1
Thursday 24 Oct 2019 20:11

شام کے شمالی علاقہ جات میں ترکی کا فوجی آپریشن

شام کے شمالی علاقہ جات میں ترکی کا فوجی آپریشن
تحریر: سید نعمت اللہ

ترکی نے دو ہفتے پہلے شام کے شمالی علاقہ جات میں "امن کا چشمہ" نامی فوجی آپریشن شروع کیا اور اب ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ آپریشن اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا تھا کہ شام میں ترکی کے اس فوجی آپریشن کا مقصد ترکی کی سرحد سے 30 کلومیٹر شام کے اندر تک ایک سیف زون قائم کرنا ہے تاکہ اس میں شام سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر ترکی میں بسنے والے 36 لاکھ مہاجرین کے کیمپ بنائے جا سکیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ رجب طیب اردگان اپنے اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ روس اس موقع کو زیادہ بڑے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ روس 1998ء میں شام اور ترکی کے درمیان انجام پانے والے معاہدے "آدانا" کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر روس اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ شام میں قیام امن کی صورت میں ظاہر ہو گا اگرچہ شام کے شمالی علاقہ جات کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
 
روس کے شہر سوچی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان 9 گھنٹے طویل ملاقات انجام پائی ہے۔ اس ملاقات کا نتیجہ ایک معاہدے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اسی معاہدے کی رو سے شام کے شمالی علاقہ جات میں 150 گھنٹے کیلئے جنگ بندی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں طے پایا ہے کہ شام آرمی اور روس کی ملٹری پولیس پر مشتمل فورسز ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کے شمالی علاقوں میں گشت کریں گی اور ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی۔ البتہ ترکی کی جانب سے شام کے شمال میں قائم کردہ سیف زون کا کنٹرول ترک فورسز کے ہاتھ میں ہو گا۔ اسی طرح معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ کرد فورسز بھی ترکی کی سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گی اور خاص طور پر دو کرد شہروں منبج اور تل رفعت سے باہر نکل جائیں گی۔ ترکی کی وزارت دفاع نے یہ معاہد طے پا جانے کے بعد ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام کے شمالی علاقہ جات میں مزید فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔
 
دوسری طرف روس کی ملٹری پولیس نے دریائے فرات کے مشرق میں ساجور دریا کے کنارے گشت زنی کا آغاز کر دیا ہے۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شام کے شمالی علاقہ جات میں شروع ہونے والی نئی جنگ کے خاتمے کا فارمولہ طے پا گیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان بھی کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہیں شام کے شمال میں سیف زون قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ وہاں شامی مہاجرین کو بسا سکیں۔ روس نے بھی شام کے شمالی علاقہ جات میں شام آرمی کی موجودگی ممکن بنانے کیلئے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی طرح منبج، کوبانی، تل تمر اور بعض دیگر کرد نشین شہروں اور دیہاتوں تک جنگ پھیل جانے کا بھی سدباب کر لیا گیا ہے۔ ان سب کے باوجود اب تک دو بڑے مسئلے ایسے ہیں جو حل ہونا باقی ہیں۔ پہلا مسئلہ ان 35 لاکھ شامی مہاجرین سے متعلق ہیں جو اس وقت ترکی میں موجود ہیں اور ترکی انہیں بسانے کیلئے شام کے شمالی علاقوں میں سیف زون قائم کرنے کے درپے ہے۔ اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ یہ شام مہاجرین زبردستی شام منتقل کئے جائیں گے یا انہیں اس کام کا اختیار حاصل ہو گا، کردنشین علاقوں میں بڑی تعداد میں غیر کرد شامی باشندوں کی موجودگی بذات خود مسئلہ آفرین ہو سکتی ہے۔
 
شاید رجب طیب اردگان شام کی شمالی سرحد پر شامی مہاجرین کو بسا کر اپنی سرحد کے سامنے ایک ہیومن شیلڈ قائم کرنا چاہتے ہیں اور یوں خود کو کرد ملیشیا کے حملوں سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس علاقے میں غیر کرد باشندوں کی موجودگی سے طویل المیعاد سکیورٹی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف شام کے شمالی علاقوں خاص طور پر کوبانی شہر میں شام آرمی کی موجودگی اس خطے میں پائیدار امن کے قیام کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ ولادیمیر پیوٹن نے رجب طیب اردگان سے اپنی ملاقات میں آدانا معاہدے کو زندہ کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ معاہدہ 20 اکتوبر 1998ء کو ایران اور مصر کی زیر نگرانی ترکی اور شام کے درمیان طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ دہشت گردی سے مقابلے کے بارے میں ہے۔ پیوٹن کا یہ اقدام شام کے شمالی علاقہ جات کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے انجام پایا ہے۔ دوسری طرف اس معاہدے کے ذریعے شام اور ترکی میں دوطرفہ تعاون کا بھی بہترین موقع میسر ہو سکتا ہے۔ روس نے شام کے شمال میں امریکہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف ترکی کو سیف زون فراہم کیا ہے جبکہ دوسری طرف شام کی حدود میں ترکی کے فوجی آپریشن کو روک دیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا آدانا معاہدے کو زندہ کر کے شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 823831
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب