3
Wednesday 23 Oct 2019 20:14

مغربی ذرائع ابلاغ اور نپا تُلا نفع و نقصان

مغربی ذرائع  ابلاغ  اور  نپا تُلا نفع و نقصان
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

وہ فضا سازی کیلئے خبریں نشر کرتے ہیں، ان کی ہر خبر ان کے لئے مطلوبہ ماحول کو بنانے میں مددگار ہوتی ہے، ان کے نظریات اسی ماحول میں بکتے ہیں، لہذا وہ کوئی بھی خبر یا کالم یونہی بریک یا نشر نہیں کرتے۔ پہلے مرحلے میں ان کا مقصد صرف رد عمل کو دیکھنا ہوتا ہے، رد عمل سے انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اگلا قدم کیسے اٹھانا ہے! اگر ان کا پہلا ہی تیر نشانے پر لگ جائے یعنی وہ جیسا ماحول بنانا چاہتے تھے وہ بن جائے تو پھر  وہ اپنی بات کرنی شروع کر دیتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ رد عمل کے مطابق کسی بھی تحریک یا نظریے کے ساتھ ساتھ چلنے لگتے ہیں، یہانتک کہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ چلنے والے لوگ کون ہیں، اس وقت یہ ادارے لوگوں کی اس غفلت اور فراموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ان کے مشترکہ ہدف سے بیزار کر کے اپنے مخصوص ہدف کی طرف کھینچنے لگتے ہیں۔ ان کا مخصوص ہدف ہر نظریے اور تحریک کی پہلے مرحلے میں مغرب سازی اور پھر آخری مرحلے میں یہودی سازی کرنا ہے۔ مثال کے طور پر  انہوں نے چہلم امام حسینؑ کے ایام میں ایک ڈاکومنٹری چلاکر ردِّ عمل کو چیک کیا۔

رد عمل اتنا شدید تھا کہ انہوں (بی بی سی) نے اربعین واک کی ہمراہی کرنا ضروری سمجھا، چنانچہ اربعین واک ۔۔۔۔۔ کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی، جسے ہمارے اپنے لوگوں نے خوب آگے فارورڈ کیا۔ ایسی رپورٹس کے ساتھ جب یہ ادارے عوام میں اپنی مقبولیت بنالیتے ہیں تو پھر اس کے بعد پلٹ کر وار کرتے ہیں، لیکن اس وقت تک یہ لوگوں میں اپنا مقام اس حد تک بنا چکے ہوتے ہیں کہ عام آدمی بھی یہ کہنے لگتا ہے کہ اگر  یہ ادارے آپ کے حق میں کوئی چیز نشر کریں تو آپ لوگ اسے مان بھی لیتے ہیں اور فارورڈ بھی کرتے ہیں، لیکن اگر یہ ادارے کسی خامی کی نشاندہی کریں تو پھر آپ لوگ انہیں استعماری کہہ کر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ہم خود ہی مغربی ذرائع ابلاغ کی حقانیت اور غیر جانبداری پر مہر تصدیق ثبت کر چکے ہوتے ہیں۔ جب یہ ادارے کسی بھی تحریک، تنظیم یا نظریے کے حوالے سے ہمارے معاشرے سے غیرجانبدار ہونے کی سند حاصل کر لیتے ہیں تو پھر اس تحریک، تنظیم یا نظریے پر متفق ہونے والے افراد کے باہمی اتحاد کو متزلزل کرتے ہوئے اس تحریک کو مغرب کی سمت موڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

مثلا جب یہ چہلم امام حسینؑ کے حوالے سے رپورٹنگ کریں گے، تو اس کے اندر غیر محسوس اور ہلکے پھلکے انداز میں ایسی منفی باتوں کا ذکر بھی کریں گے، تاکہ مسلمانوں کے ذہن میں جو چہلم امامؑ کا تقدس ہے، وہ کم رنگ اور دھیما ہو جائے، اس کے بعد وہ اس کی مغرب سازی پر کام شروع کریں گے۔ مغرب سازی کیلئے وہ ایسی ابحاث چھیڑیں گے کہ اس طرح کی ایک عظیم الشان ریلی جس میں اسی طرح دینداری، ایثار، فداکاری اور بیداری پائی جاتی تھی وہ اتنے سو سال پہلے یورپ کے فلاں شہر میں ہوتی تھی اور یہ چہلم کی ریلی اصل میں یورپ کی فلاں ریلی سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے، یا تقابلی موضوعات کے نام سے اس طرح کا کام بھی شروع کیا جا سکتا ہے کہ یورپ کی فلاں ریلی اور اربعین واک کا تقابلی جائزہ، نظریات اور تحریکوں کی اس طرح  کی مغرب سازی اور یہودی سازی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی تحریک جو انسانوں کو بیدار کرنے کیلئے اٹھتی ہے، جو  ظلم اور استعمار کی شناخت اور جبرواستبداد سے نجات کیلئے چلتی ہے وہ تحریک خود  بخود مڑ کر دوبارہ مغرب اور یہود کے آستانے پر سر رکھ دیتی ہے۔

اس سارے عمل کو ہم اس مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے اگر کسی علمی نظریے کی یہودی سازی کرنی ہو تو مغربی ذرائع ابلاغ شروع میں اس طرح سے پروپیگنڈہ شروع کرتے ہیں کہ نیوٹن یہودی تھا، اگر رد عمل شدید آئے تو پھر اس کے یہودی ہونے کے بجائے اس کے ایک یہودی ہمسائے کے علمی کارنامے بیان کرنا شروع کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ نیوٹن کا اس کے ساتھ بہت اٹھنا بیٹھنا تھا، اگر یہ حربہ بھی کارگر نہ ہو تو پھر نیوٹن کے ہی خوب فضائل شروع کر دیتے ہیں اور جب لوگ نیوٹن کے موضوع پر ان کی باتیں قبول کر لیتے ہیں تو پھر آہستہ آہستہ ایک آدھ جملے میں کہیں نہ کہیں یہ بھی نشر ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ جس دن نیوٹن نے کششِ ثقل کو دریافت کیا، اس دن اسے ناشتے کیلئے ایک یہودی نے مدعو کیا تھا، دونوں میں کچھ دیر کیلئے خفیہ بات چیت ہوئی اور پھر جب نیوٹن باغ میں گیا تو اس نے گرتے ہوئے سیب کو دیکھ کر  کشش ثقل کو دریافت کر لیا۔ 

بالکل ایسا ہی دینِ اسلام کے ساتھ بھی کیا گیا، پیغمبرِ اسلامﷺ کے بارے میں بھی یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ آپ فلاں سفر میں فلاں یہودی عالم سے ملے اور اس سے علم کسب کیا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح اسرائیلیات کا جو ایک پورا سلسلہ احادیث میں پایا جاتا ہے، وہ بھی ہمیں بیدار اور متنبہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ اسرائیلیات کے ذریعے دینِ اسلام کے تقریباً ہر موضوع کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا عرائض کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی نشریات کو فارورڈ کرتے ہوئے ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ ممکن ہے کہ ان کی آج کی نشرکردہ کوئی رپورٹ ہمارے حق میں ہو، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس رپورٹ کو نشر کرنے والوں نے اس رپورٹ کا نفع اور نقصان پہلے سے سوچ کر رکھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے ہاں خبریں اور تجزیے نیز نفع و نقصان سب کچھ نپا تُلا ہوتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 823666
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے