0
Wednesday 30 Oct 2019 23:26

عراق، مظاہرے اور اصلی محرک

عراق، مظاہرے اور اصلی محرک
تحریر: محمد حسن جمالی
 
عراق کے دارالخلافہ بغداد میں اربعین حسینی سے قبل مظاہروں کا آغاز ہوا، عراقی حالات پر سطحی نظر رکھنے والوں نے مظاہروں کا اصلی محرک کرپشن اور مہنگائی سے عوام کے نالاں ہونے کو میڈیا اور سوشل پر اچھالا گیا، پاکستان کے بعض چیدہ قلمکاروں نے بھی اپنی تحریروں میں عراق میں حالیہ ہونے والے مظاہروں کا سبب کرپشن اور مہنگائی کو ہی قرار دیا، جبکہ عالمی سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ عراق کی حالات خراب کرنے میں اصلی محرک امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں، جنہوں نے یمن، شام اور خود عراق میں ہونے والی شکست کا بدلہ لینے کے لئے عراق میں موجود صدام کی باقیات کو بطور آلہ استعمال کیا، خفیہ طور پر ان کو مجہز کیا اور کرپشن و مہنگائی کو بہانہ بنا کر ان کو حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کا اشارہ دیا، یوں وہ سادہ لوح میدان میں نکلے اور اپنے آقاؤں کے احکامات کی تعمیل کرنے کے لئے انہوں نے مظاہروں کو عملی جامہ پہنایا، جن میں داعش کے بچے کھچے افراد بھی شامل ہوکر فعال ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے عراقی عوام کے درمیان سے ان افراد کو ڈھونڈ کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جو داعش کی نابودی میں بنیادی کردار ادا کرکے غازی قرار پاچکے تھے، بطور مثال ہزاروں داعشیوں کو واصل جہنم کرنے والے حشد الشعبی کے بہادر کمانڈر ابو عزرائیل کو حملے کا نشانہ بناکر زخمی کر دیا، مظاہرین نے ایران کے خلاف نعرے لگائے اور ایران کے پرچم کو آگ لگا دی۔
 
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں تو احتجاج کرنے والوں نے ایران کے پرچم کو آگ کیوں لگائی۔؟ یہ مظاہرے اربعین کے نزدیک ہی کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ جبکہ اربعین کے ایام تو عراقی عوام کے لئے خوب کمانے کے ایام تھے، ہر سال ستر لاکھ سے زیادہ خارجی زائرین اربعین حسینی کے مراسم میں شریک ہونے کے لئے کربلا پہنچ جاتے ہیں، بہت سارے عراقی سال بھر اربعین کے لئے آنے والے خارجی زائرین کا شدت سے انتظار کرتے رہتے ہیں، تاکہ خوب کمائیں، ایسے میں حالات خراب کرنا چہ معنی دارد؟ پس ماننا پڑے گا کہ عراق کی سرزمین میں ہونے والے مظاہروں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہاتھ ہے، جنہوں نے ایک سازش کے تحت اربعین حسینی کے قریب کچھ عراقی سادہ لوح جوانوں سے مظاہرے کروائے، جس کا ایک ہدف حالات خراب کرکے روز اربعین کربلا میں جمع ہونے والے کروڑوں زائرین کی تعداد کو کم کروانا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی جن چیزوں کو اپنے لئے موت تصور کرتے ہیں، ان میں سرفہرست روز اربعین کربلا کی مقدس سرزمیین پر ہونے والا حسینیت کا عظیم اور بے نظیر اجتماع ہے، کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خالص عشق اور محبت حسین دل میں لیکر مراسم اربعین میں شرکت کی غرض سے دنیا کے اطراف و اکناف سے مسلمان و غیر مسلمان کربلا کا رخ کرتے ہیں اور شاعر کے اس شعر کی عملی تصویر بن جاتے ہیں کہ "انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین" وہ مطلع ہیں کہ نجف سے کربلا تک ہونے والی پیادہ روی میں اسلام کی ان حقیقی قدروں کو تقویت ملتی ہے، جو کفر و الحاد اور منافقین کی موت کا سامان فراہم کرتی ہیں، جیسے حریت و آزادی، صبر، شجاعت، شہادت، ایثار و فداکاری، مقاومت، مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت وغیرہ۔
 
عراق کے حالات خراب ہونے کے باوجود ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ اس سال بھی ہر سال کی طرح پوری دنیا سے لاتعداد عاشق حسین کربلا و نجف پہنچے، اس سال جمعیت اس قدر زیادہ تھی کہ نجف سے کربلا کو جانے والی مشی میں ہم نہ چاہتے ہوئے بھی چندین بار اپنے احباب سے جدا ہوئے، ہماری خواہش تو یہ تھی کہ اس معنوی واک میں ساتھ چلیں، ساتھ استراحت کریں، مگر پوری کوشش کے باوجود کثرت جمعیت نے ہمیں منتشر کرکے چھوڑا۔ نجف سے کربلا کم و بیش 80 کلو میٹر کا سفر ہے، جسے تین چار دن عشاق حسین پیدل چل کر طے کرتے ہیں، ہم نے ہر موکب میں حسین اور آل حسین کی مظلومیت پر آہ و فغاں کی صدا سنی، جگہ جگہ یزید اور اولاد یزید سے عملی نفرت کا مظاہرہ دیکھا۔ اس معنوی سفر میں عراقی عوام کی مالی فداکاری اور جذبہ انفاق فی سبیل اللہ کا حسین منظر دیکھا۔ یہ وہ چیزیں ہیں، جو صفات انسانی کی معراج کہلاتی ہیں، ایسے اوصاف کے حامل افراد سے ہی دشمن ہمیشہ خائف رہتے ہیں، چنانچہ انہیں کم رنگ کرنے کے لئے انسانیت اور امن کے دشمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اربعین کے نزدیک عراق میں حالات خراب کروانے کی سعی لاحاصل کی۔
 
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اگر مظاہروں کا اصلی محرک مہنگائی ہی تھا تو مظاہروں کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کے مطالبے کو عراقی ذمہ دار افراد نے پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا، خاص طور پر مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے کھلے الفاظ میں کرپشن اور مہنگائی کے حوالے سے مظاہرین کے مطالبے کو پورا کرنے کا حکم جاری کیا تھا، اس کے باوجود اربعین کے بعد دوبارہ مظاہروں کے لئے عراقی عوام کی قابل توجہ تعداد میدان میں کیوں نکلی۔؟ اس کے علاوہ لمحہ فکریہ ہے کہ عراق کی حالیہ اقتصادی مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کوئی اتفاقی نہیں بلکہ عرصہ دراز سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کی معیشت کو تباہ و برباد کیا ہے، عراق کی معیشت بین الاقوامی لوٹ کھسوٹ کی ایک اعلیٰ داستان ہے۔ عراقی معیشت کا اہم ذریعہ تیل ہے، جسے پہلے تو برطانوی کمپنیوں نے خوب لوٹا۔

بعث پارٹی کی ابتدائی حکومت میں عراق برطانوی کمپنیوں سے جان چھڑا کر فرانسیسی چنگل میں پھنس گیا، مگر بعد میں بعث پارٹی کی دوسری حکومت نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور عراق نے کچھ عرصہ ترقی کی۔ عالمی طاقتوں نے عراق کو ایران سے ایک لمبی جنگ میں پھنسا کر خوب برباد کیا۔ اس کی ساری دولت اس جنگ کی نذر ہوگئی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے عراق کو بے تحاشا اسلحہ بیچا۔ ایران سے جنگ بندی کے بعد تیل کی صنعت میں کچھ بہتری آئی، مگر زیادہ وسائل تیل کی صنعت کی بحالی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتے رہے، جس کی وجہ سے عراق خاطر خواہ ترقی نہ کرسکا۔ اس موقع پر عراق نے عالمی طاقتوں کے جال میں آکر کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ اسے ایک اور جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا، جس سے عراق کی معیشت تباہ ہوگئی۔ بنابرایں عراق میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کا اصلی محرک امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 824809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب