0
Saturday 26 Oct 2019 12:39

مظاہرے اور احتجاج

مظاہرے اور احتجاج
اداریہ
یہ ایک اتفاق ہے یا سوچی سمجھی سازش، ابھی تک اسکے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس وقت کئی اسلامی ممالک من جملہ عراق، لبنان، سوڈان، الجزائر، تیونس اور پاکستان وغیرہ میں مظاہرے جاری ہیں یا اسکا ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک میں بھی فرانس میں کافی عرصے سے ییلو جیکٹ تحریک چل رہی ہے۔ اسی طرح چلی، یوگوسلاویہ اور برطانیہ میں بھی عوامی مظاہروں کیلئے فضا سازگار ہے۔ اسلامی ممالک عراق، لبنان اور سوڈان میں تو واضح طور پر بدعنوانی، بے روزگاری اور اقتصادی مسائل کو سامنے رکھ کر پرامن اور پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہے، البتہ پاکستان میں بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بدعنوان قائدین کو کرپشن کے مقدمات سے رہائی دلانے کیلئے ایک مذہبی جماعت آزادی مارچ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

عراق اور لبنان میں ہونیوالے مظاہروں میں کافی سارے مشترکات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ معیشت اور اقتصادی بہتری کیلئے مطالبات، جہاں ایک جیسے ہیں، وہاں آزاد ذرائع نے دونوں ممالک میں بیرونی ہاتھ کی بھی تائید کی ہے۔ لبنان میں گذشتہ دنوں مظاہروں کے دوران بارش شروع ہوئی تو نامعلوم افراد یک دم رنگ برنگی چھتریوں سے بھرے کئی ٹرک لیے مظاہرین کے درمیان پہنچ گئے۔ انہوں نے غریب مظاہرین کو چھتریاں فراہم کیں، تاکہ بارش کے باوجود مظاہرے جاری رہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ چھتریاں کہاں سے آئیں اور کس نے خریدیں، یہ ایک سوال ہے۔ مظاہرے کرنیوالوں میں وہ لوگ سب سے زیادہ شامل ہو رہے ہیں، جو متمول اور خوشحال ہیں اور جنکے بینک بیلنس ڈالروں اور یورو سے چھلک رہے ہیں۔ اسی طرح عام عوام بھی شامل ہیں اور ان کے مطالبات بھی جائز ہیں، لیکن سمیر جعجع، یاسین جمیل، جنبلاط اور حزب الکتائب کا مسئلہ معیشت نہیں کچھ اور ہے۔ سمیر جعجع اور سعودی عرب کے پیٹرو ڈالر کے تعلق کو اہل لبنان و شام اچھی طرح جانتے ہیں۔

عراق میں بھی اسی سے ملتی جلتی صورتحال ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور حکومتی پالیسیوں سے ناراض ہیں، لیکن مشتعل مظاہرین بالخصوص مطاہروں کو پرتشدد احتجاج میں تبدیل کرنے والے کوئی اور نہیں صدام کی بعث پارٹی کے سازشی عناصر ہیں۔ اسکی ایک مثال ان مظاہروں میں لگائے جانے والے نعروں اور بعض مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز ہیں۔ مرجعیت کیخلاف نعروں کو عوام کے منہ میں ڈالا جا رہا ہے، بینروں پر صدام ڈکٹیٹر کی حزب بعث کے پرچم کی تصویر لگا کر نیچے عالم دین کی گردن پر ایک عراقی شہری کا پاوں رکھا دکھایا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مرجعیت اور علماء کو پاوں کے نیچے مسل دیا جائے۔ عراق اور لبنان دونوں مزاحمتی و استقامتی بلاک کے فعال رکن ممالک ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے لیے ہرگز گوارہ نہیں کہ وہ ان ممالک میں سیاسی استحکام اور امن و امان بحال ہو۔ لبنانی و عراقی قیادت کو مشکلات کی اساس و بنیاد سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 824049
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے