیں گی۔ ایک ترک تجزیہ نگار اس کے حق میں دلیل دے رہے تھے کہ کرد آبادی کا سترہ فیصد ہیں اور شام کے بیس فیصد رقبے پر قابض ہیں۔ ان کے خیال میں ان کی آبادی چونکہ رقبے سے کم ہے، اس لیے ترکی کو عرب مہاجرین کو آباد کرنے کے لیے اس علاقے پر قبضہ کرنے کا حق مل جاتا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔ بلوچستان کی آبادی لاہور اور کراچی سے بھی کم ہے اور پاکستان کے رقبے کا بڑا حصہ بلوچستان کے پاس ہے۔ کچھ مذہبی گروہ بھی اس جنگ میں ترکی کے ساتھ  شامل ہو گئے ہیں۔ جن کے خلاف ظاہراََ امریکہ جنگ کرتا رہا ہے۔ فری سیرین آرمی پر اربوں لیرا کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، مگر ان کی تربیت اتنی بھی نہیں کہ جب انہوں نے ایک کرد گاوں پر قبضہ کیا تو  لوٹ مار شروع کر دی، لوگوں کی دکانوں اور مکانوں سے سامان لوٹ لیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ فری سیرین آرمی کے لوگ اصل میں کرائے کے قاتل اور لٹیرے ہیں۔ ترکی نے شام پر حملہ کر کے بہت بڑا رسک لیا ہے۔ لالچ اور خود غرضی کا مظاہرہ کیا ہے۔

کیونکہ ابھی ترکی کو کردوں سے کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا، پھر بھی ان پر حملہ کیا گیا۔ باریک بینی سے حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے، جیسے امریکہ نے بڑے طریقے سے ترکی کو براہ راست جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ اب یہ جنگ ترکی کے لیے وہ نوالہ بننے والی ہے، جو نہ اگلا جائے گا نہ نگلا جائے گا۔ یہ جنگ سعودیہ کی یمن جنگ کی صورت اختیار کر لے گی۔ سعودی عرب نے ترکی کے حملے کی مذمت کی ہے، جس پر اردگان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودیہ پہلے یمن کی اموات کا حساب دے۔ ویسے ترکی کی حکمت عملی بڑی جارحانہ اور بلیک میل کرنے والی ہے، جیسے اردگان نے کہا کہ اگر یورپی یونین نے اسے حملہ قرار دیا تو ہم شامی مہاجرین کے لیے بارڈر کھول دیں گے اور وہ یورپ کے دروازے پر ہوں گے۔ یہ دھمکی کارگر ہوئی ہے اور زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی بڑا ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ سعودی عرب کی یہ مذمت، وہ بھی ایسی صورت میں جب امریکی  اس حملے پر راضی تھے، بڑی معنی خیز ہے۔ ایک اور اہم واقعہ روسی صدر کا دورہ سعودی عرب ہے، سب اسے حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔

آئل ریفائریوں پر حملوں کے بعد سعودی قیادت میں ذرا بھی عقلمندی موجود ہے، تو وہ کسی بھی صورت میں امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ اب عین حالت جنگ میں کردوں کو چھوڑ جانا امریکی اتحادیوں کے لیے مثال ہے کہ امریکہ صرف اپنے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔ امریکہ کبھی کسی دوسرے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنے فوجی نہیں مروائے گا۔ سعودی حفاظت کے  لیے امریکی اسلحہ بھی کام نہیں آیا، اس نے بھی سعودی عرب میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ روسی صدر کے دورے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا مگر  اس سے خطے کی بدلتی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ناتجربہ کار ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اپنے آخری انٹرویو میں دبے لفظوں میں ایران سے بات چیت پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ بعد میں امریکی آقاوں کی تنقید سے بچنے کے لیے اس کی تردید کی گئی، مگر یہ بات کہیں نا کہیں موجود ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عراقی وزیراعظم کو بھی ایران اور سعودیہ میں تعلقات معمول پر لانے کا ٹاسک خود سعودی عرب کی طرف سے دیا گیا تاکہ بے یقینی کی فضاء کو ختم کیا جا سکے۔

سعودی عرب یمن سے بھی نکلنا چاہتا ہے اور اس کے لیے آبرو مندانہ راستہ چاہتا ہے، جیسے ہی اسے یہ مل گیا وہ فورا جنگ سے نکلنا چاہے گا کیونکہ اسے معلوم ہو چکا ہے کہ فتح حاصل کرنا ناممکن ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سب سے طاقتور سفارتکار، سکیورٹی ایڈوائزر اور موجودہ ولی عہد کے بھائی تحنون بن زید  آج کل تہران میں ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا اسے بڑی ڈویلپمنٹ قرار دیے رہا ہے، جو خطے میں بدلتی صورتحال کی عکاسی کرتی  ہے۔ متحدہ امارات نے زمینی حقائق دیکھتے ہوئے، یمن سے اپنے افواج کی واپسی سمیت بہت سے ایسے اقدامات کیے ہیں جو حقیقت پسندانہ ہیں۔ اب ان کا دورہ ایران خطے میں نئے اتحاد کی بنیاد بن سکے یا نہ بنے، کم از کم اس سے موجود تناو میں کمی آئے گی۔ ہمارے وزیراعظم دورہ ایران کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ سعودیہ ایران تناو کو کم کیا جائے، یہ خود وزیراعظم کی خواہش بھی ہو سکتی ہے اور اس میں سعودیہ کی بھی کہ کسی طرح ایران سے تعلقات نارمل ہو جائیں۔ ان سب کوششوں سے یہ لگتا ہے کہ خطے میں اتحادی بدل رہے ہیں ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کے لیے اپنی چالیں بڑی احتیاط سے چل رہا ہے۔ ایک بات سب سمجھ گئے ہیں کہ دھونس، دھمکی، پابندیوں اور مخالف اتحاد بنا لینے سے کسی ملک یا قوم کو  شکست نہیں دی جا سکتی، اسی طرح خطے کا مستقبل اگر خطے کے ممالک کے ہاتھ میں ہو گا تو یہ سب کے لیے بہتر ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 822147
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب