0
Tuesday 22 Oct 2019 11:06

ترکی کا کردوں پر حملہ۔۔۔داعش کا احیاء (2)

ترکی کا کردوں پر حملہ۔۔۔داعش کا احیاء (2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤس اوغلو کا کہنا  ہے کہ "ترکی ہر اس اقدام کا جواب دے گا جو دہشتگردی کے خلاف مقابلے میں جاری کوششوں کے سد راہ ہوگا"۔ امریکی صدر اس فیصلے کے بعد داخلی اور خارجی حوالے سے شدید دباؤ میں ہیں، وہ ترکی کے خلاف پابندیای عائد کرنے کی اجازت دیکر ایک طرف اپنے اوپر آنے والے دباؤ  کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا پر یہ ثابت کر سکیں کہ وہ ترکی کے حالیہ حملے کے خلاف ہے، لیکن دوسری طرف وہ رجب طیب اردغان کے ساتھ کی گئی اپنی ٹیلی فونک گفتگو سے بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ امریکہ باراک اوباما کے دور سے کردوں کی مکمل حمایت کر رہا ہے اور ٹرامپ کے دور میں بھی امریکہ نے رقہ کے علاقے میں مختلف کاروائیوں کے دوران کرد ڈیموکریٹس فورسز کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ نے اس وقت پینترہ بدلا ہے اور انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم سے کہا جا رہا ہے کہ ہم کردوں کے ساتھ ملکر شام میں لڑیں، لیکن میں نے کہا ہے کہ ہم ایک فریق کے ساتھ ملکر دوسرے فریق کے خلاف جنگ نہیں کریں گے، ہم اس میں جانبداری کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

ٹرامپ نے ترکی کے حوالے سے دہرا موقف اپنایا ہوا ہے، وہ ایک طرف رجب طیب اردغان کے ساتھ  ٹیلی فونک گفتگو کر کے اس بات پر قانع ہو گئے ہیں کہ انہیں شمالی شام سے امریکی افواج کا انخلاء کرنا چاہیے، دوسری طرف پابندیوں کی بات کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں ٹرامپ اور رجب طیب اردغان کے درمیان روسی ساخت کے ایس۔400 دفاعی میزائل سسٹم خریدنے کے حوالے سے اختلافات ہو چکے تھے، جس کی وجہ سے امریکہ نے ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ٹرامپ اپنے حالیہ اقدام سے ترکی کو روس کے قریبی اتحادی بننے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ امریکی  فورسز کے انخلاء کے بدلے ترکی کو اس بات پر تیار کر لیں کہ وہ روس سے  ایس۔400 میزائل نظام نہ خریدے۔ امریکی صدر کا ترکی کے بارے میں رویہ دہرے معیارات پر مشتمل ہے، لیکن امریکی کانگرس ترکی کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہے وہ ترکی پر سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کی خواہشمند ہے۔ کافی عرصے بعد پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ امریکہ کی حکمران اور اپوزیشن جماعتیں شام سے امریکی فورسز کے انخلاء کے ٹرامپ کے فیصلے کے خلاف متفق نظر  آرہی ہیں۔

گراہم اور کریس ون ہولن جیسے سینٹر تو ترکی کے خلاف پابندیوں کا باقاعدہ  نظام تیار کرنے پر تاکید کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اریزونا ریاست کے کانگرس میں نمائندے روبن گالکو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پانچ سال تک کردوں کے ساتھ ملکر مختلف کاروائیاں انجام دی ہیں اور پانچ سال کے بعد اپنے اتحادیوں کو اسطرح چھوڑ دینا امریکہ کی ساکھ اور اعتماد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ترکی کو حملے کی اجازت دینا مغربی ایشیاء میں امریکہ کا بدترین اقدام سمجھا جائے گا۔ کرد اس کے بعد کبھی بھی امریکہ پر اعتماد نہیں کریں گے۔ علاقے  کی سیاست  پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ  کیطرف سے کردوں کو ترک فوجی حملوں میں تنہا چھوڑنا ایک بہت بڑی اسٹریٹجک تبدیلی ہے، لیکن اس سے علاقے میں موجود امریکہ کے تمام اتحادی سخت مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل جیسا امریکہ کا قریبی ترین اتحادی مضطرب و پریشان نظر آرہا ہے۔ معروف اسرائیلی سیاستدان اور دائیں بازو کے لیڈڑ نفٹالی بنٹ نے اپنے ایک بیان میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہودی ریاست اپنی تقدیر کا فیصلہ امریکہ سمیت کسی ملک کے ہاتھ میں نہیں دے گی"۔

امریکہ کے اس روئیے نے حتی اسرائیلی رہنماؤں کو مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے تو سعودی عرب سمیت بعض دیگر ممالک کے قائدین کے قلب و روح میں تشویش کی لہر کا دوڑنا تو فطری امر ہے۔ امریکہ نے کردوں کو تنہا چھوڑ کر ایک لحاظ سے داعش کے بچے کھچے عناصر بالخصوص کردوں کی تحویل میں موجود داعشیوں کو رہا کرنے اور اس علاقے میں کردوں کے محاصرے میں پھنسے داعشیوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی ہے۔ ترکی کے پہلے حملہ میں بعض کرد جیلوں سے داعش کے عناصر کی فرار کرنے کی خبریں میڈیا میں آچکی ہیں۔ اسلامی مذاحمتی بلاک نے ترک حملے کے خلاف موقف لیا ہے۔ ایران بھی شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ پر زور دے رہا ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب نے ترکی کے اقدام پر کڑی تنقید  کی ہے، البتہ آل سعود کی تنقید کا ایک ہدف رجب طیب ارودغان سے سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات بھی ہو سکتے ہیں، جو ترکی کیطرف سے قطر کی حمایت اور جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی موقف کو اہمیت نہ دینا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی تقسیم، سینچری ڈیل، ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خام خیالی، سعودی عرب کو علاقے کا تھانیدار بنانے کا منصوبہ، جنگ یمن، افغانستان میں نام نہاد امن کے قیام، ترکی اور شام کی سرحدوں میں امریکی فوجی موجودگی اور شام، عراق، ایران وغیرہ کو تقسیم در تقسیم کرنے جیسی تمام امریکی سازشیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ امریکی حکام کو اچھی طرح  معلوم ہوگیا ہے کہ ان کے پاس اب سپر پاور والی طاقت نہیں ہے اور پہلے والی پوزیشن پر واپس جانا، امریکہ کے لیے ناممکن ہے۔ علاقے میں امریکی کارکردگی سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ظاہری دعووں کے برخلاف امریکہ کبھی بھی امن قائم کرنے یا دہشت گردی کی بیخ کنی کے درپے نہیں رہا ہے۔ امریکہ، دہشت گرد گروہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں  اور آل سعود کے ساتھ مل کر روزانہ یمن کے مظلوم و بے گناہ اور نہتے عوام کا خون بہا رہا ہے اور اس طرح اس نے اپنی جارحانہ ماہیت کو ظاہر کردیا ہے۔ امریکہ درحقیقت مشرق وسطیٰ پر گذشتہ چند عشروں کے دوران مسلط کی جانے والی جنگوں، بحرانوں اور تنازعات کا اصلی سبب ہے۔ افغانستان، عراق، شام اور یمن کے خلاف جنگیں بھی امریکہ کی غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ تھیں۔
 
اس وقت بھی امریکہ، مشرق وسطیٰ کے علاقے میں سلامتی کے تحفظ کے لئے فوجی اتحاد تشکیل دینے کا جو ڈرامہ رچ رہا ہے، اگرچہ اس کا عملی جامہ پہننا بعید معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی ماہیت، خلیج فارس کے علاقے میں مزید بدامنی پھیلانے کے لئے ہے۔ امریکہ اپنے غیرعاقلانہ اقدامات اور پالیسیوں نیز عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے ذریعے درحقیقت علاقے کو بدامنی کی جانب لے جا رہا ہے اور ان غیرقانونی اقدامات کا ذمہ دار ہے۔ ان تمام مداخلتوں میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ واشنگٹن علاقے کو بدامنی سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ پندرہ سال قبل ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور نظریہ پرداز ساموئل ہٹینگٹن نے فارن افیئرز جریدے میں خبردار کیا تھا کہ دنیا کے بیشتر لوگوں کی نظر میں امریکہ ایک سرکش سپر طاقت میں تبدیل ہورہا ہے اور عالمی معاشروں کے لئے واحد اور سب سے بڑا بیرونی خطرہ ہے۔ امریکہ کے مشہور نظریہ پرداز نوآم چامسکی بھی ایک تجزیے میں کہتے ہیں کہ سرکش اور قانون شکن ممالک علاقے میں لوٹ مار اور وحشی گری میں مشغول ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے جارحانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات کے مقابلے میں کسی کی مزاحمت برداشت کریں۔

ان ملکوں میں سرفہرست امریکہ اور اسرائیل ہیں اور سعودی عرب بھی ان کے جرائم میں شریک ہونے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ ٹرمپ نے اٹلی کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں کو شام کے علاوہ دیگر ملکوں سے بھی نکال لینا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہماری فوج بہت سے ملکوں میں تعینات ہے اور مجھے ان ملکوں کی تعداد بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مجھے ان کی تعداد صحیح طور پر معلوم ہے لیکن یہ بتاتے ہوئے شرم آرہی ہے کیوں کہ یہ بہت احمقانہ اقدام ہے۔ ہم ایسے ملکوں میں بھی موجود ہیں اور وہاں کی حفاظت کر رہے ہیں جو ہمیں پسند نہیں کرتے اور وہ ہم سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ امریکی صدر کی کوشش ہے کہ اپنے اتحادیوں کے درمیان اپنی ساکھ اور اعتماد برقرار رکھنے لئے، اپنی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کریں۔ لیکن ان وجوہات اور دلائل نے کسی کو بھی حتیٰ اپنے داخلی حامیوں کو بھی مطمئن نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ امریکی فوجیوں کا نکل جانا، واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں منجملہ صیہونی حکومت کے لئے تشویش کا باعث بنا ہے۔

اسی خطرے کس پیش نظر امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپؤ نے کہا ہے کہ امریکہ نے شام میں جو پالیسی اپنائی ہے، اس سے اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔ البتہ ٹرمپ کا یہ قول صرف ان علاقوں اور ملکوں پر صادق آتا ہے کہ جہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی واشنگٹن کے لئے مادی و مالی مفادات کی ضامن نہ ہو اور ان ملکوں سے امریکی مفادات پورے نہ ہوتے ہوں۔ درحقیقت ٹرمپ دنیا کے مختلف علاقوں سے امریکی فوجیوں کو نکالے جانے پر مبنی اپنے متعدد دعووں کے باوجود ان ملکوں میں، کہ جنہوں نے امریکی فوجیوں پر بھاری رقم خرچ کی ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ بھاری فوجی و اقتصادی معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں، باقی رہنا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے کا مکمل مصداق، سعودی عرب کے لئے امریکہ کے تازہ دم فوجیوں اور فوجی سازوسامان کا روانہ کیا جانا ہے۔
ختم شد۔۔۔
خبر کا کوڈ : 823108
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب