0
Monday 28 Oct 2019 15:33

صدہ عباس جرگہ کی روئیداد

صدہ عباس جرگہ کی روئیداد
رپورٹ: روح اللہ طوری

گذشتہ روز صدہ میں زیارت عباسؑ علمدار کے اندر ایف سی قلعہ میں کرم کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا۔ جس میں کرم کے شیعہ سنی عمائدین، قومی اور صوبائی اسمبلی ممبران، سیکرٹری انجمن حسینیہ اور صدر تحریک حسینی کے علاوہ فوجی اور سول انتظامیہ کے مسئولین نے شرکت کی۔ کرم میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے طلب کئے گئے شیعہ سنی عمائدین کے نمائندہ جرگہ میں ایم این اے حلقہ این اے 48 ساجد حسین طوری، ایم این اے حلقہ 47 منیر خان اورکزئی، ایم پی اے سید اقبال میاں، سیکرٹری انجمن حسینیہ حاجی سردار حسین، صدر تحریک حسینی مولانا یوسف حسین، حاجی سلیم خان، حاجی بخت جمال، فخر زمان، سیف اللہ، کے علاوہ بریگیڈئر پاک فوج نجف عباس اعوان، ڈی سی کرم اور اپر اور سنٹرل کے اے سی حضرات نے شرکت کی۔ 

جرگہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حاجی سلیم خان نے کہا کہ لوئر اور سنٹرل کرم سرکاری سہولیات سے محروم ہیں۔ لہٰذا انہیں اپر کے برابر حقوق دیئے جائیں۔ منیر خان اورکزئی نے کہا کہ پشتون روایات میں ناموس اور عزت ایک نہایت حساس مسئلہ ہے۔ ناموس کے  حوالے سے کوئی پشتون کسی قسم کی نرمی نہیں کرتا۔ چنانچہ ہمیں چاہیئے کہ ناموس کے مسئلے کو فرقہ ورانہ رنگ نہ دیا جائے۔ ساجد حسین طوری نے کہا کہ شیعہ اور سنیوں کے مابین زمینوں کے حوالے سے جو مسائل ہیں، حکومت کو چاہیئے کہ انہیں جلد از جلد حل کرائیں۔ حاجی سردار حسین کا کہنا تھا کہ فریقین کے مابین سب سے اہم مسئلہ زمینوں اور شاملات کا ہے۔ چنانچہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ہمارے میں بامین شاملات اور زمینوں کے مسائل کو جلد از جلد حل کرائے۔ اگر ہمارے مابین یہ مسائل حل ہوگئے تو پھر ہمارے درمیان صدیوں میں بھی کوئی لڑائی نہیں ہوگی۔

فخر زمان نے کہا کہ ہم پختون ہیں، ہمارے مفادات مشترک ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے، کہ تحمل سے کام لیں، ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بناکر لڑنے سے گریز کریں۔ تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا بنیادی مسئلہ عزت کا ہے۔ موجودہ صورتحال کا اصل باعث ٹوپکی حادثہ ہے۔ جس کی طرف کسی نے اشارہ نہیں کیا۔ چنانچہ میں تھوڑی سی وضاحت کرتا ہوں۔ ٹوپکی میں جو واقعہ ہوا، وہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری۔ اس سے پہلے بہت سی سنی خواتین شیعوں کے پاس آئی ہیں۔ اسی طرح بہت سی شیعہ خواتین سنیوں کے پاس جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کے لئے ایک معیار اور ایک قاعدہ کلیہ وضع کرنا چاہیئے۔ کہ اگر آئندہ ایسا ہوگیا تو علاقے کو فساد سے بچانے کیلئے کیا کرنا چاہیئے۔ اگر کوئی سنی لڑکی شیعوں کے پاس آگئی، تو کیا کرنا ہوگا۔ اور اگر شیعہ لڑکی سنیوں کے پاس گئی تو کیا کرنا ہوگا۔

مولانا یوسف حسین جعفری نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے پاس درجنوں لڑکیاں آچکی ہیں، تاہم طوریوں نے حکومت کے ہاتھ میں دیکر واپس کی ہیں، جبکہ سنی برادران سے ہماری گزارش ہے کہ وہ بھی مستقبل میں ایسا ہی کیا کریں۔ انہوں ںے تجویز پیش کی کہ ایک میرے پاس ایک خاص طریقہ ہے، وہ یہ کہ فریقین کے پاس لڑکیوں کے مدرسے ہیں اور مذہبی سسٹم بھی موجود ہے، جب بھی کوئی لڑکی بھاگ گئی، تو پناہ دینے والوں کو چاہیئے کہ اسے فورا متعلقہ فریق کے مذھبی ادارے، مدرسے، انجمن یا تنظیم کے حوالے کرتے ہوئے پابند ضمانت کرے، وہ ادارہ لڑکی کے تحفظ کا ذمہ لیتے ہوئے اسکے لئے مناسب حل ڈھونڈے۔ ایم پی اے سید اقبال میاں نے بھی حکومت اور کمیشن کی نگرانی میں زمینوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ بریگیڈئیر نجف عباس کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کا حل باہمی گفت و شنید ہی سے ممکن ہے، چنانچہ حکومت لاکھ چاہے، جب تک فریقین آپس میں بیٹھ کر اپنے معاملات اور مسائل طے نہیں کرتے، انکا حل بہت مشکل ہے۔ آخر میں مسئلے کے حل کیلئے ایک جرگہ تشکیل دیا گیا۔ جو تمام مسائل کا حل نکالتے ہوئے، ایک اہم فیصلہ سنائیں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 824346
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب