4
Wednesday 23 Oct 2019 15:52

داعش افغانستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان

داعش افغانستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان
تحریر: سید میثم ہمدانی
meesamhamadani@gmail.com

گذشتہ ہفتہ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں دسیوں نہتے نمازی جاں بحق ہوگئے۔ نماز کے دوران جاں بحق ہونے والے نمازیوں کی تعداد 72 افراد تک بتائی گئی ہے۔ پاکستان ایک عرصہ دراز تک اس قسم کی وحشتناک کارروائیوں کی تجربہ گاہ رہا ہے، اب یہ سلسلہ افغانستان میں بھی رواج پکڑ رہا ہے۔ افغانستان کے گروہوں نے اس کارروائی کا ذمہ دار داعش کو قرار دیا ہے۔ داعش جو ایک زمانے میں "دولت اسلامی عراق و شام" کے سیاہ پرچم کے ساتھ شامات اور عراق کے تیل خیز علاقوں میں وحشتناک کارروائیوں میں ملوث رہی اور اپنی تمام تر دہشت گردی کی پیکان کو آئمہ اطہار مسلمین اور مقدس مقامات کی نابودی اور عوام کے قتل عام کی طرف متوجہ کیا تو 1400 سال کے بعد بھی پیروان آئمہ اطہار علیہم السلام نے ان کی کمر کو توڑ کر اس بات کو ثابت کر دیا کہ اسلام کے حقیقی پیروکار اب بھی زندہ ہیں اور وہ دشمن کی ہر ایسی چال کو جو اسلام کو بدنام کرنے اور اسلام کی حقیقی تصویر کو بگاڑنے کیلئے چلی جائی گی، ناکام بنا دیں گے۔

شامات کے علاقوں میں ذلت آمیز شکست کے بعد بچے کھچے شکست خوردہ لشکر اب امریکی، صیہونی، عرب اور غربی آقاوں کے زیرسایہ افغانستان کے عوام پر مسلط کئے جا رہے ہیں۔ یہ ایسے وحشی، انسان نما حیوان ہیں، جن کو نہ شریعت کا پاس ہے، نہ انسانیت کا، جن کیلئے نہ کوئی رشتہ مقدس ہے اور نہ کوئی جگہ۔ موجودہ دور کے خوارج عقل و فراست سے خالی اپنے آقاوں کے اشارے پر ایسے فتنہ پرور ہیں، جو ہرے بھرے کھیتوں کو ویران، بستی آبادیوں کو کھنڈرات اور عصر حاضر کے ممالک کو پتھر کے دور میں بھیجنے کا شیطانی وسیلہ ہیں۔ داعش کیسے بنی؟ ان کے پیچھے کون ہیں؟ ان کے اہداف کیا ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کسی کیلئے مخفی نہیں رہے۔ جن ممالک نے داعش کیلئے رقم فراہم کی، اسلحہ فراہم کیا، افراد فراہم کئے، اب سب ان سے آشنا ہیں۔ گذشتہ ہفتہ کی دہشت گردی کی کارروائی کے بعد افغانستان کے طالبان بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے یہ "داعش کا کام ہے، جو عرب وحشی گروہ ہے، جس کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اگرچہ طالبان بھی اپنے دور کے رستم رہے ہیں، لیکن ان کا داعش کو "وحشی عربی گروہ"  کہنا اس گروہ کے مکروہ عزائم اور ان کی انسانیت سوز افکار کو جاننے کیلئے کافی ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اس کالے فتنہ کا شامات سے افغانستان منتقل ہونا کیا اتنی ہی سادہ بات ہے؟ کیا اس منتقلی میں ہمارے ڈرائیور حضرات جو عرب ولی عھد کی خوشنودی کیلئے اپنے فل یو ٹرنز کاٹنے میں مشہور ہیں، ان کا بھی کوئی کردار ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب تو مستقبل میں ہی روشن ہوگا، لیکن فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس منتقلی میں کوئی کردار نہیں بھی ہے تو اس منتقلی کو روکنے میں کوئی کردار ضرور ہونا چاہیئے، کیونکہ جو ظلم کو دیکھ رہا اور اس پر خاموش رہے، وہ بھی ظالموں کی صف میں شامل ہوتا ہے اور ہمیں اس عظیم قول کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ "حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے، لیکن ظلم سے نہیں۔"

گذشتہ چند ہفتوں میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں داعش اور داعشی فتنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دشمن خصوصاً امریکہ کے افغانستان، عراق اور شام میں خرچ کئے جانے والے بجٹ کو دیکھیں تو آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کتنے بڑے سرمایہ کے ذریعے داعش کو پیدا کیا اور اس کی مسلحانہ، مالی اور میڈیا کے ذریعے مدد کی۔ اب جب شام، عراق اور ایران کے نوجوانوں کی ہمت و جرائت سے داعش ختم ہوگئی ہے تو یہ جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے داعش کو ختم کیا ہے! رہبر انقلاب اسلامی نے ایک اور جگہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ کہتے ہیں کہ داعش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک شخص نے اپنے جوتے سے بچھو کا سر کچلا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ بچھو دوبارہ پلٹ کر آئے گا، اس شخص نے جواب دیا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ جوتا اب بھی میرے ہاتھ میں ہے!
خبر کا کوڈ : 823718
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب