0
Tuesday 22 Oct 2019 11:08

ایٹمی معاہدہ اور ایران کا چوتھا قدم

ایٹمی معاہدہ اور ایران کا چوتھا قدم
اداریہ
ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ایٹمی معاہدہ موجودہ دور کا ایک نہایت اہم عالمی سفارتی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس پر دستخط ہونے تک کئی برسوں کا عرصہ لگا اور دنیا کے چھ ممالک کے سفارتکاروں نے پوری عرق ریزی کیساتھ یہ معاہدہ تیار کیا۔ امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ایران کے اعلیٰ ترین سفارتکاروں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو سامنے رکھ کر یہ معاہدہ تیار کیا تھا، حالانکہ اس سے پہلے کئی دوسرے ممالک جن میں ہندوستان، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ انہوں نے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے ایٹم بم بنانے تک کا مرحلہ طے کر لیا، لیکن امریکہ سمیت بڑی طاقتیں اور عالمی ادارے صرف زبانی کلامی دعوے کرتے رہے، اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اور یہ ملک تمام عالمی معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بالاخر ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ایران کا ایٹمی پروگرام اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے شروع ہوا تھا۔ لیکن  اس کے برعکس جونہی انقلاب کامیاب ہوا، تو ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کیخلاف منفی پروپیگنڈہ تیز ہو گیا۔ امریکہ اور اسکے حواریوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے امن کیلئے خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔

اسکے باوجود کہ ایران سی ٹی بی ٹی سمیت کئی معاہدوں پر دستخط کر چکا تھا، لیکن اسلام اور ایران دشمنی کی وجہ سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو بھی ایران کیخلاف استعمال کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، لیکن ایران اپنے اصولی موقف پر قائم رہا اور اس نے ہر فورم پر ببانگ دہل کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن اور ٹیکنالوجی کا حصول ایران سمیت آئی اے ای اے کے تمام رکن ممالک کا بنیادی حق ہے۔ امریکی الزامات اور اسرائیلی اقدامات کے اس منظرنامہ میں یورپ داخل ہوا اور اس نے ایران کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیش کش کی۔ ایران نے یورپی ممالک کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور رضاکارانہ بنیاد پر اضافی پرٹوکول جیسی شرط بھی تسلیم کر لی۔ لیکن یورپ کے خودساختہ تحفظات ختم نہ ہوئے اسکے بعد یورپ ہی کی کوششوں سے امریکہ بھی ان مذاکرات میں شامل ہو گیا اور عالمی سطح پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے پانچ جمع ایک ممالک کے مذاکرات شروع ہوئے۔ ایران نے بھی عالمی برادری پر یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ اہل منطق اور اہل مذاکرہ ہے۔

ان مذاکرات میں شرکت کی اور کئی برسوں کی کوششوں کے بعد جب معاہدہ تیار ہوا تو باقی پانچ ممالک کیطرح ایران نے بھی اس پر دستخط کر دیئے۔ اس معاہدے کیوجہ سے سلامتی کونسل نے بھی 2231 قرارداد منظور کر لی اور ایران پر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کیطرف قدم بڑھایا، لیکن جب امریکہ اور یورپ کی اس معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کی نوبت آمد آئی تو پہلے امریکہ بہادر اس معاہدے سے نکل گیا اور اب یورپ بھی مختلف حیلے بہانوں سے اس معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد سے کترا رہا ہے۔ یورپ امریکی دباؤ کا شکار ہے اور وہ صرف ایران پر زور دیتا ہے کہ اس معاہدے کی شقوں پر عمل کرے، لیکن خود اس معاہدے کی کسی شق بالخصوص پابندیوں کے خاتمے اور بینکنگ کے شعبے میں کسی قسم کی سہولت دینے کو تیار نہیں۔ ایران نے امریکہ اور یورپ کی اس غیر سفارتی اقدام کیخلاف ابھی تک تین قدم اٹھائے ہیں اور نومبر کے پہلے ہفتے میں چوتھا قدم اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ایران کے اس اعلان پر یورپ سٹپٹا اٹھا ہے۔ یورپی ٹرائیکا (فرانس، برطانیہ، جرمنی) کا اگلا قدم کیا ہوگا اسکا انتظار ہے، تاہم ایران نے ختمی فیصلہ کر لیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 823351
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے