0
Friday 1 Nov 2019 09:47

لبنان کے بعد عراق کے وزیراعظم کا استعفیٰ

لبنان کے بعد عراق کے وزیراعظم کا استعفیٰ
اداریہ
لبنان اور عراق میں معمولی فرق کے ساتھ ایک ساتھ مظاہرے شروع ہوئے۔ دونوں ممالک میں عوامی مظاہروں میں لگائے جانے والے نعرے اور مطالبات بھی ایک جیسے تھے۔ دونوں ممالک میں عوام کے اس احتجاج سے بیرونی عناصر نے خاطر خواہ استفادہ کیا اور عوامی مطالبات کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کے نعرے بھی سادہ لوح عوام کے منہ میں ڈال دیئے۔ آخری خبروں کے مطابق لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے، لیکن لبنانی صدر میشل عون نے استعفیٰ کی قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب تک سعد حریری اپنا کام جاری رکھیں، دوسری طرف عراقی صدر برہم صالح نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا ہے کہ عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی استعفیٰ دینے پر آمادہ ہوں گے، لیکن انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ عراق کا موجودہ حکومتی نظام اگر اسی طرح چلتا رہے اور نئے وزیراعظم کا انتخاب اور ملکی صورتحال آئینی طریقہ کار سے آگے چلتی رہے تو انہیں مستعفی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔

عراقی وزیراعظم کے استعفیٰ کے اس مشروط اعلان پر عراق میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اگر عادل عبدالمہدی وزارت عظمیٰ چھوڑنے پر تیار ہوگئے ہیں تو عراق میں حکومتی اور انتخابی نظام میں کئی نئی اصلاحات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عراق اور لبنان میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ لبنان میں صدر کے لئے عیسائی، وزیراعظم کے لئے سنی اور اسپیکر کے لئے شیعہ مسلمان ہونا ضروری ہے۔ عراق میں بھی اسی تجربے کو دہرایا گیا ہے، البتہ عراق میں تقسیم صرف مسالک کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ عراقی صدر کو کرد، وزیراعظم کو شیعہ اور اسپیکر کو اہل سنت سے ہونا چاہیئے۔ لبنان کی طرح عراق میں بھی اس نظام کی بہت سی خوبیاں اور خامیاں زیر بحث رہی ہیں، لیکن ان دونوں ملکوں کے حالیہ بحران نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ بیرونی عناصر اپنے مزموم اہداف کے لئے جمہوری نظام کو اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں۔ تاکہ جب چاہیں، اس میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں لے آئیں۔

جمہوری نعروں اور عوامی احتجاجات سے حکومتیں تبدیل کرنے کا تجربہ نیا ہرگز نہیں، لیکن ان مسلمان ممالک میں جہاں جمہوری اقدار ابھی پختہ نہیں ہیں اور جمہوری نظام میں کئی جگہوں پر جان بوجھ کر خلا چھوڑا گیا ہے، اس سے سامراجی طاقتیں اپنے مزموم اہداف حاصل کرسکتی ہیں۔ عوام کو طاقت کا سرچشمہ ہونا چاہیئے، لیکن عوام کو پہلے قوم بنانا چاہیئے، تاکہ قوم مشترکہ اور متفقہ طریقے سے اقتدار یا نظام میں تبدیلی لائے۔ عالمی سامراجی طاقتوں نے اکثر اسلامی ممالک کو جمہوریت کا لولی پاپ دے رکھا ہے اور وہ جب چاہتے ہیں، جمہوریت کی موم کی گڑیا کا ناک مروڑ دیتے ہیں۔ کاش عراق اور لبنان میں بھی ایران کی طرح مضبوط قیادت ہوتی تو آج یوں اکھاڑ پچھاڑ نہ ہوتی۔
خبر کا کوڈ : 825031
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے