0
Thursday 24 Oct 2019 15:38

آزادی سے پہلے برصغیر کے مسلمان معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد(1)

آزادی سے پہلے برصغیر کے مسلمان معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد(1)
تحریر: حمزہ ابراہیم

پاکستان بننے کے بعد شیعوں کے خلاف متشدد جرائم کے بارے میں بات کرنے میں ہماری قوم کو ایک شرم کا احساس ہوتا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنانے اور ہندوتوا کے فاشزم سے نجات پانے کیلئے بنایا گیا تھا، اس میں اس معاملے پر بات کرنا شرمندگی کا باعث تھا کہ اس ملک میں جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی ایک مسلمان اقلیت کو اسی فاشزم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ میڈیا نے خود پر ایک سنسر شپ نافذ کر لی اور ایسے واقعات میں متاثرین اور حملہ آوروں کی شناخت، اعداد و شمار اور جرم کے اہداف کا ذکر چھپانا شروع کر دیا[1]۔ اس پر مستزاد یہ کہ قیام پاکستان کے بعد  سے ہی تقسیم ہند کے مخالفین کی طرف سے اس قتل و غارت کو دو قومی نظریئے کا نتیجہ کہا جانے لگا، حالانکہ یہ بات ایک طعنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ دو قومی نظریئے کا مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کی ہندو دشمنی[2] سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ کبھی قائد اعظم نے ان لوگوں کا ذکر کیا۔

دو قومی نظریہ برصغیر میں قومی ریاستوں کے ماڈرن تصور کے مطابق جغرافیائی اکثریت کی بنیاد پر دو قوموں (نیشن سٹیٹس) کے قیام کی تجویز تھی۔ شیعہ سنی مسئلے کی بنیاد قومی نہیں تھی بلکہ یہ ایک ہی قوم میں چھوٹے ذیلی گروہ کے خلاف مذہبی منافرت کا مسئلہ تھا، جو پاکستان کو ورثے میں ملا اور اسکی جڑیں ان اردو اور پشتو والے علاقوں میں گہری تھیں، جہاں شاہ ولی اللہ وغیرہ کے اثرات گہرے ہوچکے تھے۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد پختون اور مہاجر آبادی والے علاقوں میں شیعوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ میڈیا کا شیعہ کشی کے معاملے پر شرمانا ایک طرح کا ”مٹی پاؤ“ رجحان ہے، لیکن اس سے حملہ آوروں کو کارروائیاں جاری رکھنے کا لائسنس مل گیا۔ ذیل میں قیام پاکستان سے پہلے اس مسئلے کی موجودگی اور اس کے عروج تک پہنچ جانے کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

انیسویں صدی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی:
شمالی برصغیر میں شیعوں کے خلاف منظم حملوں کا آغاز 1802ء میں کربلا پر نجد سے جانے والے وہابی لشکر کے حملے [3] اور اس کو نمونہ عمل سمجھ کر 1818ء سے 1820ء کے درمیان اودھ، بہار اور بنگال میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی طرف سے تعزیے اور امام بارگاہیں جلانے سے ہوا۔ باربرا مٹکاف لکھتی ہیں: ”دوسری قسم کے امور جن سے سید احمد بریلوی شدید پرخاش رکھتے تھے، وہ تھے جو تشیع سے پھوٹتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعزیے بنانے سے خاص طور پر منع کیا، جو شہدائے کربلا کے مزارات کی شبیہ تھے اور جن کو محرم کے جلوسوں میں اٹھایا جاتا تھا۔ شاہ اسماعیل دہلوی نے لکھا: '’ایک سچے مومن کو طاقت کے استعمال کے ذریعے تعزیہ توڑنے کے عمل کو بت توڑنے کے برابر سمجھنا چاہیئے۔ اگر وہ خود نہ توڑ سکے تو اسے چاہیئے کہ وہ دوسروں کو ایسا کرنے کی تلقین کرے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو اسے کم از کم دل میں تعزیے سے نفرت کرنی چاہیَے۔ سید احمد بریلوی کے سوانح نگاروں نے، بلا شبہ تعداد کے معاملے میں مبالغہ آمیزی کرتے ہوئے، سید احمد بریلوی کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں تعزیے توڑنے اور امام بارگاہوں کے جلائے جانے کا ذکر کیا ہے“[4]۔

انکی تحریک سیاسی تحریک نہ تھی بلکہ اسلحے کی مدد سے سیاسی اور مذہبی مقاصد کے حصول کی کوشش تھی، جو دہشتگردی کی ہر تعریف پر پوری اترتی ہے۔ ان دو صاحبان نے 1826ء میں پشاور میں ایک طالبانی ریاست قائم کی، جو 1831ء میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہی انجام کو پہنچی[5] لیکن اس نے یہاں کے مذہبی رویوں پر گہرے اثرات چھوڑے۔ اس کے بعد سے جتھوں کی شکل میں جلوسِ عزا اور امام بارگاہوں پر حملوں کا ایک تسلسل نظر آتا ہے۔ ایسے تنازعات پر دہلی اردو اخبار کی 22 مارچ 1840ء کی ایک خبر ملاحظہ کریں: ’’سنا گیا کہ عشرۂ محرم میں باوجود اس کے کہ ہولی کے دن بھی تھے، اس پر بھی بسبب حسن انتظام صاحب جنٹ مجسٹریٹ اور ضلع مجسٹریٹ کے بہت امن رہا۔ کچھ دنگا فساد نہیں ہوا۔ صرف ایک جگہ مسمات امیر بہو بیگم بیوہ شمس الدین خان کے گھر میں، جو شیعہ مذہب ہے اور وہاں تعزیہ داری ہوتی ہے، کچھ ایک سنی مذہبوں نے ارادہء فساد کیا تھا لیکن کچھ زبانی تنازع ہوئی تھی کہ صاحب جنٹ مجسٹریٹ کے کان تک یہ خبر پہونچی۔ کہتے ہیں کہ صاحب ممدوح جو رات کو گشت کو اٹھے تو خود وہاں کے تھانہ میں جاکے داروغہ کو بہت تاکید کی اور کچھ اہالیان پولس تعین کیے کہ کوئی خلاف اس کے گھر میں نہ جانے پاوے۔ سو خوب انتظام ہوگیا اور پھر کہیں کچھ لفظ بھی نزاع کا نہ سنا گیا ‘‘[6]۔

کنہیا لال نے اپنی کتاب ”تاریخ لاہور“ میں لکھا ہے: ”1849ء میں اس مکان (کربلا گامے شاہ) پر سخت صدمہ آیا تھا کہ 10 محرم کے روز جب ذوالجناح نکلا تو رستہ میں، متصل شاہ عالمی دروازے کے، مابین قوم شیعہ و اہل سنت کے سخت تکرار ہوئی اور نوبت بزد و کوب پہنچی۔ قوم اہلسنت نے اس روز چاردیواری کے اندرونی مکانات گرا دیئے۔ مقبرہ کے کنگورے وغیرہ گرا دیئے۔ چاہ کو اینٹوں سے بھر دیا۔ گامے شاہ کو ایسا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ آخر ایڈورڈ صاحب دپٹی کمشنر نے چھاونی انار کلی سے سواروں کا دستہ طلب کیا تو اس سے لوگ منتشر ہوگئے اور جتنے گرفتار ہوئے ان کو کچھ کچھ سزا بھی ہوئی“[7]۔ مولوی نور احمد چشتی نے اپنی کتاب ”یادگار چشتی“ مطبوعہ 1859ء میں لکھتے ہیں: ”اور ہر بازار میں لوگ واسطے دیکھنے کے جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف سے گلاب کا عرق اس (ذوالجناح) پر چھڑکا جاتا ہے مگر بعض تعصب سے اس کو ہنسی کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان کو ”مدد چار یار“ کہتے ہیں اور اکثر اس پر کشت و خون ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جب میجر کر کر صاحب بہادر لاہور میں ڈپٹی کمشنر تھے، تب سنی شیعہ میں بہت فساد ہوا اور بہت لوگ مجروح ہوئے۔ تب سے اب ہمیشہ شہر لاہور میں ڈپٹی کمشنر صاحب اور کوتوال اور تحصیل دار اور سب تھانے دار لوگ اور ایک دو کمپنی پلٹن کی اور ایک ملٹری صاحب اور ایک رسالہ، شیعہ لوگوں کی محافظت کے واسطے گھوڑے کے ساتھ ہوتا ہے، تاکہ کوئی سنی دست درازی نہ کرسکے، مگر تو بھی وہ لوگ باز نہیں آتے“[8]۔

یوں آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل ہی شہروں میں عزاداری کیلئے حفاظتی انتظامات کئے جانے لگے تھے اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ آج دیہاتوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ اس زمانے میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے پیروکاروں کے لیے "وہابی" کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، بعد میں یہ مکتب فکر دیوبندی اور اہلحدیث میں تقسیم ہوگیا۔ انگریز دور میں مرتب کردہ کچھ گزیٹئرز موجودہ پاکستان کے علاقوں میں وہابیوں کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ درج ذیل جدول میں ان گزیٹئرز میں موجود اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں۔

انگریز دور کی مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی میں وہابیوں کا تناسب:
سال | ضلع | وہابیوں کی تعداد | گزیٹئر کے صفحے کا حوالہ

98–1897 | پشاور   | 0.01% | صفحہ 110
84–1883 | شاہ پور| 0.07% | صفحہ 40
84–1883 | جھنگ  | 0.02% | صفحہ 50
94–1893 | لاہور    | 0.03% | صفحہ 94
جہاں یہ اعداد و شمار سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے پیروکاروں کی ان علاقوں میں موجودگی کا پتہ دیتے ہیں، وہیں ان میں بتائی گئی تعداد اصل تعداد سے کم ہے، کیونکہ اس زمانے میں وہابی کہلائے جانے والے لوگ انفرادی زندگی میں اپنے مسلک کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ وہابیوں میں تقیہ کے اس رجحان کی طرف لاہور کے گزیٹئر میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: ”وہابیوں کی گنتی انکے اصلی تخمینے سے بہت کم ہے؛ شاید اکثر وہابی مسلمانوں نے اپنی وہابی شناخت کو ظاہر کرنا محفوظ نہ سمجھا۔“ اسکی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ انگریزوں نے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کو بنگال اور بہار میں لشکر بنا کر رنجیت سنگھ کے خلاف لڑنے میں مدد دی تھی، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ لوگ ان مسیحیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں اور انہیں حد سے زیادہ طاقتور نہیں ہونے دینا۔ لہذا جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تو اس گروہ کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں یہ لوگ تقیہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ زمانہ حاضر میں بھی شام میں اسد کے خلاف داعش کی سہولت کاری اور ضرورت ختم ہونے کے بعد اس کا ڈنگ نکالنے کی شکل میں وہی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 823491
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے