0
Wednesday 16 Oct 2019 10:37

امریکہ کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ

امریکہ کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ
اداریہ
امریکہ کیسے وجود میں آیا اور اس علاقے میں بسنے والی مقامی آبادی کے ساتھ باہر سے آنے والے حملہ آور چوروں اور ڈاکوؤں نے کیا کیا۔ اسکی حقیقت تاریخ کی کسی بھی کتاب سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ کسی قوم یا ریاست کا ماضی اسکے حال اور مستقبل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومتوں اور ریاستوں کا مزاج اسکے پس منظر میں موجود منصوبہ ساز اذہان بناتے ہیں، جنہیں آج کل "تھنک ٹینک" کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکی ریاست کے تھنک ٹینکس کا ماضی اور حال انسانیت کی بربادی اور ذاتی مفاد کے حصول سے جڑا ہوا ہے۔ امریکہ میں مختلف ادوار کے صدور نے اس کام میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے۔ کسی نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں افراد کو نابود کیا۔ کسی نے ویت نام پر طویل جنگ مسلط کر کے اپنے انتقام کی آگ کو خاموش کیا، کسی نے افغانستان کے کوہ و دمن پر جدید ترین ہتھیاروں سے حملہ کیا اور زمین کے اندر تک مار کرنے والے میزائل اور ڈیزی کٹر استعمال کر کے تباہی و بربادی پھیلائی۔

کسی نے ایران کے مسافر بردار طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے والے کپتان کو ایوارڈ دیا اور کسی نے ابوغریب اور بلگرام کے عقوبت خانے آباد کیے، نیز گوانتانامو بے، سمیت دنیا بھر میں پھیلے سی آئی اے کے خفیہ ٹارچر سیلوں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا امریکہ ریاست کے جرائم کی معمولی جھلک ہے۔ انسانیت کے خلاف امریکی جرائم گننا شروع کر دیں یا انہیں تحریر میں لانے کا ارادہ کریں تو کئی کتابیں درکار ہوںگی۔ جرائم کی ایک طویل فہرست ہے اور اگر اس میں ان پابندیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو امریکی حکام نے اپنے مخالف ممالک پر عائد کی ہیں تو امریکہ کا حقیقی چہرہ مزید کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف گذشتہ چالیس برسوں سے انواع و اقسام کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان میں اکثر اقتصادی نوعیت کی ہیں، جنہیں ایران میں اقتصادی دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ان اقتصادی پابندیوں کیساتھ ساتھ میڈیکل کے شعبے میں چند ایسی پابندیاں بھی ہیں کہ جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب امریکہ اور یورپ کیطرف سے انسانی حقوق کی عظمت اور انکی رعایت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، یہی ممالک سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کے کھلے عام مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اسی تناظر میں صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او کے ریجنل اجلاس میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقے سے مربوط بائیس ممالک کے وزرائے صحت سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی امریکہ کیلئے ایک ذلت تھی، لیکن ایران کے عوام کیخلاف اشیائے خورد و نوش بالخصوص دواؤں پر پابندی امریکہ کیلئے اس سے بھی بڑی ذلت ہے، جو یقیناَ واشنگٹن کی پیشانی پر ایسا بدنماء داغ اور کلنک کا ٹیکہ ہے، جو امریکہ چاہے بھی تو نہیں مٹا سکے گا۔
خبر کا کوڈ : 822290
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب