1
Sunday 27 Oct 2019 16:40
28 صفر رحلت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مناسبت سے

منافقین کے مقابلے میں آنحضور ص کی حکمت عملی

منافقین کے مقابلے میں آنحضور ص کی حکمت عملی
تحریر: محمد قدیر دانش

عہد اسلام میں مدینہ منورہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں منافقین بھی پائے جاتے تھے۔ یہ افراد اسلام کی نابودی کیلئے سازشیں کرتے رہتے تھے۔ رسول خدا ص نے اپنی زندگی میں منافقین کی جانب سے بہت اذیتیں برداشت کیں جبکہ اپنے بعد امت مسلمہ کے مستقبل کیلئے بھی منافقین کی جانب سے بہت زیادہ پریشانی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ اس بارے میں متعدد سوالات پائے جاتے ہیں جو سب اہمیت کے حامل ہیں، جیسے: منافقین کی تعداد کتنی تھی؟ کیا وہ اسلامی معاشرے میں جانے پہچانے تھے؟ ان کی خصوصیات کیا تھیں؟ منافقین کے اہداف اور اقدامات کیا تھے؟ انہوں نے اسلامی معاشرے کو کیا نقصانات پہنچائے؟ تحریر حاضر میں ہم جس موضوع پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں وہ منافقین کے مقابلے میں رسول خدا ص کی حکمت عملی ہے۔ رسول خدا ص اسلامی معاشرے کے حکمران تھے اور منافقین کے ساتھ ان کا رویہ درحقیقت ان کی سیاسی سیرت جانی جاتی ہے۔ منافقین کا ٹولہ انتہائی خطرناک تھا اور وہ اسلامی نظام حکومت کو نابود کر دینا چاہتا تھا لیکن رسول خدا ص کی مدبرانہ حکمت عملی نے اسلامی معاشرے کو ایک بڑے نقصان سے بچا لیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منافقین کے مقابلے میں چار طریقے اپنائے جو درج ذیل ہیں۔
 
1)۔ صبر و تحمل اور بردباری
صبر و تحمل ایسی حکمت عملی تھی جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت سے لے کر وفات تک منافقین کے مقابلے میں اپنائی رکھی۔ منافقین کی جانب سے مسلسل سازشیں اور دشمنی پر مبنی اقدامات کے باوجود پیغمبر اکرم ص انتہائی بردباری اور عقلمندی سے صورتحال پر قابو پا لیتے اور ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیتے تھے۔ معروف شیعہ مفسر علامہ طبرسی آیت کریمہ "یا ایھا النبی جاھد الکفار و المنافقین۔۔۔" (سورہ توبہ، 73) کے ذیل میں لکھتے ہیں: "کفار سے جہاد ان سے جنگ اور انہیں قتل کرنے کی صورت میں تھا جبکہ منافقین سے جہاد انہیں نصیحت کرنے اور برے کاموں سے روکنے کی صورت میں تھا۔" (مجمع البیان، جلد 10، صفحہ 63)۔ اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایت میں کہا گیا ہے: "رسول خدا ص ہر گز منافقین کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ ان سے صبر و تحمل سے پیش آتے تھے۔" (تفسیر نورالثقلین، جلد 2، صفحہ 241)
 
2)۔ منافقین کی فتنہ گری کے مقابلے میں حقائق واضح کرنا
اگرچہ رسول خدا ص منافقین کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیتے تھے لیکن ان کی جانب سے غلط افواہیں پھیلانے کے مقابلے میں حقائق کو واضح کرنے سے بھی غفلت نہیں برتتے تھے۔ یوں آپ ص ایک طرف مسلمانوں کے اعتقادات اور افکار میں انحراف کا سدباب کرتے اور دوسری طرف منافقین کی فتنہ گری کا بھی مقابلہ کرتے تھے۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ رسول خدا ص مسلمانوں کے ہمراہ تبوک کی جانب سفر کر رہے تھے۔ راستے میں آپ کا ایک اونٹ جس کا نام "قصواء" تھا گم ہو گیا۔ زید بن لصیت قینقاعی نامی منافق نے کہا: "کیا محمد (ص) گمان کرتا ہے کہ وہ خدا کا پیغام لایا ہے اور آسمانوں کی خبریں تم تک پہنچاتا ہے جبکہ اسے یہ تک معلوم نہیں کہ اس کا اونٹ کہاں ہے۔" کچھ دیر بعد جب رسول خدا ص کو معلوم ہوا کہ ایک منافق نے یوں کہا ہے تو آپ ص نے فرمایا: "میں جو کچھ جانتا ہوں وہ خدا نے مجھے تعلیم فرمایا ہے۔ میرا اونٹ فلان گھاٹی میں ہے اور اس کی لگام درخت سے لٹکی ہوئی ہے۔ جائیں اور وہاں سے لے آئیں۔" جب اصحاب اس جگہ پر پہنچے تو وہ اونٹ وہیں کھڑا تھا۔
 
3)۔ منافقین کو گوشہ گیر کرنا
رسول خدا ص اس حقیقت سے واقف تھے کہ منافقین نے اپنے دلوں میں کفر چھپا رکھا ہے اور اپنی جان اور مال کی حفاظت کی خاطر اسلام کا دکھاوا کرتے ہیں۔ لہذا آپ ص نے انہیں معاشرے میں گوشہ گیر اور بے اثر کرنے کی حکمت عملی اپنائی تاکہ وہ اپنی منحوس سازشوں اور ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ جب آنحضور ص نے تبوک کا سفر کیا تو منافقین کا ایک ٹولہ راستے میں ایک گھاٹی میں گھات لگا کر بیٹھ گیا تاکہ رسول خدا ص کو شہید کر دیں۔ اس وقت حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور رسول خدا ص کو ان کی سازش سے آگاہ کر دیا۔ جناب حذیفہ بھی رسول خدا ص کے ہمراہ تھے۔ جب اس گھاٹی کے قریب پہنچے تو بجلی چمکی اور جناب حذیفہ نے ان منافقین میں سے بعض کے چہرے دیکھ کر انہیں پہچان لیا۔ باقی منافقین کے نام رسول خدا ص نے خود جناب حذیفہ کو بتا دیے۔ حذیفہ نے پوچھا: "کیا انہیں قتل نہیں کریں گے؟" رسول خدا ص نے فرمایا: "نہیں، میں نہیں چاہتا میرے بارے میں یہ کہیں کہ کامیاب ہونے کے بعد اپنے اصحاب کو قتل کرنا شروع ہو گیا ہے۔" (تاریخ سیاسی اسلام، رسول جعفریان، صفحہ 647)۔
 
4)۔ منافقین سے سختی برتتنا
اگرچہ منافقین کو بہت حد تک آزادی حاصل تھی اور وہ کفر آمیز باتیں کرنے کے علاوہ رسول خدا ص کی شان میں گستاخی بھی کرتے رہتے تھے لیکن جب بھی منافقین نے منظم ہو کر فعالیت کرنے کی کوشش کی رسول خدا ص نے ان کے ساتھ سختی کی اور طاقت کا استعمال کیا۔ مثال کے طور پر جب پیغمبر اکرم ص تبوک جانے کی تیاری فرما رہے تھے تو مدینہ کے ایک منافق بنی غنم بن عوف نے مسجد قبا کے قریب اپنی ایک علیحدہ مسجد تعمیر کر لی۔ اس کے بعد وہ رسول خدا ص کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے اپنی ضرورت کے تحت یہ مسجد تعمیر کی ہے اور آپ سے درخواست ہے کہ اس کا افتتاح کریں۔ رسول خدا ص نے فرمایا کہ میں تبوک سے واپس آ جاوں پھر آپ کی مسجد میں نماز ادا کروں گا۔ لیکن بعد میں خدا کی جانب سے سورہ توبہ کی آیات 108 سے 110 نازل ہوئیں جن میں منافقین کے حقیقی محرکات کے بارے میں حقائق بیان کئے گئے۔ لہذا رسول خدا ص نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور اس مسجد کو گرا دیں۔ تاریخ میں یہ مسجد ضرار کے نام سے معروف ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 824233
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے