0
Monday 4 Nov 2019 10:15

4 نومبر, امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور دوسرا انقلاب

4 نومبر, امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور دوسرا انقلاب
اداریہ
امریکہ کی سامراجی ماہیت سے کون آشنا نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ سامراجی نظام اور سامراجیت کسی دوسرے کو اپنا مساوی اور برابر نہیں سمجھتا اور دوسروں کے حقوق کو بالواسطہ یا بلاواسطہ غصب کرنے کے لیے آمادہ و تیار ہوتا ہے۔ سامراجی خو سے مراد ہے اپنے مذموم اور ناجائز مفادات کے لیے دوسرے کے جائز اور حقیقی حقوق کی پامالی۔ دنیا میں سامراجی نظاموں اور سامراجی طاقتوں کی ایک مستند تاریخ ہے۔ اس میں فرانس، برطانیہ، چین اور روس کا نام بھی آتا ہے، لیکن امریکہ اپنی سامراجی ماہیت میں سب سے آگے اور نمایاں ہے۔ کسی زمانے میں امریکہ اور برطانیہ نے اپنے سامراجی اھداف کے لیے خطے کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ برطانیہ برصغیر پاک و ہند اور بعض عرب اور افریقی ریاستوں پر مسلط تھا تو امریکہ نے تیل کی دریافت کے امکان کے فوری بعد سعودی عرب اور اس کے گردونواح پر سامراجی پنجا گاڑھ دیا تھا۔ ایران برطانوی سامراج کے چنگل میں تھا، لیکن بعد میں امریکہ نے برطانیہ کی جگہ سنبھال لی۔ تیل کی دریافت اور تیل کی خرید و فروخت نے ایران کو مغرب کے لیے ایک سونے کی چڑیا میں تبدیل کر دیا۔

لہذا امریکہ نے ایران پر اپنا تسلط مزید سخت کر دیا اور ایرانی قوم و وسائل کا استحصال شروع ہو گیا۔ جب ایران میں پہلی بار مصدق حکومت کے ذریعے تیل کو قومیانے کا موضوع سامنے آیا تو امریکہ کا حقیقی سامراجی چہرہ کھل کر سامنے آگیا اور امریکہ نے ایران اور ایرانی عوام کیخلاف عملی اقدام اٹھاتے ہوئے مصدق کی عوامی حکومت کو سرنگوں کرنے میں اپنا سامراجی کردار ادا کیا۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای کے بقول وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ایران کیخلاف امریکی دشمنی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد شروع ہوئی، وہ تاریخ میں تحریف کرتے ہیں، درحقیقت 1953ء میں امریکہ نے مصدق حکومت کا خاتمہ کر کے ایران اور ایرانی قوم کیخلاف اپنی دشمنی کا عملی اظہار کر دیا تھا، البتہ فروری 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے اس نفرت اور دشمنی پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ فروری 1979ء کے انقلاب کے بعد امریکہ کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ 1953ء کیطرح انقلاب کے بعد تشکیل پانے والی حکومت کو جب چاہے گا ختم کر دیگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے تہران میں موجود اپنے سفارت خانے میں انقلابی حکومت کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔

امریکہ کے یہ مذموم اقدامات امام خمینی کے نوجوان شاگردوں اور پیروکاروں کے لیے قابل تحمل نہ تھے، لہٰذا انہوں نے امریکی سفارت خانے پر 4 نومبر 1979ء کے دن ہلہ بول دیا اور اس سفارت خانے سے جاسوسی کے ان گنت ثبوت دریافت کر کے اس کو "جاسوسی کے اڈے" کا نام دیدیا۔ امام خمینی کو جب اس اقدام کی اطلاع دی گئی تو امام خمینی نے نوجوانوں کے اس انقلابی اقدام کو دوسرا اور اس سے اہم انقلاب قرار دیا۔ امام خمینی کی طرف سے امریکی سفارت خانے پر قبضے کو دوسرا انقلاب اور پہلے انقلاب سے اہم انقلاب قرار دینے پر کسی نے کیا خوبصورت تشریح کی ہے، پہلا انقلاب شاہ ایران کے خلاف تھا جو امریکہ کا آلہ کار تھا، جب کہ دوسرا انقلاب خود امریکہ کیخلاف تھا، لہٰذا پہلے سے زیادہ اہم تھا۔ دنیا کے جن ممالک میں امریکہ کے آلہ کاروں کے خلاف انقلاب کامیاب ہوئے ہیں، انہیں اپنے انقلاب کو محفوظ رکھنے اور اس میں پیشرفت و ترقی کے لیے دوسرا انقلاب لانا ہوگا، آج اگر عراق میں یہ کام ہو چکا ہوتا تو اہل عراق کو موجودہ بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
 
خبر کا کوڈ : 825485
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب