0
Wednesday 30 Oct 2019 09:17

30 اکتوبر 2011 سے 30 اکتوبر 2019 تک کا سفر

30 اکتوبر 2011 سے 30 اکتوبر 2019 تک کا سفر
لاہور سے ابوفجر کی رپورٹ

مینار پاکستان گراونڈ کو جلسوں کے حوالے سے تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ اسی گراونڈ میں 1940ء میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور ایک نیا ملک معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد بھی سیاسی جماعتوں نے اپنی افرادی قوت کا مظاہرہ کرنے کیلئے مینار پاکستان گراونڈ کو ہی منتخب کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا جلسہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی اپنے جلسے اسی گراونڈ میں کرکے ریکارڈ بنا چکی ہیں۔ 6 جولائی 1987ء کو لاکھوں حسینی، فرزندِ سیدالشہداء  علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت میں مینار پاکستان کے سائے تلے جمع تھے، یہ جلسہ بھی پاکستان میں ملت جعفریہ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی بہت سے جلسے کئے جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ لیکن ماضی قریب میں آج ہی کے دن یعنی 30 اکتوبر 2011ء میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اسی گراونڈ میں بہت بڑا جلسہ کیا اور کہا کہ پاکستانیوں نے آج ریفرنڈم میں اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے اور مینار پاکستان کا یہ کامیاب جلسہ بتا رہا ہے کہ عوام نواز شریف سے نجات چاہتے ہیں۔ اس کے جواب میں آج مولانا فضل الرحمان نے بھی 8 برس بعد اسی دن یعنی آج 30 اکتوبر کا ہی انتخاب کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی آج لاہور میں بہت بڑا جلسہ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

30 اکتوبر 2011ء کے جلسے نے عمران خان کو بڑا لیڈر بنا دیا تھا تو آج دیکھنا ہے کہ 30 اکتوبر 2019ء کا جلسہ مولانا فضل الرحمان کو صف اول میں لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ واقفان حال کہتے ہیں کہ مولانا نے بھی جان بوجھ کر مینار پاکستان گراونڈ میں آج کی تاریخ کا انتخاب کیا ہے۔ مینار پاکستان کے گراونڈ میں جہاں جے یو آئی (ف) کے ہزاروں کارکن موجود ہیں وہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہاں سے جلسہ کے بعد آزادی مارچ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد روانہ ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 824613
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے