0
Saturday 19 Oct 2019 19:06

پاکستان کو فروری 2020ء تک ایف اے ٹی ایف کی وارننگ

پاکستان کو فروری 2020ء تک ایف اے ٹی ایف کی وارننگ
رپورٹ: ایس ایم عابدی

پردیس سے آنے والی اس خبر کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کے حوالے سے اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی یعنی پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے تو بچ گیا البتہ واچ لسٹ یا گرے لسٹ سے جان نہیں چھڑا سکا۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے۔ پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے، ایکشن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا، پاکستان نے اعلیٰ سطحی پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا ہے اور ایکشن پلان کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے، اگرچہ موجودہ حکومت میں پاکستان نے اس معاملے پر کچھ ٹھوس پیش رفت ضرور کی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف خیر مقدم کرتی ہے لیکن اب تک بیشتر نکات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کی جانب سے ان معیارات پر پورا نہ اترنے سنجیدگی سے لے رہا ہے لہٰذا پاکستان کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ وہ فروری 2020ء تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے، اگر ٹھوس پیش رفت نہ کی گئی تو ایف اے ٹی ایف سخت ایکشن لے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں مالیاتی اداروں کو ہدایت کی جائے گی کہ پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنے اور لین دین کے حوالے سے خصوصی توجہ دیں۔

ایف اے ٹی ایف کے جاری کردہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں۔ پیرس میں منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان سمیت مختلف ملکوں کے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف نے ایتھوپیا، تیونس اور سری لنکا کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا۔ اس طرح اب پاکستان کے علاوہ کمبوڈیا، گھانا، آئس لینڈ، منگولیا، پاناما، شام، یمن، زمبابوے سمیت افریقہ کے نہایت ہی پسماندہ ملک رہ گئے ہیں جبکہ بلیک لسٹ میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اپنے اعلامیہ میں ایف اے ٹی ایف نے 10 ایسے نکات کی نشاندہی کی جس پر پاکستان کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق اپنے قوانین اور طریقہ کار عالمی معیار کے مطابق بناسکے۔

10 نکات
  • (1) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کی فنانسنگ کے ممکنہ خطرات کا مناسب فہم رکھتا ہے اور پھر ان خطرات کے پیش نظر اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    (2) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ / ٹیرر فناسنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تدارکی اقدامات کئے جاتے ہیں اور ان پر پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، اور یہ بھی کہ مالیاتی ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات میں ان اقدامات کی تعمیل کرتے ہیں۔

    (3) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے بااختیار ادارے پیسوں کی غیر قانونی منتقلی یا ویلیو ٹرانسفر سروسز کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی میں مصروف ہیں۔

    (4) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے ادارے کیش کوریئرز پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں اور نقد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    (5) ممکنہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے نمٹنے کے لئے صوبائی اور وفاقی اداروں سمیت تمام اداروں کے باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے۔

    (6) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر تحقیقات کررہے ہیں اور تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی نامزد لوگوں، اداروں یا پھر ان کے نمائندے کے طور پر کام کرنے والے لوگوں یا اداروں کے خلاف ہورہی ہے۔

    (7) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمی کرنے والوں کے
    خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں مؤثر، مناسب اور مزاحم پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور پاکستان وکیل استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔

    (8) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد دہشگردوں اور ان کے سہولت کاروں پر (جامع قانونی اصولوں کے ذریعے) اہدافی مالی پابندیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ انہیں چندہ اکھٹا کرنے اور ان کی منتقلی کی روک تھام کی جا رہی ہے، ان کے اثاثوں کی نشاندہی اور انہیں منجمد کیا جا رہا ہے اور انہیں مالی امداد اور مالی سروسز تک رسائی سے باز رکھا جا رہا ہے۔

    (9) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات کو انتظامی اور ضابطہ فوجداری کے تحت قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے اور قانون کے اس نفاذ میں صوبائی اور وفاقی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

    (10) پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد افراد اور ان کے سہولت کار جن سہولیات اور سروسز کے مالک ہیں یا پھر کنٹرول کرتے ہیں ان کے وسائل ضبط کرلیے گئے ہیں اور وسائل کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اسی لحاظ سے پاکستان میں کاروبار کی وسعت پائی جاتی ہے اور مالیاتی اداروں کا اسٹرکچر موجود ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے حوالے سے پاکستان میں پہلے پہل بہت زیادہ آگاہی نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن جب جون 2018ء میں پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہوا تو اس وقت کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے طور پر اقدامات کرلئے ہیں اور امید ہے کہ پاکستان جلد گرے لسٹ سے باہر ہوگا۔ ملکی حجم اور جغرافیے جیسے پہلوؤں کی وجہ سے پاکستان میں مالیاتی لین دین ایک وسیع اور پیچیدہ موضوع ہے۔ ایف اے ٹی ایف یا عالمی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے لحاظ سے پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ متعدد اقدامات بھی کئے ہیں۔ سال 2009ء میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی غرض سے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) قائم کی جس کی سربراہی وفاقی وزیرِ خزانہ کو دی گئی۔ اس کمیٹی میں وفاقی سطح پر موجود تمام اداروں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ کمیٹی عالمی قوانین کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ اس کے علاوہ جنرل کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں تمام وفاقی تحقیقاتی، مالیاتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ان دونوں کمیٹیوں کا ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کا سربراہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، نیب، ایف آئی اے، اے این ایف، ایف بی آر (کسٹم اور ان لینڈ ریونیو)، نیشل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، قومی بچت، پاکستان پوسٹ، آئی کیپ، پاکستان بار کونسل اور صوبائی سطح پر پولیس، محکمہ قانون و داخلہ اور سماجی بہبود کے ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اس سے متعلق معاملات پر نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کیسز کو رپورٹ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ پاکستان نے بہت پہلے سے ہی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے عالمی قوانین کو اپنانا شروع کردیا تھا۔ 2010ء میں پاکستان نے منی لاندڑنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے پہلا قانون متعارف کروایا تھا جسے بعدازاں 2016ء میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی غرض سے بذریعہ ترمیم بہتر بنایا گیا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے قبل یہاں کے مالیاتی نظام کا گہرائی سے جائزہ لیا تھا۔ پاکستان کے 2 بینکوں حبیب بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے اپنے نیویارک میں آپریشنز انہی الزامات کی بنیاد پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ اسٹیٹ بینک نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس سے متعلق جو ضوابط جاری کئے تھے وہ صرف اسی سے لائسنس حاصل کرنے والے 34 کمرشل بینکوں، 5 اسلامی بینکوں 11 مائیکرو فنانس بینکوں پر لاگو ہوتے تھے تاہم جون 2018ء کے بعد 52 ایکسچینج کمپنیوں پر بھی ان قوانین کا اطلاق کیا گیا۔ مگر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ماتحت کام کرنے والے 227 بروکریج ہاؤسز، 70 ڈی ایف آئیز، 50 انشورنس کمپنیوں اور 29 مضاربہ کمپنیوں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ محکمہ پوسٹ اور قومی بچت بھی اس دائرہ کار سے باہر رہے۔

پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر جاری کی جانے والی میوچؤل ایوے لوایشن رپورٹ کو اگست 2019ء میں مشترکہ طور پر منظور کیا گیا۔ یہ ضخیم رپورٹ 8 ابواب اور 227 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ میں اکتوبر 2018ء تک پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 40 تجاویز پیش کی تھیں جس میں ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس کے لئے کرپشن، اسمگلنگ، منشیات، دھوکہ دہی، ٹیکس چوری، اغوا برائے تاوان اور بھتے کے ذریعے حاصل ہونے والا پیسہ نقد لین دین، ریئل اسٹیٹ، قیمتی دھاتوں (سونا) اور زیورات کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو اپنی سرحدوں میں ہونے والے سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے علاوہ دیگر ملکوں میں منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری، دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی دولت کی پاکستان منتقلی کے خلاف بھی اقدامات کرنے ہیں، جس میں جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری میں مدد کے علاوہ غیر قانونی پیسے سے حاصل کردہ جائیداد یا نقد رقم کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف نے اپنی سابقہ رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں سے مالیاتی جرائم میں ملوث افراد اور ان کی جائیداد سے متعلق متعدد کیسز پاکستان کے حوالے کئے۔ یہ کیسز وزارتِ خارجہ کے ذریعے ایف آئی اے، نیب، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کئے گئے مگر ان پر خاطر خواہ کارروائی نہ ہوسکی اور معاملات عدالتوں میں آکر رُک گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 822943
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب