0
Thursday 17 Oct 2019 12:42

امریکہ کا یوٹرن

امریکہ کا یوٹرن
اداریہ
2020ء کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرامپ کے مخالف صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ شمالی شام سے امریکی افواج کا انخلاء ایک شرمناک اقدام ہے، ہمیں اپنے ان اتحادیوں کو ہرگز تنہاء نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، جو امریکی فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑے اور ان میں بعض اس جنگ میں مارے گئے۔ ترکی کے حملے میں شمالی شام سے امریکی افواج کا انخلاء اور کردوں کو ترک فوج کے حملوں کے مقابلے میں تنہاء چھوڑ دینا، ایسا اقدام ہے جس پر امریکہ کے اندر اور باہر سے شدید مخالفت ہو رہی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی ہوں یا ری پبلیکنز پارٹی کے سینیٹرز، سب مل کر ڈونلڈ ٹرامپ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرامپ بڑے اطمینان سے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں کھربوں کا نقصان کیا ہے، لیکن امریکہ کو اس میں حاصل کیا ہوا ہے؟۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکی تھنک ٹینک نے عالمی غلبہ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جو راستہ اختیار کیا تھا، وہ بہت زیادہ اخراجات والا راستہ تھا، لیکن اسکا بنیادی ہدف پوری دنیا پر تسلط تھا۔ امریکہ نے یہ منصوبہ اس وقت تشکیل دیا تھا، جب اس کی توقعات کے برعکس ایران کا اسلامی ابقلاب نہ صرف کامیاب ہو چکا تھا، بلکہ اس نے اردگرد کے ممالک میں اپنے نظریاتی اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ نے ان انقلابی نظریات کی ایکپسپورٹ کو روکنے کیلئے دیگر سازشوں کے علاوہ صدام کے ذریعے ایران کیخلاف جنگ مسلط کر دی۔ بعد میں امریکی وزیر دفاع رامسفیلڈ نے اپنی ٹیم کے ذریعے مشرق وسطیٰ کیلئے ایک اسٹریٹیجی تیار کروائی تھی، جسکا بنیادی ہدف یہ تھا کہ اس علاقہ پر امریکہ کا تسلط اتنا قوی ہونا چاہیے کہ یہاں کے معدنی وسائل اور پیٹرولیم کے ذخائر امریکہ کی اجازت کے بغیر کسی کو سپلائی نہ کیے جا سکیں۔

امریکہ اسی (80ء) کے عشرے سے اسی اسٹریٹیجی پر عمل پیرا ہے اور اس اسٹریٹیجی میں عراق، شام، ایران جیسے ممالک کو تقسیم در تقسیم کرنا بھی شامل تھا۔ اس تقسیم میں کردوں کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، لہذا اس وقت سے لیکر اب تک ترکی، شام، عراق اور ایران کے کردوں کو امریکی چھتری کے نیچے لایا گیا اور ان سے امریکی مفادات حاصل کرنیکی کئی کوششیں انجام دی گئیں۔ امریکی تھنک ٹینک کو اس بات کی ہرگز توقع نہ تھی کہ اس خطے میں ایران کی قیادت میں، مزاحمتی بلاک نئی طاقت کی صورت میں کر اسقدر مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس نے کردوں کے ذریعے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، لیکن اب خطے کی صورتحال بدل چکی ہے۔ مزاحمتی بلاک کیساتھ روس بھی امریکہ کیخلاف صف آراء ہے۔ ایسے میں امریکی اسٹیبلشمنٹ نے ٹرامپ کو سامنے رکھ کر یوٹرن لیا ہے۔ امریکہ بڑی شکست سے بچنے کیلئے اپنے اتحادی کردوں کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ترکی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 822628
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے