0
Tuesday 29 Oct 2019 10:08

پراسرار ہلاکتیں

پراسرار ہلاکتیں
اداریہ
امت مسلمہ سامراجی پنجوں میں سسک رہی ہے۔ سازشوں کا لامتناہی سلسلہ ہے، جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دور حاضر کی طاغوتی طاقتوں نے الٰہی قوتوں کو سرنگوں کرنے اور انہیں دبائے رکھنے کیلئے مکر و فریب سے سازشوں کا ایسا جال (Network) بچھا رکھا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ قرآنی و اسلامی روایات میں مومن کو قیس، صاحبِ خرد اور زمانہ شناس قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ آج دنیا میں نگاہ دوڑائیں تو اہل خرد، زمانہ شناس اور متقی مسلمان خال خال نظر آتے ہیں۔ اگر ہیں بھی تو ان کا کوئی خریدار نظر نہیں آتا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان نے جتنی ترقی اور پیشرفت کی ہے، جنات نے بھی مختلف شعبہ جات میں اتنی ہی بلندیوں کو سر کیا ہے، البتہ شیطان بھی ایک مخلوق ہے، یقیناً اسے پہلے بھی ابلیسی اقدام میں چھوٹ دی گئی تھی اور ہر دور میں اس شیطانی ہتھکنڈوں میں بھی تنوع اور تبدیلیاں آئی ہونگی۔

شیطان بعض انسانوں میں حلول کر جاتا ہے اور پھر ایسا آدمی بظاہر تو انسان نظر آتا ہے، لیکن اسکا باطن، اسکی سوچ، فکر، عمل و کردار سب شیطانی ہو جاتا ہے۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے امریکہ کو اس کی حرکات و سکنات اور اقدامات کو دیکھ کر سب سے بڑا شیطان کہا تھا۔ انسانی شکل میں موجود شیطان بزرگ امریکہ اور ابلیس میں بس اتنا فرق ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور مکر و فریب کے جال اہل دل کے علاوہ کسی کو سمجھ نہیں آتے، لیکن امریکی کارستانیاں کچھ عرصے بعد طشت از بام ہو جاتی ہیں۔ انسانیت کیخلاف امریکہ کا کونسا جرم ہے، جو ابھی پوشیدہ رہا ہو، لیکن افسوس! مسلمانوں میں اس کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں۔ امریکی جرائم میں سے ایک گناہ اسلام کا چہرہ اور شبیہ بگاڑ کر حقیقی اسلام اور اس کی اعلیٰ و ارفع تعلیمات کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے، جسے عرف عام میں اسلامو فوبیا کہا جاتا ہے۔ اسلامو فوبیا کے فروغ کیلئے امریکی سامراج نے القاعدہ، بوکو حرام، طالبان، الشباب، جیش، النصرہ فرنٹ اور داعش جیسے ڈرامے رچائے۔ ایک ایک کرکے ان کو خلق کیا، ان سے فائدے اٹھائے اور جب چاہا کسی کو اوپر چڑھا دیا اور کسی کو نیچے گرا دیا۔

القاعدہ سے داعش تک کا امریکی سفر جاری ہے، لیکن اس میں ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ بدنام زمانہ جاسوسی ادارہ سی آئی اے اور اسرائیلی ایجنسی موساد پہلے خود ساختہ دہشت گرد تنظیموں کو ان کے قائدین کے نام پر پرموٹ کرتی ہیں اور انہیں عروج تک لے جاتی ہیں، پھر ان کو قتل کرکے ایک ایسا ڈرامہ رچاتی ہیں کہ ان کے پیروکار ہمیشہ مخمصے میں رہتے ہیں۔ ملا عمر کی ہلاکت ہو، اسامہ بن لادن کا قتل ہو یا ابوبکر بغدادی کا خاتمہ، یہ سب ایک سازش کے تحت مشکوک بنایا جاتا ہے۔ مشکوک بنانے کے ان منصوبوں کے پیچھے کئی اہداف کارفرما ہوتے ہیں، ان میں سے ایک ہلاک شدگان کے پیروکاروں میں اختلاف کی خلیج وسیع کرنا بھی ہے۔ آج کل داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کی مشکوک خبریں گشت کر رہی ہیں، امریکہ ہلاک کرنیکا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ روس نے اس دعویٰ کو مشکوک قرار دیا ہے، ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کو اگر ہندوستانی خبر ایجنسیاں فاش نہ کرتیں تو ملا عمر اس وقت بھی طالبان کے امیرالمومنین ہوتے۔
خبر کا کوڈ : 824447
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے