0
Sunday 27 Oct 2019 13:58

امریکہ اور تیل کی سیاست

امریکہ اور تیل کی سیاست
اداریہ
مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر ممالک میں جب سے تیل کی دریافت ہوئی ہے، اس خطے کے حوالے سے عالمی سامراجی طاقتوں کی پالیسیاں یکسر بدل گئیں۔ حجاز جزیرہ نما عرب کے ان وسیع و عریض صحراوں پر کسی کی نظر نہیں پڑتی تھی، لیکن جونہی ان علاقوں سے سفید سونا یعنی تیل دریافت ہوا، برطانیہ اور امریکہ بھوکے کتوں کیطرح ان ممالک پر جھپٹ پڑے۔ تیل کی غارت گری اور لوٹ مار کے لیے صرف سعودی عرب، عراق اور خلیج فارس کے دیگر ممالک پر سامراجی پنجہ مسلط نہیں کیا بلکہ ایران میں تیل کی دریافت کے بعد ایران کی قومی دولت کو ہتھیانے کیلئے جس طرح ایران سے برطانیہ اور بعد میں امریکہ کے ہونیوالے معاہدوں کو معمولی توجہ سے پڑھا جائے تو سیاست کا معمولی طالبعلم بھی حیران ہو جاتا ہے کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اپنی قومی دولت کو کسقدر ارزاں فروخت کیا۔ تیل کی آمدن کیساتھ ان ممالک نے تو اپنی شناخت، پہچان، ثقافت، دین اور سب کچھ سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں بیچ دیا۔ تیل کی آمدن آنے کے بعد ان ممالک کی سیاست اور اقتدار میں آنے والی تبدیلیاں بھی بڑی طاقتوں کے اختیار میں چلی گئیں۔ برطانیہ اور امریکہ نے مسلمان ممالک کے تیل اور گیس کے ذخائر پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے مختلف انداز سے مسلمانوں کا استحصال کیا۔

ترقی اور پیشرفت کے نام پر ان ممالک پر اپنا نظامِ تعلیم اور ثقافت تک مسلط کرنیکی مکمل کوشش کی۔ اسلامی ممالک کو تقسیم کرنے اور انکے باہمی اختلافات کو بڑھانے مین بھی یہی مقاصد پوشیدہ تھے۔ تیل پیدا کرنیوالے ممالک امریکہ اور برطانیہ کیلئے سونے کی چڑیا شمار ہوتے تھے اور ان ممالک کے حکمران سامراجی طاقتوں کے فریب میں اسقدر گرفتار ہوچکے تھے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود سامراجی طاقتوں سے چھٹکارا حاصل کرنیکے لیے کمر ہمت نہیں باندھتے تھے۔ پیٹروڈالر کی یہ جنگ ماضی کیطرح اب بھی جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالی ہر کارروائی کے پیچھے دو مقاصد کارفرما ہوتے ہیں، ایک صہیونی حکومت کی حفاظت اور دوسرا اس علاقے میں موجود توانائی کے عظیم ذخائر۔ ماضی میں برطانیہ اور اس وقت امریکہ ہر اس ملک پر اپنا براہ راست تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے، جہاں قدرتی ذخائر کی بھرمار ہے۔ آج امریکہ جہاں حکومتوں پر کنٹرول حاصل نہیں کرسکتا، لیکن وہاں قیمتی تیل کے ذخائر موجود ہیں، اس ملک میں تمام بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرکے بلکہ کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے براہ راست مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے، اسکی ایک ادنیٰ سی مثال شام کے بعض علاقوں میں امریکی فورسز کی موجودگی ہے۔ شام کے دیرالزور علاقے میں امریکہ نے دہشت گردی کے مقابلے کے نام پر اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں، لیکن اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ امریکہ اس علاقے سے تیل اسمگل کرکے دوسرے ممالک کیطرف بھیج رہا ہے۔

 یہ بیان کسی اسلامی یا استقامتی بلاک کے رکن ملک کا نہیں ہے۔ روسی وزارت دفاع نے امریکہ کے شام سے تیل کے اسمگل کرنے کی بعض سیٹلائیٹ تصاویر شائع کی ہیں۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شام کا تیل امریکہ کی زیرنگرانی اور مکمل حفاظت میں اسمگل کیا جا رہا ہے اور ترکی، شام امریکہ حالیہ کشیدگی میں تمام تر بیان بازیوں کے باوجود امریکی فورسز ان علاقوں میں تعینات ہیں، جہاں شام کی حکومت سے متعلق تیل کے ذخائر اور تنصیبات موجود ہیں۔ عراق میں آنے والی حالیہ تبدیلیاں، عراق حکومت کی امریکہ مخالف خارجہ پالیسیوں اور عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے مطالبات کیوجہ سے رونما ہو رہی ہیں، کیونکہ امریکہ اور اسکے مقامی حواریوں کیلئے یہ قابل قبول نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح عراقی تیل کے ذخائر اور تیل سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر امریکی کنٹرول کمزور ہو جائیگا، لہٰذا امریکہ عراقی حکومت اور معاشرے کی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہاں تبدیلی کیلئے پرتشدد مظاہروں کی مکمل حمایت کر رہا ہے، اگر امریکہ عراق میں کامیاب ہوگیا تو دوسرے ممالک بھی اس امریکی سازش کا شکار ہوسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 824220
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے