10
Sunday 27 Oct 2019 06:35

عراق بحران پر چند گزارشات

عراق بحران پر چند گزارشات
تحریر: محمد سلمان مہدی

بظاہر عراق و لبنان احتجاجی مظاہروں کا مرکز ہے۔ بظاہر امریکی بلاک کی سازشوں کا ہدف عراق اور لبنان ہے، مگر اس ظاہر کے باطن میں جھانکیں تو پوری دنیا ہی متاثرین میں شامل ہے۔ یہ سلسلہ پاکستان اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ نہیں جناب! بلکہ ہندوستان اور اس کے ساتھ چین، وہاں سے کوریا، جاپان سمیت پورے مشرقی ایشیاء اور روس سے ہوتے ہوئے براستہ وسطی ایشیاء و ایران و آذربائیجان ترکی تک اس کی لپیٹ میں ہے۔ خلیج فارس کے دوسرے کنارے سے یمن اور سمندر کے دوسری طرف براعظم افریقہ تک ہے۔ سوڈان ہی نہیں بلکہ الجزائر، لیبیا و مراکش تک اس کی زد پر ہیں۔ یمن تا لبنان و شام ہی نہیں، بلکہ بحرین تا فلسطین سبھی اس کی زد پر ہیں۔ البتہ اس تحریر میں بات عراق تک محدود رہے گی۔ یقیناً پوری دنیا عراق اور لبنان میں ہونے والے احتجاج پر نظریں گاڑے ہوئے ہے، کیونکہ دنیا پر اثر انداز مغربی ذرایع ابلاغ نے اسکو نمایاں طور پر دنیا بھر میں مشتہر کیا ہے۔ مگر اس نام نہاد مین اسٹریم میڈیا نے جو نہیں دکھایا، جو نہیں بتایا، وہ کیا ہے؟ اور واقعیت کو جامعیت کے ساتھ درست انداز میں دنیا کو بتانا اور دکھانا بھی ایک ذمے داری ہے، جو کماحقہ ادا نہیں کی گئی۔

واقعہ گرائی صحافت کا بنیادی اصول ہے۔ واقعیت کو بیان کرنا، لکھنا یا دکھانا، یہ ہنر بھی ہے اور بنیادی صحافتی اصول بھی۔ جامعیت یعنی اس کل کے تمام پہلو، تمام رخ۔ تو کیا اس احتجاج کا، مظاہروں کا صرف ایک ہی رخ تھا یا اتنے ہی پہلو تھے، جتنے دنیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ کیا اس عوامی احتجاج کی ٹائمنگ معنی خیز نہیں تھی؟! یعنی اربعین حسینی۔ یعنی دنیا بھر کے انسانوں کا کربلا میں سید و سالار شہیدان ابا عبداللہ الحسین ؑ کے مزار مقدس پر حاضری دینا۔ یعنی نجف تا کربلا اربعین کا پیدل سفر۔ یعنی عراق کا وہ سافٹ امیج، یعنی اجلا چہرہ جو کہ ایک زندہ حقیقت ہے، اس کا سورج طلوع ہونے سے قبل احتجاج اور اس میں تشدد اور اس کے نعرے!!۔ چلیں اس پہلو کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ زیارت، اربعین یہ مذہبی اصطلاحات ہیں۔ اس کو دیگر عنوانات کے تحت بیان کر لیتے ہیں۔ ٹورازم یا سیاحت کا شعبہ۔ اعداد و شمار کو نظر میں رکھیں۔ کم و بیش ستر لاکھ غیر ملکی شہریوں نے عراق کی سیر کی۔ ستر لاکھ افراد فضائی یا زمینی سفر کے بعد عراق پہنچے۔ یقیناً عراق کی مسافر بردار فضائی کمپنی نے بھی ان غیر ملکی شہریوں کے سفر سے ایک اچھی خاصی رقم کمائی ہوگی۔ عراق حکومت سمیت بین الاقوامی مسافر بردار طیارہ کمپنیوں سے بھی پوچھ لیں کہ اربعین حسینی کے موقع پر کتنا کمایا۔ ویزہ فیس کی مد میں کمائی بھی اپنی جگہ ہے۔

ایسا نہیں ہوتا کہ نجف یا بغداد یا جہاں بھی غیر ملکی شہری عراق میں داخل ہو تو وہیں سے اسکے لئے ساری خدمات مفت فراہم ہو جاتی ہیں۔ زمینی سرحدوں سے داخلہ ہوتا ہے۔ ہوٹلوں میں قیام، کھانا پینا، ٹرانسپورٹ، سبھی شعبوں میں عراقی کماتے ہیں۔ نجف تا کربلا اربعین واک یا پیدل زیارت سفر کے راستے میں انہیں کھانا، پینا اور قیام مفت دستیاب ہوتا ہے۔ نجف شہر اور کربلا شہر میں بھی انہیں ہوٹل میں ہی قیام کرنا پڑتا ہے اور وہاں معاملہ کاروباری ہوتا ہے۔ دنیا میں کل دو سو سے کچھ کم ممالک ہیں، ان سب کو ملاکر بات کی جائے تو ستر لاکھ غیر ملکی عراق آئے اور ان ستر لاکھ میں سے صرف ایک ایران سے جو افراد عراق آئے، انکی تعداد پینتیس لاکھ سے کچھ زائد بتائی جاتی ہے۔ ان ستر لاکھ میں سے پینتیس لاکھ ایرانیوں اور پینتیس لاکھ دیگر غیر ملکیوں کا اربعین پر عراق آنا ایک عام عراقی کے لئے فائدہ مند تھا۔ ٹرانسپورٹ، ہوٹل، کھانا پینا، عام دکاندار اور خاص طور پر تبرکات کی دکانوں کے مالکان و ملازمین کے لئے یہ کمائی کا موسم تھا۔ نجف تا کربلا اربعین واک فری کھانا پینا اور قیام ہے، نہ کہ ہر جگہ مفت سہولیات ہوتی ہیں۔ اب کارل مارکس سے ایڈم اسمتھ تک سبھی ماہرین کے پیروکار بتائیں کہ اس ٹائمنگ پر ہنگامہ آرائی کرنا اور اس میں ایران کو ہدف بنانا، عراقیوں کے مفاد میں کیسے ہوسکتا تھا؟!

پینتیس لاکھ ایرانیوں کا مذہبی سیاحت کے لئے عراق آنے کا فائدہ کس کو ہونا تھا یا ہوا؟ چلیں کم ترین اندازے کے مطابق ایک ایرانی زائر نے عراق میں قیام کے دوران یومیہ ایک ڈالر خرچ کیا۔ فرض کریں ایک ایرانی زائر کم از کم ایک ہفتہ زیارتی سفر پر ایک ڈالر یومیہ خرچ کرتا رہا۔ اس کم ترین خرچے کے لحاظ سے بھی ایرانی زائرین سے عراق کی معیشت میں دو کروڑ پینتالیس لاکھ ڈالر کا براہ راست اضافہ ہوا، جس کا براہ راست فائدہ عراقی عوام کو پہنچا۔ اسی طرح دیگر پینتیس لاکھ غیر ملکی زائرین کی جانب سے بھی اتنی ہی رقم براہ راست عراقی عوام تک پہنچی۔ تو سوچنے کا مقام ہے کہ اس احتجاج کا ہدف عراق کے عوام کے ایک وسیع طبقے کو کم از کم چار کروڑ نوے لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچانا تھا۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم سات ارب چھ سو چونتیس کروڑ دو لاکھ روپے بنتی ہے۔ یعنی احتجاج کی ٹائمنگ غیر ملکی زائرین کی حوصلہ شکنی کی دانستہ کوشش تھی۔ ویسے آپ بڑے بڑے ارسطوؤں اور افلاطونوں سے سنتے آئے ہوں گے کہ سیاحتی شعبے میں ہم اتنا کما سکتے ہیں۔ لیکن عراق کی مذہبی سیاحت پر یہ حملہ کیوں کر قابل دفاع ہوسکتا ہے اور اربعین ہوتے ہی دوبارہ سڑکیں بلاک کر دینا، یعنی زائرین مزید قیام نہ کریں، مطلب یہ کہ عراق کے دکانداروں، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز، کیٹرنگ خدمات والوں کو ستر لاکھ ڈالر یومیہ مالی فائدے سے محروم کرنا۔ ایسوں کو عراق دوست یا عراقی عوام کا بہی خواہ کیوں کر قرار دیا جاسکتا ہے۔؟!!

عراق میں مہنگائی اور بے روزگاری ہے یا شہری سہولیات کی عدم فراہمی ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ نوکریاں نہیں ہیں یا روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تو ان مشکلات اور مسائل کا ذمے دار کون ہے؟! برطانوی سامراج کے تسلط سے امریکا کی لشکر کشی تک عراقیوں کو تہس نہس کس نے کیا؟ انکا تیل کس نے نکالا؟ ان پر صدام کس نے مسلط کیا؟ صدام کے ذریعے انکا قتل عام کس نے کیا؟ اور کام نکل جانے پر اسی صدام کے بہانے ملت عراق پر بدترین پابندیاں کس نے لگائیں؟ صدام دور میں عراق کو قرض کے لاعلاج مرض میں کس نے مبتلا کیا؟ ان سارے سوالات کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ یہ سب امریکی بلاک نے کیا، امریکی و اتحادی ممالک نے کیا۔ صدام نے ایران پر لشکر کشی کی تھی، یہ ایران نہیں تھا، جس نے جنگ شروع کی ہو۔ ایران تو خود اسی طرح صدام کے مظالم کا نشانہ بنے، جیسے عراقی کرد اور عرب مخالفین۔ یوں ایران ملت عراق کا فطری اتحادی ہے۔۔۔ نہ کہ حریف،،، نہ کہ دشمن۔ تو احتجاج میں امریکا اور امریکا کے اتحادی بعض عرب ممالک کی مذمت نہ کرنے والوں نے ایرانی جھنڈے جلا کر اپنے سرپرستوں کی شناخت خود ہی کروا دی۔

جس طرح کرد مسلمان پچھلی ایک صدی سے عالمی سامراج کے آسروں پر ذلیل و خوار ہوتے رہے ہیں، اسی طرح ملت عراق کے یہ احمق پراکسیز بھی ہوں گے۔ یہ امریکی بلاک کے لئے صدام سے زیادہ تو وفادار نہیں ہوسکتے، جب صدام اور قذافی جیسے پس پردہ ڈیل کرنے کے باوجود عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے، یہ ان سے زیادہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ہم یہ ماضی میں بھی لکھ چکے ہیں۔ ایک اور مرتبہ دہرا دیتے ہیں کہ ملت عراق سمیت جو بھی ملت، جو بھی حکومت امریکی بلاک کی ڈکٹیشن کو مسترد کرے گی۔ جو بھی ملت و حکومت اپنی آزادی و خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرے گی، ایک جملے میں کہوں کہ امریکا کو نہ کرے گی، تو امریکی بلاک نے اسی نوعیت کی اوچھی حرکتیں کرنی ہیں۔ کبھی بے نظیر بھٹو کی خود نوشت دختر مشرق (ڈاٹر آف دی ایسٹ) پڑھیں، اسکے چوتھے باب میں امریکا کے آپریشن وھیل جام اسٹرائیک کا تذکرہ کیا ہے۔ یعنی کسی منتخب حکومت کو برطرف کروانے کے لئے پہیہ جام ہڑتال آپریشن کروانا۔ بے نظیر نے لکھا تھا کہ جب انکے والد ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آئے تو انہیں پتہ چلا کہ 1958ء میں امریکا نے یہ مشقیں کیں تھیں۔

بے نظیر کے مطابق بھٹو مخالف پی این اے تحریک کے رہنماؤں سے امریکی سفارتکاروں کی اکثر و بیشتر ملاقاتیں رہا کرتیں تھیں۔ خود بے نظیر کی اپنی رائے یہ تھی کہ جس طرح ٹرک ڈرائیورز ہڑتال کیا کرتے تھے، انکا انداز بالکل ویسا ہی تھا جیسے امریکی سی آئی اے نے فوجی بغاوت کے ذریعے چلی کے منتخب صدر کو برطرف کرنے کے وقت وہاں اپنایا گیا تھا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ موجودہ ٹرمپ حکومت کی پیش رو اوبامہ حکومت کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن تو اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ہارڈ چوائسز میں عراقیوں کے امریکی پے رول پر ہونے کا اعتراف کرچکی ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ اعتراف بھی کرچکی ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ایکٹیوسٹوں کو امریکا نے تربیت دی، پیسے دیئے، وسائل دیئے۔ عراق میں امریکی مداخلت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ہنری کسنجر نے بھی اسکا اعتراف کیا ہے، جبکہ سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینیٹ نے اپنی خود نوشت ایٹ دی سینٹر آف دی اسٹارم میں سی آئی اے کے نیٹ ورک کا اعتراف کیا۔
خبر کا کوڈ : 824182
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب