0
Wednesday 23 Oct 2019 11:48

یورپ اور امریکہ مائنس فارمولا

یورپ اور امریکہ مائنس فارمولا
اداریہ
اہل فکر و نظر نئی نئی فکری و نظریاتی بستیاں بساتے رہتے ہیں۔ انسان کا ذہن تخلیقی صلاحیت سے مالا مال ہے اور اسکی تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے ہی اسے تمام مخلوقات سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ ہر باشعور انسان اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات کو دیکھتا اور اسکا تجزیہ کرتا ہے، اگر انسان کے اندر مشاہدے اور تجزیئے نیز اس تجزیئے کے نتیجے میں عمل درآمد کی صلاحیت و جذبہ ناپید ہوجائے تو اسے اپنی عقل و خرد کو ریاضت و جستجو کے آب زلال سے پاک و صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبدیلی انسانی تقاضا اور فطرت کا لازمی جزو ہے۔ البتہ ہر انسان کا اپنا دائرہ کار اور وژن و افق ہوتا ہے۔ بعض انسان کنوئیں کے مینڈک بن کر سوچتے ہیں اور بعض ستاروں سے آگے جہانِ نو کی تلاش میں کوشاں رہتے ہیں۔ دنیائے سیاست میں بھی ہر سیاستدان کی اپنی اپنی اڑان کی حدود و قیود ہیں۔ اب یہ بات کسی حد تک نمایاں ہو کر سامنے آ رہی ہے کہ اس کائنات میں رائج بعض مسلط کردہ اصولوں و ضوابط کو چیلنج کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں اکثر سیاسی جماعتوں کے بارے میں بھی فلاں مائنس اور فلاں لیڈر کے بغیر سیاسی جماعتوں کی ترقی کے فارمولے پیش کیے جاتے ہیں، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس لیڈر کو مائنس کرنے کا فارمولا پیش کیا جاتا ہے، وہ بعض کے نزدیک اس جماعت یا پارٹی پر بوجھ بن جاتا ہے۔ لہٰذا "جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں"۔ عالمی سیاسی صورتحال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ عالمی سیاست میں بھی بعض ممالک عالمی سیاسی کشتی کیلئے اضافی بوجھ میں تبدیل ہو چکے ہیں، ان کو یا تو کشتی سے اتارنے کی ضرورت ہے یا انہوں سپر طاقت کا جو اضافی بوجھ اپنے کاندھوں پر لادا ہے، اسکو دریا برد کرنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ دن ایران کے دارالحکومت تہران میں "چند قطبی نظام اور بین الاقوامی قوانین" کے زیرعنوان ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف ممالک کے شرکاء نے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے۔

سوال یہ ہے کہ عالمی معاشرے میں کثیر الجہتی کی جانب رجحان میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں اور یکطرفہ پسندی کے خلاف نفرت کی کیا وجوہات ہیں؟۔ اسکا ایک سادہ جواب یہ ہے کہ بعض سپر طاقتوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے انجام پانے والے فیصلوں کا اس بری طرح استحصال کیا ہے کہ اس نظام سے عالمی برادری کا اعتماد اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ اب دنیا میں امریکہ اور یورپ مائنس عالمی نظام شروع کرنیکی طرف قدم بڑھایا جائے۔ مغرب کی اجارہ داری نے عالمی سیاست کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور مقبول ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مغرب مائنس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے نہ تو سارے واقعات مغرب میں پیش آتے ہیں اور نہ ہی مغرب پوری دنیا کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے۔ مغرب اپنے فیصلے خود کرے، لیکن دوسروں کے فیصلے متعلقہ ممالک اور اقوام پر چھوڑ دے۔ اگر اسی فیصلے پر عمل درآمد ہو جائے تو دنیا کی کئی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
خبر کا کوڈ : 823553
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے