0
Monday 28 Oct 2019 10:19

آزادی مارچ سے میلاد مارچ تک

آزادی مارچ سے میلاد مارچ تک
اداریہ
مسلمان ملکوں میں مظاہروں، مارچوں اور ریلیوں کی بہار ہے۔ حکومت مخالف احتجاجات کے ساتھ ساتھ حکومت کی حمایت میں بھی عوامی مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ دنیا میں عام طور پر صرف حکومت مخالف مظاہرے ہوتے ہیں، لیکن بعض ممالک جیسے ایران میں جب بیرونی سازشوں اور داخلی انقلاب دشمن عناصر کی وجہ سے 2009ء میں ملک گیر پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، تو اس فتنہ کا مقابلہ ایرانی عوام نے اپنے عظیم الشان مظاہرے سے کیا تھا۔ یہ جمہوری روش بھی تھی اور عوام کی اکثریت کا نظام پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی تھا۔ اس کے بعد ترکی میں فوجی انقلاب کو ناکام بنانے کیلئے بھی ترک صدر رجب طیب اردوغان نے عوام کا سہارا لیکر اپنے خلاف ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔ رجب طیب اردوغان کے اس اقدام کو بعض تجزیہ نگار خود ساختہ تحریک سے بھی تعبیر کرتے ہیں، لیکن انداز عوامی تھا، جس سے ایسے کئی ممالک کی افواج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، جو فوجی طاقت کی بنا پر ملکی اقتدار پر مسلط ہیں۔

عراق میں اس وقت عوامی مظاہروں میں شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ امریکی سازش کا شاخسانہ ہے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پیٹروڈالر کے ذریعے عراق میں عوام کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ بعض خبروں میں تو یہاں تک آیا ہے کہ سعودی عرب نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کیلئے ایک سو پچاس ملین ڈالر کا بجٹ مخصوص کیا ہے۔ بجٹ کی منظوری کے وقت چار اھداف کو مدنظر رکھا گیا ہے:
1۔ عراق کی اکثریتی شیعہ آبادی کو سیاسی حوالے سے تقسیم در تقسیم کرنا۔
2۔ عادل المہدی حکومت کو کمزور کرنا۔
3۔ عراق کی موجودہ صورتحال پر خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا (مزاحمتی بلاک میں خلیج پیدا کرنا)
4۔ بغیر واضح قیادت کے احتجاجی تحریک کو ہوا دیکر اسی طرح کا تجربہ دوسرے ممالک میں شروع کرنا۔

عراق میں حکومت نے مظاہرین کے پیچھے اصل ہاتھ اور اس سازش کو بھانپ لیا ہے۔ اب اس کا علاج آسان ہو جائیگا۔ لیکن پاکستان میں حکومت مخالف آزادی مارچ کے اھداف و مقاصد ابھی پوری طرح کھل کر سامنے نہیں آرہے۔ ابتدائی اھداف اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے قائدین کے لیے حکومتی و عدالتی رعایت حاصل کرنا تھی تو اس میں ابتدائی کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ رہ گئی عمران خان سے استعفیٰ لینے والی بات، اس پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ تیار نظر نہیں آ رہی ہے۔ آزادی مارچ کے ساتھ ساتھ میلاد مارچ کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے، آزادی مارچ کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اگر میلاد مارچ کے قائدین بھی آزادی مارچ کیطرح پوری تیاری اور شدت سے میدان میں داخل ہوتے ہیں تو یہ پاکستان میں مسلکی جنگ کا ایک نیا آغاز ہوسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 824296
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے