0
Monday 4 Nov 2019 15:09

سندھ حکومت اور شہری حکومت کے درمیان خلیج، ترقیاتی کاموں کا اختیار کمشنر کو دیدیا

سندھ حکومت اور شہری حکومت کے درمیان خلیج، ترقیاتی کاموں کا اختیار کمشنر کو دیدیا
رپورٹ: ایس ایم عابدی

سندھ حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی سے ترقیاتی کاموں کے اختیارات واپس لے کر شہری انتظامیہ کے سپرد کرنے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح ڈسٹرکٹ اے ڈی پی میں کراچی کا ساڑھے 3 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ کے ایم سی کے بجائے کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کیا جائے گا، جس کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے اختیارات مزید محدود ہو جائیں گے، شہر کی جاری اور نئی ترقیاتی اسکیمیں ڈپٹی کمشنرز کو منتقل کی جائیں گی، بلدیہ عظمیٰ کراچی کو گذشتہ مالی سال کی چوتھی اور رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے فنڈز تاحال ریلیز نہیں کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح کراچی کے ترقیاتی کاموں کا اختیار بھی کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کو منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، حکومت سندھ کے محکمہ خزانہ نے اے ڈی پی فنڈز کی ریلیز کمشنر کراچی کو منتقل کرنے کے لئے اپنا تمام کام مکمل کرلیا، بلدیہ کراچی سے نئی اور جاری ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے بجٹ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں، جو کہ تاحال نہیں دی گئیں، فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ترقیاتی کام رک گئے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے فنڈز کا اجرا جو ہر سال 4 سہ ماہی کی قسط کی صورت میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کو کیا جاتا تھا، وہ اب کے ایم سی کے بجائے کمشنر کراچی کو کیا جائے گا، جس کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں میں مسلسل بدعنوانیوں، اقرباء پروری اور غیر متعلقہ محکموں کے ذریعے خفیہ ٹینڈرنگ کرکے ترقیاتی اسکیموں کی مبینہ خرید و فروخت کی ہے، جس کا سندھ حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کا فنڈز کمشنر کراچی کو منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کو ترقیاتی اسکیمیں منتقل کی جائیں گی، جن کی ادائیگیوں کے اختیارات بھی کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہوں گے اور سندھ حکومت ڈسڑکٹ اے ڈی پی کی ریلیز شہری انتظامیہ کو ہی جاری کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بھر کے تمام ڈسڑکٹ میں اے ڈی پی فنڈز کی ریلیز ڈپٹی کمشنرز کو ہی جاری کی جاتی ہے جبکہ کراچی کے 6 اضلاع ہے جس میں ڈپٹی کمشنرز کے بجائے بلدیہ کراچی اے ڈی پی فنڈز کی ریلیز جاری ہوتی ہے اور اس پر عملدر آمد سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی ہدایت اور ان کی کاوشوں سے شروع ہوا تھا۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت محکمہ فنانس نے 20 اگست 2019ء کو بلدیہ عظمیٰ کراچی سے بجٹ کا والیم فائیو طلب کیا تھا اور اس میں شامل تمام جاری اسکیموں اور نئی اسکیموں کی تفصیلات مانگی گئی تھیں، تاہم کے ایم سی کی جانب سے والیم فائیو سندھ حکومت کو نہیں دیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کے ایم سی کو گذشتہ مالی سال کی چوتھی اور آخری سہہ ماہی کی قسط ادا نہیں کی گئی، جو اسی سلسلے کی کڑی بتائی جا رہی ہے اور نئے مالی سال کا پانچواں ماہ شروع ہونے کے باوجود ایک بھی سہہ ماہی کی قسط جاری نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے شہر بھر میں اے ڈی پی فنڈز سے جاری تمام ترقیاتی منصوبے ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث بند پڑے ہیں۔

ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث وہ بھی مقروض ہوچکے ہیں اور روز فنڈز ملنے کی آس لگائے، محکموں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے اس حوالے حکمت عملی مرتب کرلی ہے، جس کیلئے حالیہ دنوں 21 ستمبر سے 21 اکتوبر کی کراچی میں سندھ حکومت کی صفائی مہم کیلئے مختص 30 کروڑ روپے بھی سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کے بجائے شہر کے تمام ڈپٹی کمشنرز میں یکساں 5 کروڑ روپے فی کس جاری کئے تھے۔ اس ساری صورتحال کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام کرپشن کرنے کا پرانا طریقہ ہے، جیسے ہی فنڈز کے اجراء کا وقت آیا، انہوں نے سارا اختیار اپنے ماتحت کمشنرز کے حوالے کر دیا، ورنہ یہ کام بنیادی طور پر شہری حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جنگل کا قانون ہے، جس کی حکومت آتی ہے، وہ نت نئے طریقوں سے کرپشن کرتا ہے اور بعد میں آنے والوں کیلئے مسائل کو انبار لگا کر خود کرپشن کے الزام میں جیل چلا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 825573
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب