0
Wednesday 23 Oct 2019 20:28

صدی کی ڈیل مکمل ناکامی کا شکار

صدی کی ڈیل مکمل ناکامی کا شکار
تحریر: رامین حسین آبادیان

گذشتہ چند دنوں میں اسرائیلی میڈیا پر تجزیہ نگاروں کی جانب سے شائع ہونے والی مختلف رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صدی کی ڈیل کی ناکامی کا واضح اعتراف کر چکے ہیں۔ یہ منصوبہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا لیکن اب تک سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار "معاریو" اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: "ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر صدی کی ڈیل کیلئے مختلف ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اس منصوبے کی کسی قسم کی مخالفت اس کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔" اس اسرائیلی اخبار نے پیشن گوئی کی ہے کہ عنقریب جیرڈ کشنر کا دورہ تل ابیب بھی ناکامی کا شکار ہو گا اور صدی کی ڈیل کی مخالفت بڑھتی جائے گی۔ معاریو میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بار پھر صدی کی ڈیل کے سرکاری اعلان کی تاریخ کو موخر کر دیا جائے گا۔
 
دوسری طرف ایک اور اسرائیلی اخبار "جیراسلم پوسٹ" نے بھی خطے کیلئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلاٹ کے عنقریب استعفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کی ناکامی اور مقبوضہ فلسطین میں بحران کی شدت کی علامت ہے۔ یہ اخبار مزید لکھتا ہے: "بہت جلد خطے کیلئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلاٹ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ انہوں نے گذشتہ برس ستمبر میں اپنے استعفے کی پیشن گوئی کی تھی لیکن کچھ عرصے بعد کہا کہ وہ صدی کی ڈیل کے سیاسی شعبے کا سرکاری سطح پر اعلان ہونے تک اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔" اخبار کے مطابق اب بھی جیسن گرینبلاٹ نے اسرائیلی کابینہ تشکیل نہ پانے کے باعث اپنے استعفے کے فیصلے کو موخر کر دیا ہے اور طے پایا ہے کہ وہ آئندہ ماہ کے شروع میں استعفی دے دیں گے۔ صدی کی ڈیل کے سرکاری سطح پر اعلان ہونے سے پہلے اس کی ناکامی سے متعلق اسرائیلی میڈیا کا یہ واضح اعتراف درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منحوس منصوبہ اپنی پیدائش سے پہلے ہی موت کا شکار ہو گیا ہے۔ البتہ اس منصوبے کا سرکاری سطح پر اعلان کئی بار موخر ہو جانا بذات خود اس کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
 
مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے صدی کی ڈیل نامی منصوبے کا سرکاری سطح پر اعلان موخر ہونے کی وجہ اسرائیلی کابینہ کا تشکیل نہ پانا بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے انتخابات سے پہلے یا ان کے دوران صدی کی ڈیل کا سرکاری سطح پر اعلان کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ڈیوڈ فریڈمین کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدی کی ڈیل مکمل طور پر ایک اسرائیلی منصوبہ ہے جسے تل ابیب اور واشنگٹن کے مفادات کی روشنی میں بنایا گیا ہے۔ لہذا اس میں صرف اسرائیلیوں کے مفادات کو مدنظر قرار دیا گیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق سے یکسر چشم پوشی کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر فلسطینی جماعتوں اور گروہوں نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے صدی کی ڈیل نامی پیش کیا گیا منصوبہ درحقیقت فلسطین کاز کی نابودی کا منصوبہ ہے کیونکہ اس میں پوری فلسطینی سرزمین اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو سونپ دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں واضح طور پر جلاوطن فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق کا انکار کیا گیا ہے۔
 
صدی کی ڈیل نامی منصوبے کا ایک اور مقصد مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ اگر بالفرض فلسطینی گروہ اس منصوبے پر راضی ہو جاتے ہیں تو اس کا منطقی نتیجہ اسلامی مزاحمت اور جدوجہد ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ لیکن یہ فرض تقریبا ناممکن ہے۔ لہذا اب امریکی حکام اس نتیجے تک پہنچ رہے ہیں صدی کی ڈیل کا اجرا ممکن نہیں اور وہ اس منصوبے کے ذریعے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس بارے میں ایک اور اہم نکتہ سعودی حکام کی جانب سے فلسطین کاز سے غداری ہے۔ سعودی حکمرانوں نے صدی کی ڈیل نامی منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس طرح مسئلہ فلسطین سے غداری کی ہے۔ گذشتہ تاریخ میں موجودہ سعودی حکمرانوں کی حد تک کسی مسلمان حکمران نے مسئلہ فلسطین سے غداری نہیں کی تھی۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ امریکہ کو صدی کی ڈیل نامی منصوبے کا راستہ دکھانے والے سعودی حکمران ہی تھے۔ لیکن آل سعود کی جانب سے بے پناہ مالی اخراجات کے باوجود یہ منصوبہ اجرا کے قابل نہیں ہے۔ امت مسلمہ میں اس منحوس منصوبے کے خلاف شدید مخالفت پائی جاتی ہے اور اسی عوامی دباو کے باعث کوئی بھی مسلم حکمران اس منصوبے کی حمایت کرنے کی جرات نہیں کر رہا۔  
 
خبر کا کوڈ : 823675
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے