11
Thursday 31 Oct 2019 18:34

لبنان و عراق کے مسائل کا حل

لبنان و عراق کے مسائل کا حل
تحریر:  محمد سلمان مہدی
 
لبنان اور عراق میں عوامی احتجاج پر گرماگرم بحث و مباحثوں کے بعد معاملہ کہاں پہنچا ہے؟ کیا آپ نے بیروت سے موصولہ خبریں پڑھ لیں۔ سعد حریری وزیراعظم لبنان کے عہدے سے مستعفی ہوگئے!۔ اب کیا ہونا ہے؟ ایک غیر سیاسی حکومت قائم کی جائے اور اس غیر سیاسی حکومت کا سربراہ کون ہوگا؟ وہی سعد حریری! ماضی میں اسرائیل کی نیابتی جنگ لڑنے والے سمیر جعجع، القوات اللبنانیہ جماعت کے سربراہ ہیں۔ یہ خود بھی مارونی مسیحی ہیں اور صدر میشال عون بھی مارونی مسیحی ہیں۔ سمیر جعجع میشال عون کی صدارت کے اب مخالف ہیں اور آن ریکارڈ کہتے ہیں کہ مجوزہ غیر سیاسی حکومت کی سربراہی کے لئے ان کی جماعت کی جانب سے پہلی چوائس سعد حریری ہیں۔ اگر یہی ہونا ہے تو پھر مستعفی ہونے کی کیا ضرورت تھی!؟
 
لبنان ہو یا کہ عراق، وہاں حکومتوں کی تبدیلی سے کچھ تبدیل ہونے والا نہیں۔ اگر لبنان میں ایک اور مرتبہ الیکشن کی نوبت آجائے، تب بھی وہاں کنفیشنل سیاسی نظام کی وجہ سے کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلنے والا کہ جسے جوہری تبدیلی کہا جاسکے۔ لبنان کے کسی ایک مارونی مسیحی نے صدر بننا ہے، ایک سنی عرب نے وزیراعظم اور ایک شیعہ عرب نے اسپیکر قومی اسمبلی۔ اور وزراء کی تقسیم کا بھی ایک مخصوص فارمولا طے ہے۔ عراق میں بھی اگر بات نئے الیکشن تک جائے گی، تب بھی صدر کسی عراقی کرد نے بننا ہے اور نائب صدور سنی و شیعہ عرب نے۔ وزیراعظم شیعہ عرب نے بننا ہے اور نائب وزرائے اعظم کرد اور سنی عرب نے۔ قومی اسمبلی کا اسپیکر سنی عرب ہی ہوگا اور اسی طرح کابینہ کے وزراء کو بھی موجودہ تناسب سے ہی چنا جائے گا۔ ابراہیم جعفری سے عادل عبدالمہدی تک کونسا عراقی وزیراعظم ایسا ہے کہ جس سے امریکی بلاک مطمئن ہوا ہو!؟ تو، عراق اور لبنان دونوں ممالک کے مسائل کا خارجی عامل امریکی بلاک ہے اور جب تک امریکی بلاک ان دونوں ممالک کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیتا، تب تک یہاں مسائل نے حل نہیں ہونا۔
 
امریکی بلاک کی فرمائشات پر غور فرمائیں۔ امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کا ہدف اسرائیل کا تحفظ ہے۔ اسی پالیسی کے تحت لبنان سے امریکی بلاک کی فرمائش صرف ایک ہے کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھے۔ درپردہ مطالبہ یہ کہ لبنان اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ اسی ذیل میں یہ فرمائش بھی کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر قبضے، لبنانی خود مختاری اور جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی پر لبنان خاموش رہے۔ اسی ذیل میں امریکی بلاک کی خواہش یہ بھی (چونکہ حزب اللہ اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیتی رہتی ہے اس لئے) حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ اسی ذیل میں امریکی بلاک چاہتا ہے کہ حزب اللہ کو لبنان کی ریاست اور سیاست میں بھی کوئی نمائندگی نہ ہو۔ لبنان کے مسائل کی ایک جڑ اس کا تاریخی پس منظر ہے۔ مگر موجودہ مسائل پیدا کرنے والوں کے قدموں کے نشانات امریکی بلاک تک جا پہنچتے ہیں۔
 
اسی طرح اگر عراق کے مسائل کا جائزہ لیں تو یہاں بھی امریکی فرمائشات ملتی جلتی ہیں۔ لبنان میں بھی اور عراق میں بھی ریاستی حکام پر امریکی بلاک کا دباؤ ہے کہ یہ دونوں ملک کسی صورت ایران کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں۔ یعنی ان دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کے تابع رہے۔ یہ ہے امریکی بلاک کی خواہش، حکم، درخواست، فرمائش یا جو بھی مناسب متبادل لفظ اس صورتحال کی تشریح کر دے، وہ استعمال کرلیں۔ اب یہاں فرض کر لیں کہ امریکی بلاک کا حامی طبقہ کہے کہ بھیا ایسا کرنے میں ہی فائدہ ہے، ایسا کرلو۔ تو پھر امریکی بلاک اور اس کے حامی طبقے سے ایک سوال ہمارا بھی ہے۔

حضور، مصر اور اردن نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ ترکی پہلے ہی تسلیم کرتا تھا۔ پاکستان سات عشروں سے امریکی بلاک کا جزو لاینفک ہے۔ صرف ان چار ممالک کو حاصل ہونے والے فائدے ہی گنوا دو۔ چلیں صرف پاکستان ہی کی مثال لے لیتے ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف بڈابیر اڈہ امریکی مفاد کے لئے دے دینا، افغانستان کی پراکسی جنگ میں بھرپور شرکت کرنا، نائن الیون کے بعد امریکا کا ایک اور مرتبہ نان نیٹو اتحادی بن جانا۔ یہ سب کچھ کر لینے کے بعد بھی پاکستان کے کون سے مسائل حل ہوگئے۔ مہنگائی اور بیروزگاری، افراط زر، کس اقتصادی اشاریے سے آپ کو یہ خوش فہمی ہوئی کہ پاکستان کی حالت بہتر ہے!؟
 
یہ جو امریکی بلاک اور اسکے ہمنوا ہیں، ان کے دعووں کے کھوکھلے پن اور جھوٹے پن کا مجسم ثبوت پاکستان ہے۔ اردن اور مصر بھی ہیں۔ پاکستان نے بھی ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پاکستان کے اندر تاحال آنے نہیں دیا۔ فائدہ ہوا؟ یا نقصان! مصر کے عوام کو کیا حاصل ہوا؟ اردن کیوں آج تک بھکاری بنا ہوا ہے!؟ یہ محض چند مثالیں بیان کی ہیں۔ ورنہ پوری دنیا ہی عبرت کدہ ہے اور مظاہرے بھی صرف لبنان و عراق میں نہیں ہوئے براعظم امریکا سے لے کر افریقہ تک کئی اور ممالک میں بھی ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ آسٹریلیا میں پولیس نے مظاہرین پر مرچوں کا اسپرے بھی کیا۔ مگر اسرائیلی لابی اور ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر صرف عراق اور لبنان کے احتجاج کی ٹریندنگ کی۔
 
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، مہنگائی اور بے روزگاری اپنی جگہ حل طلب مسائل ہیں، مگر ان مسائل کو حل کرنے کا ایک طریقہ کار بھی ہے۔ پرامن احتجاج کی اہمیت اپنی جگہ مسلم اور محترم ہے۔ مگر کیا بحرین میں عوام کے احتجاج کا احترام کیا گیا؟ بدترین اسلحے سے پرامن احتجاج کو کچلا گیا۔ کیونکہ بحرین امریکی بلاک کا رکن ہے اور وہاں امریکی بحری افواج کا علاقائی مرکز ہے تو وہاں امریکی بلاک سارے جمہوری اصول فراموش کر رہا ہے۔ پرامن بحرینی احتجاج کو کچلنے کے لئے سعودی ٹینکوں میں سوار فوجی دستے پہنچے۔ بحرین کے موروثی آل خلیفہ شیخ کی غیر جمہوری حکومت کو انتہائی مہلک آنسو گیس شیل اسی امریکی بلاک نے بھیجے۔ اسی بحرین میں کشمیریوں کی حمایت میں اور مودی سرکار کی مذمت کرنے والے پاکستانی اور بنگلہ دیشی مظاہرین کو پکڑ لیا گیا۔
 
یہ بھی محض ایک مثال دی ہے، ورنہ امریکی بلاک کے دہرے معیار کو دنیا بھر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالف کے خلاف یوکرین کے صدر سے مدد مانگی۔ اب اس پر ان کے مخالف سیاستدان ان کے مواخذے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی محض باتیں ہی کر رہے ہیں، عملی طور پر وہ بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ امریکا اور برطانیہ میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نکلا، مگر امریکی حکومت نے کونسا احترام کر لیا، دوسرے ملکوں پر جنگیں مسلط کیں۔ یہ تو ہوا خارجہ پالیسی مگر داخلہ پالیسی پر بھی دیکھیں کہ امریکی بلاک کے اپنے ممالک کے عوام عراق و لبنان کے عوام کی طرح ہی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار کے حوالے سے مسائل کا شکار ہیں۔
 
دنیا بھر میں عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کی صرف ایک وجہ نااہل حکام ہوسکتے ہیں۔ فرض کرلیں کہ عوام اور ان کے حکام کرپٹ نہ بھی ہوں، تب بھی امریکی یا اقوام متحدہ کی غیر ضروری اقتصادی پابندیاں، استحصالی عالمی مالیاتی نظام اور اس کے اداروں کے مدد کے نام پر قرضے کیا یہ سب کچھ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے  اور قوت خرید میں کمی کا سبب نہیں بنتے؟! عراق کو تو خود امریکی بلاک نے جنگ کرکے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ان کا لاڈلا صدام ہوا کرتا تھا۔ تو عراق کے مسائل کے حل کے لئے بھی سب سے پہلے امن کا قیام ضروری ہے، جبکہ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے 2016ء کو امریکی عوام کو بتایا تھا کہ اس وقت کے صدر باراک اوبامہ داعش کے بانی اور ہیلری کلنٹن شریک بانی ہیں۔ کیا امریکی جنگ کے بعد سے امریکی حکام کی سربراہی میں عراق میں امن و امان کا قیام ہوگیا تھا؟ کیا امریکا نے افغانستان کو پرامن بنا دیا ہے؟ یہ امریکا خود یا اس امریکی بلاک کے دیگر ممالک ہیں کہ جن کی مداخلت سے پورا خطہ مشکلات سے دوچار ہے۔ لبنان کو اسرائیلی جنگوں نے تباہ کیا۔
 
 عراق اور لبنان دونوں ہی کو تعمیر نو کا مرحلہ در پیش ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگوں نے یہاں انفراسٹرکچر تباہ کیا۔ ان ممالک کی آمدنی کے ذرائع پر بھی نظر کریں تو یہاں بھی امریکی بلاک ہی ذمے دار ہے۔ عراق کا تیل اسمگلنگ کرکے کس نے فروخت کیا اور کروایا؟ بلکہ عراق کے تیل پر کس کا قبضہ رہا؟ لبنانی وسائل کے بعض حصوں پر اسرائیل کا آج بھی قبضہ ہے۔ تو عراق اور لبنان ہی نہیں بلکہ پوری عرب اور اسلامی دنیا میں یہ مسائل حل ہونے والے نہیں، کیونکہ امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کا مرکزی نکتہ اسرائیل کا تحفظ ہے اور ایک مضبوط و مستحکم لبنان اسرائیل کے لئے قابل قبول نہیں۔ ایرانی انقلاب سے بہت پہلے سے لبنان عدم استحکام سے دوچار ہے۔ عراق بھی عرب ملک ہے۔ جغرافیائی محل وقوع، ڈیموگرافی، قدرتی وسائل کی وجہ سے امریکی بلاک کے لئے عراق بھی اہم ہے۔ عراق اور لبنان دونوں ممالک میں قومی مفاہمت اور اتحاد ہی واحد راہ نجات ہے۔ اصل دشمن اور ان کے آلہ کاروں کو ناکام بناتے ہوئے داخلی مسائل کو حل کریں۔ کرپٹ عناصر کا بلا امتیاز احتساب اور ان کے خلاف احتجاج بھی کریں مگر پرامن رہ کر۔
خبر کا کوڈ : 824938
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب