0
Friday 25 Oct 2019 14:16

نویں سکیورٹی کانفرنس کا پیغام

نویں سکیورٹی کانفرنس کا پیغام
اداریہ

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے شہر شیانگ شین میں نویں سکیورٹی کانفرنس کا انعقاد ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں چینی صدر نے عالمی مسائل کے حوالے سے غیر محسوس انداز سے نئی اسٹریٹجی کا اعلان کیا ہے۔ شیانگ شین سکیورٹی کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے ستر سے زیادہ ممالک کے مختلف نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا آغاز چین کے صدر شی جین پینگ کے پیغام سے ہوا۔ چینی صدر نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بیجنگ کا خیال ہے کہ ترقی پیشرفت و تعاون، مذاکرات اور پائیدار امن کا قیام، علاقے اور دنیا میں مشترکہ سکیورٹی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ چین کے صدر نے اپنے پیغام میں ایشیاء اور بحرالکاہل کے ممالک سے خصوصی اپیل کی کہ وہ پیچیدہ سیکورٹی خطرات کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی مرکزیت میں بین الاقوامی سسٹم کی حمایت کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک اپنے مدنظر سکیورٹی ماڈل کو پیش کرنے اور دہشت گردی کے خطرات کی ناقص تعریف کے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل کے ہمیشہ  درپے  رہے ہیں، ایسے میں شیانگ شین سکیورٹی اجلاس ایک مناسب موقع ہے، تاکہ مشرقی ایشیاء اور بحرالکاہل کے ممالک اپنے مشترکہ مفادات اور درپیش خطرات کی بنیاد پر، سکیورٹی تعاون کا ایک ایسا نیا ماڈل پیش کریں کہ جس کے مطابق علاقے کے تمام ممالک کے تحفظات کو مدنظر قرار دیا جائے اور اجتماعی سلامتی کے نقطہ نظر کے ساتھ سلامتی کے مفادات کو بیان کیا جائے۔ چین کے صدر نے اپنے پیغام میں جس بات کی جانب خصوصی اشارہ کیا ہے اس کی بنیاد پر ایشیاء اور بحرالکاہل کے علاقے کے ملکوں کو چاہیئے کہ سکیورٹی کے مشترکہ خطرات کو درک کرتے ہوئے درپیش خطرات کا منظم طور پر مقابلہ کرنے کے لئے سیاسی و عملی اتفاق رائے کی ضرورت کے دائرے میں اپنا تعاون پوری توجہ سے انجام دیں۔ خاص طور پر یہ جو انہوں نے کہا کہ یہ علاقائی تعاون اقوام متحدہ کی مرکزیت میں انجام پائے۔

یہی مسئلہ مغربی سکیورٹی ماڈل اور مشرقی سکیورٹی ماڈل کے مابین فرق کا باعث ہے۔ امریکہ نے حالیہ برسوں کے دوران اقوام متحدہ کو کنارے لگا کر اور اس اہم بین الاقوامی ادارے کے کردار سے بے توجہی برتتے ہوئے دہشت گردی سے مقابلے کے لئے دنیا کے مختلف ملکوں کی تقسیم بندی کرکے عملی طور پر خودمختار و آزاد اور وائٹ ہاؤس کی یکطرفہ من مانی پالیسیوں کے مخالف ملکوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور حتیٰ مداخلت کے لئے حالات فراہم کئے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری اس ادارے کی سلامتی کونسل کے ذمے ہے، لیکن امریکہ اس کی پوزیشن کو نظرانداز کرکے اس ادارے کو مختلف روشوں سے غیرجانبدارانہ فیصلے کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب باکو میں ناوابستہ تحریک کا اجلاس جاری ہے، چینی صدر کے بیان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 823910
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے