4
Friday 18 Oct 2019 11:26

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن قسط (3)

چہلم امام حسینؑ اور بی بی سی لندن قسط (3)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

گذشتہ سے پیوستہ
یہ بی بی سی لندن ہے، یہ برطانیہ کا نشریاتی ادارہ  ہے، اس کی طرف سے شائع ہونے والی کوئی بھی خبر، کالم یا تجزیہ بغیر ہدف کے نہیں ہوتا۔ یہ اپنے استعماری و استشراقی  اہداف کے حصول کیلئے صرف محنت پر اعتماد نہیں کرتا، بلکہ یہ محنت کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے کہ یہ کبھی بھی بے وقت یا بلاضرورت ایک لفظ بھی نشر نہیں کرتا۔ وقت شناسی کیلئے ساری دنیا میں اس کے ماہرین کا جال بچھا ہوا ہے۔ اس کے منصوبہ ساز پوری دنیا میں اٹھنے والی ہر لہر، ہر موج اور ہر تحریک پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے ماہر تجزیہ نگار اور خبر نویس ہر ابھرتی ہوئی لہر اور اٹھتی ہوئی تحریک پر سوار ہو جاتے ہیں، یہ انسانی معاشرے کے بطن سے اٹھنے والی امواج، لہروں اور تحریکوں پر سوار ہو کر ان کا رُخ اس سمت میں موڑ دیتے ہیں جس سمت میں استعماری مفادات کو نقصان نہ پہنچ سکے اور یا پھر استعماری مفادات کی تکمیل ہو۔ وہ اس لیے کہ اگر کسی بھی ملک کی رائے عامہ کو آپ اپنے حق میں ہموار کر لیں اور لوگوں کے اذہان کو اپنے ساتھ ملا لیں تاکہ لوگ وہی سوچیں جو آپ سوچتے ہوں، لوگ وہی چاہیں جو آپ چاہتے ہوں اور لوگ وہی کریں جو آپ کروانا چاہتے ہوں تو پھر آپ کو اس ملک پر  توپخانہ کھولنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

استعمار کے نشریاتی اداروں کا اول و آخر مقصد یہی ہے کہ مسلمان اُسی طرح کا مسلمان ہو، جس طرح کا استعماری دنیا چاہتی ہے۔ ایک مسلمان کو جو عقیدہ حقیقی مسلمان بناتا ہے وہ عقیدہِ توحید ہے۔ باقی سب نبوت، رسالت، آسمانی کتابیں، فرشتے، جنت، جہنم، امامت، قیامت، برزخ، میزان، پُل صراط جو کچھ بھی ہے، عقیدہ توحید کی وجہ سے ہے۔ فہمِ توحید اور شعورِ توحید یہ ہے کہ انسان مشرق و مغرب اور زمین و آسمان میں اللہ وحدہُ لا شریک کے علاوہ اپنے آپ کو کسی اور کے حوالے نہ کرے، وہ اپنی ہستی کو فقط خدا وندِ عالم کے لئے وقف کردے۔ یعنی وہ اپنی زندگی کو صرف وحدہُ لا شریک کے تابع کر دے۔ مسلمان جب توحید کو سمجھ جائے تو پھر جب مشرقی اور مغربی طاقتیں، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے معدنی و آبی ذخائر، اس کے انسانی منابع، اس کے حکومتی وسائل، اس کے زمینی رقبے اور اس کے سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں پر قبضہ کرنا چاہیں تو وہ “لاشرقیہ و لا غربیہ” کہہ کر ان کے قبضے کو مسترد کر دے، لاالہ الااللہ کہہ کر اپنی حدود میں توحید کا پرچم لے کر اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنی سرحدوں کا دفاع کرے۔

توحید اتنی بڑی طاقت ہے کہ اگر مسلمان کو اس کا ادراک اور شعور ہو جائے تو پھر دنیا کے سارے مسلمان آپس میں جسدِ واحد کی طرح بھائی بھائی بن جائیں، پھر دنیا کا کوئی مسلمان کسی کا غلام نہ رہے اور پھر دنیا میں کوئی اسلامی منطقہ کسی غیر مسلم کا مقبوضہ علاقہ نہ رہے۔ یہ توحید ہے جس کا شعور مسلمانوں کو غلامی سے نجات دلاتا ہے اور مسلمانوں کو آپس میں متحد کرتا ہے۔ اس کائنات میں روئے زمین پر توحید کا سب سے بڑا مظہر خانہ کعبہ ہے۔ جب مسلمان حج اور عمرے کیلئے وہاں پہنچتے ہیں تو  کالے اور گورے، عربی اور عجمی، ہاشمی اور حبشی، قریشی اور ثقفی،  سُرخ اور زرد، سُنی اور سلفی، شیعہ اور دیوبندی کا فرق عملاً مٹ جاتا ہے۔ سب کے دل میں، سب کے وہم و خیال میں اور سب کی زبانوں پر صرف یہی ایک جملہ باقی رہ جاتا ہے کہ لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ جی ہاں! اے پروردگار جی ہاں! اے پروردگار تیرا کوئی شریک نہیں۔ ہر مسلمان زبانِ حال سے یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے پروردگار! ہم حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا جواب ہیں، ہم امت مصطفیﷺ ہیں، ہم حاضر ہو گئے ہیں، اب تیرا قانون ہوگا اور ہماری اطاعت ہوگی، تیرا امر ہوگا اور ہمارا سر ہو گا، تیری شریعت ہوگی اور ہماری پابندی ہوگی۔ بھلا کون ہے جو کعبے سے ملنے والے ورلڈ آرڈر کو روک سکے۔

استعمار کو بیت اللہ سے یہی تو خطرہ تھا کہ یہاں آکر مسلمانوں کو جو پیغامِ توحید ملتا ہے وہ اسی طرح خالص انداز میں کہیں دنیا میں نشر نہ ہوجائے، کہیں بیت اللہ میں اکٹھے ہونے والے مسلمان اپنے دلوں سے علاقائی بغض، قبائلی کینہ اور مسلکی غلط فہمیاں نکال کر آپس میں مل کر نہ بیٹھ جائیں، کہیں بیت اللہ مسلمانوں کا اجتماعی، سیاسی اور فکری مرکز نہ بن جائے، چنانچہ انہوں نے آلِ سعود کو وہاں حکومت دلوائی اور مکے میں دنیا بھر سے جمع ہونے والے مسلمانوں کے آپس میں مل بیٹھ کر سوچ و بچار کرنے پر پابندی لگوا دی۔ چنانچہ آج کشمیر ہو یا فلسطین اور ہندوستان ہو یا بھارت آپ بیت اللہ سے یعنی توحید کے قلب سے، مظلوم مسلمانوں کے حق میں اور ظالم حکومتوں کے مخالف کوئی آواز بلند نہیں کر سکتے۔ آلِ سعود کی توحید فقط روضہ رسولﷺ کو چومنے والوں کو تازیانے مارنے تک محدود ہے، اس کے علاوہ بیت اللہ میں جمع ہونے والے مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرونا، انہیں ایک دوسرے کے علاقائی اور ملکی مسائل کو جاننے کی سہولت فراہم کرنا، مظلوم اور مقبوضہ علاقوں کے مسلمانوں کو حج کے عظیم اجتماع کے موقع پر اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع دینا، مسلمانوں کو جمع ہو کر اپنی مشکلات کے حل کیلئے سوچ و بچار کی فضا فراہم کرنا، یہ سب آل ِسعود کی بادشاہت میں ممنوع ہے۔

استعماری دنیا اپنے اس مقصد میں کامیاب ہے کہ ہر سال مسلمان اربوں روپیہ خرچ کر کے مکے اور مدینے میں جمع ہوتے ہیں، لیکن متحد ہوئے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ جمع ہونے کے باوجود متحد نہ ہونا یہ عالم اسلام کیلئے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ ایک ایسا خلاء ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف صدام کی حکومت کی سرنگونی کے بعد کربلا میں امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماع میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے، حتی کہ حج کے اجتماع سے بھی زیادہ لوگ یہاں شریک ہونے لگے ہیں، اور کربلا میں جمع ہونے والوں کے سینے میں بھی صرف ایک ہی جذبہ ہوتا ہے کہ جس پروردگار کی توحید کی بقاء کیلئے حسینؑ ابن علی  قربان ہو گئے، اس کے پرچمِ توحید کو اب ہم نے ہر صورت میں سر بلند رکھنا ہے۔ یہاں جمع ہونے والے لوگ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کی خاطر آواز بلند کرتے ہیں، کشمیر اور فلسطین کے پرچم لہرائے جاتے ہیں، جہانِ اسلام کو متحد کرنے کیلئے مختلف ممالک سے آنے والے اسلامی سربراہوں کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہے اور غاصب و قابض ممالک کے خلاف نعرے بازی بھی ہوتی ہے۔

یہاں مسلمان آزادانہ طور پر دیگر ممالک سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملتے ہیں، ان کے اخلاق و کردار، تہذیب و ثقافت، رسم و رواج، محاسن اور خوبیوں کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بغیر کسی مہم اور خرچے کے مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔ اس وقت اربعینِ امام حسینؑ کی پر شکوہ جمعیت نے استعمار کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ استعماری طاقتیں بخوبی جانتی ہیں کہ توحید کا وہ پیغام جو انہوں نے آلِ سعود کے زور پر بیت اللہ میں دبا کر رکھا ہوا ہے، اگر کربلا سے نشر ہونا شروع ہوگیا تو پھر مسلمانوں کو غلام رکھنا، ان کی زمینوں پر قبضے کرنا، انہیں ہجرت پر مجبور کرنا اور ان کے ذخائر کو لوٹنا ناممکن ہو جائے گا۔ چنانچہ بی بی سی جیسے استعماری نشریاتی ادارے اپنے کیمرے اٹھا کر اربعینِ امام حسینؑ کے موقع پر اٹھنے والی توحید کی موج پر سوار ہو کر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اب وہ اس موج پر سوار نہیں ہو سکیں گے، بلکہ یہ موج انہیں تنکوں کی طرح بہا کر لیجائے گی۔ جی ہاں یہ موج مستشرقین کے حیلوں اور استعمار کے چیلوں کو بہاکر لے جائے گی، چونکہ اس موج کا سربراہ حسینؑ ابن علیؑ ہے۔ 
ڈوب کر پار اتر گیا اسلام
 آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

ختم شُد
 
خبر کا کوڈ : 822747
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب