0
Wednesday 23 Oct 2019 19:06

عالمی برادری نے بھی بھارت کو جھوٹا قرار دے دیا

عالمی برادری نے بھی بھارت کو جھوٹا قرار دے دیا
تحریر: طاہر یاسین طاہر

پروپیگنڈا دشمن کے اعصاب کو کمزور کرنے اور اپنے عوام کے جذبات کو انگیخت کرنے کا اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، بالخصوص جب کوئی ملک حالت جنگ میں ہو، یا جنگ کی طرف پیش قدمی کا سوچ رہا ہو۔ مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی بنیاد مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت جب کشمیر کے ایشو کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا، تو اس عالمی ادارے نے اپنی قراردادوں میں، قرار دیا دیا تھا کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے۔ لیکن بھارت نے آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کبھی خاطر میں نہیں لایا، بلکہ ایک ہی راگ الاپتا رہا کہ کشمیر بھارت کا "اٹوٹ انگ" ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور پھر ان مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھارت تسلسل سے کرتا چلا آرہا ہے۔ دنیا کے عدل پسند اور عالمی سیاسی کروٹوں پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ نریندر مودی کی سیاست کا مرکزی خیال کیا ہے۔ تعصب، مسلم کشی، نفرت اور ہندو ازم کا پرچار۔ مودی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی جارحیت پسند سیاست، اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے بھارت، پاکستان سمیت عالمِ انسانیت کا کتنا نقصان ہو گا۔

یہ بدقسمتی ہے کہ عالمی دہشت گردوں کی لسٹ میں شمار کیا جانے والا شخص اپنی چالاکیوں اور نفرت انگیز سیاست کے باعث بھارت کا وزیراعظم بن گیا۔ گجرات کا قصائی، کے نام سے بدنامی کا داغ اپنے دامن پر سجانے والے شخص سے امن و آشتی کی توقع عبث ہے۔ جس شخص کی فطرتِ ثانیہ ہی نفرت انگیزی اور مسلم کشی بن چکی ہو، اس سے کسی بھی طرح کی خطرناک حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاک بھارت مسئلہ کشمیر کے درمیان بہ طور " ثالثی" کا کردار ادا کرنے کی بات کی، تو یوں سمجھیں کہ اگلے ہی لمحہ میں بھارت نے لوک سبھا سے کشمیر کے متعلق اپنے آئین کی دو شقوں میں تبدیلی کر کے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ہی بدل دی۔ ساتھ ہی ساتھ 5 اگست سے مقبوضہ وادی میں کرفیو بھی نافذ ہے، جس کے باعث مقبوضہ کشمیر میں ادویات، خوراک، اور دیگر بنیادی ضروریات و سہولیات کی قلت پیدا ہو چکی ہے، یوں سمجھیں کہ مقبوضہ کشمیر میں اب انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ اپنے اس ظالمانہ اقدام کو طاقت کے زور پر قائم رکھنے کے لیے بھارت پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج تعینات کر چکا ہے۔

اگر عالمی برادری بالخصوص امریکہ کی جانب سے دبائو بڑھتا ہے اور بھارت کرفیو میں نرمی کرتا ہے یا اسے اٹھا لیتا ہے تو وادی کے محصورین پہلی فرصت میں زبردست احتجاج کریں گے، بھارتی فورسز پر پتھرائو کریں گے، جس کا لازمی جواب بھارتی فورسز گولی سے دیں گی، اور اس کے بعد کی صورتحال پر صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں ہو گا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری، اور اسے مسلسل سلگائے رکھنے کی پالیسی اصل میں عالمی برادری کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بھارت یہ کہتا ہے کہ وہ "دہشت گردوں" کے کیمپوں کو نشانہ بناتا ہے، جنھیں بھارت کے بقول پاکستان کی مدد حاصل ہے۔ بھارت کا یہ مسلسل پروپیگنڈا کئی حوالوں سے ماضی میں سفارتی سطح پر کامیاب بھی رہا اور پاکستان اس حوالے سے کوئی موثر سفارتی جواب نہ دے سکا۔ ماضی کی کشمیر کمیٹی اور اس کے چیئرمین بھی عالمی برادری کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ اب مگر حالات بہت زیادہ مختلف ہیں اور پاکستان سفارتی محاذ پر زیادہ سرگرم ہے، جبکہ اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں۔ یہ بات بھارت جانتا ہے کہ اس نے اگر کوئی کارروائی کی تو پاکستان ایک بار پھر اسے حیران کن جواب دے گا، اس سے پہلے 26 فروری کو پاکستان عسکری محاذ پر بھارت کو حیران کن جواب دے چکا ہے۔

گزشتہ روز سفارتی محاذ پر ایک بار پھر پاکستان نے بھارت کو حیران کن جواب دیا۔یاد رہے کہ "پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے، "جورا" سیکٹر کا دورہ کروایا اور اس موقع پر بریفنگ بھی دی گئی۔ یل او سی کا دورہ کرنے کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان وادی نیلم پہنچے، تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں گئے۔ا یل او سی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفرا کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔ اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز نے ان مقامات کا جائزہ لیا، جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی سے نقصان پہنچا جبکہ ان ہتھیاروں کا بھی معائنہ کیا جو بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران شہری آبادی پر داغے تھے۔ اس دوران غیر ملکی سفارتکاروں کو پیشکش کی گئی کہ جہاں مرضی جائیں اور خود صورتحال کا جائزہ لیں۔

بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2018 میں بھارت کی جانب سے 3038 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، جس میں 58 شہری شہید اور 319 زخمی ہوئے۔ اسی طرح  2019 میں بھارت نے اب تک 2 ہزار 608 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 44 شہری شہید اور 230 زخمی ہوچکے ہیں۔ سفارتکاروں کو بریفنگ میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان یہ فرق ہے کہ ہم فوجی اقدار پر عمل کرتے ہیں اور صرف بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ساتھ ہی میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میرا اور پورے پاکستان کا چیلنج ہے کہ جس طرح سفارت کار اور میڈیا نمائندگان آزاد کشمیر میں آئے ہیں، اسی طرح بھارت صرف ایک دن کے لیے ان لوگوں کو مقبوضہ کشمیر یا وہاں ایل او سی کی جانب لے کر جائے اور پھر دیکھیں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں پاکستان کیسے بستا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جائیں اور وہاں سے حقائق سامنے لائیں اور بتائیں کہ 79 دن سے 80 لاکھ لوگ وہاں کس طریقے سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ نیلم وادی کا دورہ کرنے کے بعد غیر ملکی سفرا نے بھارتی آرفی چیف کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی یہ تشویش مزید گہری ہو، تاکہ دنیا کے فیصلہ ساز ممالک بھارت کو سمجھا سکیں کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو خدانخواستہ پاک بھارت جنگ کا امکان روز بروز گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نہ صرف پاک بھارت بلکہ خطے اور دنیا پر بھی اس جنگ کے انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ دونوں ملک جوہری طاقت کے حامل ہیں، اور جنگوں کے ممکنہ نتائج پر کبھی بھی قیاس درست ثابت نہیں ہوتا، بلکہ جنگ ایک ایسی پیاسی ڈائن کا نام ہے جسے انسانی لہو کی طلب ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 823665
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے